آسٹریلیا ماہرین کی نگاہ میں فیوریٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آئی سی سی چیمپین ٹرافی میں ماہرین متفقہ طور پر آسٹریلیا کو ’فیوریٹ ترین‘ ٹیم قرار دے رہے ہیں اور ان کے خیال میں آسٹریلیا یہ ٹرافی جیت جانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ آسٹریلیا کے ٹیسٹ بلے باز جسٹن لینگر کے مطابق’میری رائے یک طرفہ ہو سکتی ہے لیکن میرے خیال میں آسٹریلیا ہی آئی سی سی چیمپین ٹرافی جیتے گا۔‘ جسٹن لینگر نے کہا کہ آسٹریلیا رکی پونٹنگ کی قیادت میں اس قدر بہترین کا کھیل پیش کر رہے ہیں کہ مجھے کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ وہ اس مہینے ہونے والے مقابلوں میں ہار جائیں۔ انگلینڈ کے سابق کھلاڑی کریگ وائٹ نے کہا کہ بے شک آسٹریلیا ’فیوریٹ‘ ترین ٹیم ہے لیکن مجھے لگ رہا ہے کہ انگلینڈ کی ٹیم بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر ئے گا۔ اینڈریو فلنٹاف دنیا کا بہترین کرکٹر ہے اور اگر اس کے ساتھ سٹیو ہارمیسن بھی چل پڑا تو وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس میں ٹرافی کے دوران اچھے میچیز دیکھنے میں آئیں گے ۔ نیوزی لینڈ کے ٹیسٹ اوپنر مارک رچرڈسن نے کہا کہ اس طرح کے مقابلوں میں جتنے والی ٹیم کے بارے میں پیشن گوئی کرنا ہمیشہ مشکل رہا ہے۔ ایک روزہ میچوں میں کچھ بھی ہو سکتا ہے اور اس طرح کے ’ناک آوٹ‘ ٹورنامنٹس میں ایک کھلاڑی کی بہترین کارکردگی بھی کبھی کبھار ناقابل توقع نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے راونڈ میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے درمیان میچ جیتے والی ٹیم ہیں فائنل میں پہنچے گی۔ اور فائنل میں دوسری ٹیم برصغیر سے آئے گی۔ زمبابوے کے سابق کپتان ڈیوڈ ہاوّٹن نے کہا کہ اس بارے میں کوئی دو رائے نہیں کہ آسٹریلیا اس ٹورنامنٹ کی فیوریٹ ترین ٹیم ہے۔ وہ دونوں طرز کی کرکٹ میں بہترین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی دوسری فیوریٹ انگلینڈ ہے۔ انگلینڈ اچھا کھیل پیش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں پاکستان بھی ایک اچھی ٹیم ہے لیکن بھارت ٹنڈولکر کے بغیر وہ ٹیم نظر نہیں آ رہی جو وہ ہوا کرتی تھی۔ بھارت کے سابق کپتان فاروق انجینئر نے کہا کہ بہت سی ٹیمیں آسٹریلیا کے مقابلے میں آ رہی ہیں۔ انہوں نے کہاسری لنکا ان مقابلوں میں ’ چھپا رستم‘ ثابت ہو سکتی ہے تاہم انگلینڈ بھی ایک مضبوط ٹیم کے طور پر سامنے آئی ہے۔ پاکستان کے سابق کپتان آصف اقبال نے کہا ان مقابلوں میں کسی کو فیوریٹ نہیں کہا جا سکتا کیوں کہ ایک ہار سے کوئی بھی ٹیم باہر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جو بھی میچ جیتے گا وہی فائنل میں اس کا مقابلہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے درمیان ہونے والے میچ کے فاتح سے ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||