 |  سوال آپ کے، جواب وسیم کا |
برطانیہ میں آئی سی سی چیمپین ٹرافی کے میچز شروع ہو گئے ہیں۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام نے ان میچز کے دوران خصوصی طور پر پاکستان کے مایہ ناز سابق کھلاڑی وسیم اکرم کو مختلف میچز پر ماہرانہ تبصرے کے لیے مدعو کیا ہے۔ اس دوران وہ ہمارے قارئین کے سوالوں کا جواب بھی دے گے۔ آپ ہمیں اپنے سوالات اس صفحے پر موجود ای میل فارم کے ذریعے بھیجئے۔ آپ یہ سوالات اردو، رومن اردو یا انگریزی میں بھی بھیج سکتے ہیں۔
چودھری شکیل ممتاز،لاہور کیا آپ کو لگتا ہےکہ پاکستانی آئی سی سی چیمپین شِپ جیت سکتا ہے؟ وسیم اکرم: جی بالکل، پاکستانی ٹیم اس وقت بہت اچھی جا رہی ہے اور انہوں نے آسٹریلیا کے خلاف ایک دو ایسے میچ کھیلے ہیں جن میں جیت کے قریب ترین رہی ہے۔ اس سے بھی خاصا اعتماد آیا ہوگا۔ مجھے تو لگتا ہے کہ پاکستان کا چانس ہے۔ محمد رؤف نواز، پاکستان آپ کے خیال پاکستانی بولر بہتر ہیں یا انڈین بولر؟
 | وکٹیں لینی ہوں گی  پاکستان کی بولنگ میں تیزی زیادہ ہے، تجربہ زیادہ ہے لیکن پاکستانی بولرز کو وکٹیں لینی پڑیں گی۔  وسیم اکرم |
وسیم اکرم: یقیناً پاکستان کی بولنگ میں تیزی زیادہ ہے، تجربہ زیادہ ہے لیکن پاکستانی بولرز کو وکٹیں لینی پڑیں گی۔ اچھی کارکردگی دکھانی ہوگی اور یہی صورتِ حال انڈین بولرز کو درپیش ہوگی۔ ان میں صرف عرفان پٹھان اور اسیش نہرا مستقل مزاجی سے کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ باقی انڈین بولنگ پاکستان کے مقابلے میں اتنی خاص نہیں ہے۔ محمد صدیق، ہنگو اس وقت پاکستان کو ایک اچھے فاسٹ باولر کی ضرورت ہے یا اسپنر کی؟ وسیم اکرم: یہاں کے لحاظ سے دیکھا جائے تو ہمیں ایک ایکسٹرا فاسٹ بولر کی ضرورت ہے۔ شبیر پاکستان کے لیے ایک اچھی دریافت ہیں جو پچھلی بار فائنل میں بدقسمتی سے ان فٹ ہوگئے تھے یا پھر اظہر محمود کو لایا جا سکتا ہے۔ لیکن اب تک ٹیم کا توازن ٹھیک ہی ہے۔ سپنر اس وقت شعیب ملک ہیں جنہوں نے ٹیم میں اپنی جگہ بنا لی ہے۔ وہ بہت زبردست کھلاڑی ہیں۔ عمران عزیز، سویڈین چند دنوں پہلے آئی سی سی ایوارڈز دیے گئے ہیں لیکن کوئی پاکستانی کھلاڑی انعام کے لئے نامزد نہیں کیا گیا۔آپ کی نظر میں پاکستانی کرکٹ کس سمت جارہی ہے؟ وسیم اکرم: جب سے پاکستانی ٹیم کے سینئر کھلاڑی ریٹائر ہوئے ہیں، اسے تھوڑا فرق پڑا ہے جو ہر ٹیم کو پڑتا ہی ہے۔ لیکن تھوڑے اور تجربے کے بعد پاکستانی ٹیم یقیناً اپنی مکمل تیاری اور صلاحیتوں کے ساتھ کھیلے گی۔ اس کے لیے تھوڑا وقت چاہیے۔ اظہر خان، دہران، سعودی عرب آپ پاکستان کرکٹ اکیڈمی کیوں نہیں کھول لیتے تاکہ پاکستانی ٹیم کو بہت سے وسیم اکرم مل جائیں؟ وسیم اکرم: بالکل جی، میری تو خواہش ہے کہ میں پاکستان کے لیے کچھ نہ کچھ کر سکوں۔ کرکٹ اکیڈمی کے لیے فی الحال میرے پاس وقت نہیں ہے کیونکہ میں ان دنوں کمنٹری کر رہا ہوں لیکن کبھی بھی پاکستان میں بورڈ کو میری ضرورت پڑے گی تو میں ہر طرح کی مدد کے لیے موجود ہوں، کبھی بھی۔ میرے خیال میں یہ میرا فرض ہے کہ میں پاکستان کی کسی نہ کسی طرح خدمت کروں۔ عدنان یونس، ملیشیا آپ پاکستانی ٹیم کی کوچنگ کیوں نہیں کرتے؟
 | مجھے کوئی کہے تو  کسی بھی حیثیت میں مدد کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن مجھے کوئی کہے تو کروں ناں۔ اب میں بی سی بی کے دروازے کے باہر تو کھڑا ہو نہیں سکتا کہ مجھے رکھ لیں۔  وسیم اکرم |
وسیم اکرم: پاکستان ٹیم کی کوچنگ تو میں ضرور کروں جی، کسی بھی حیثیت میں مدد کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن مجھے کوئی کہے تو کروں ناں۔ اب میں بی سی بی کے دروازے کے باہر تو کھڑا ہو نہیں سکتا کہ مجھے رکھ لیں۔ ساجد عامر، چکوال، پاکستان: کیا عمران نذیر اور عاصم کمال کو یونس خان اور شاہد آفریدی کی جگہ کھلانا بہتر نہ ہوگا؟ وسیم اکرم: ہاں بالکل، چانس دینا چاہیے لیکن یہ تو کپتان پر منحصر ہے کہ اسے کس پر اعتماد ہے۔ اندر ٹھنڈانی، حیدرآباد، پاکستان: آئی سی سی نے جو تازہ ترین ایوارڈز کا اعلان کیا ہے، آپ کی اس کے بارے میں کیا رائے ہے؟ وسیم اکرم: جی آئی سی سی میں جو لوگ کام کر رہے ہیں انہیں تھوڑی سے کھلاڑیوں کو اہمیت دینی آگئی ہے۔ جس طرح کرکٹ کو ہونا چاہیے، اب ویسے ہو رہی ہے۔ بابر شبیر، ربوہ، پاکستان: آسٹریلیا کے زیادہ تر کھلاڑیوں کی عمر بیس سے زیادہ ہے جبکہ ساؤتھ ایشیاء کے زیادہ تر کھلاڑی کم عمر ہوتے ہیں۔ کیا آسٹریلیا کے ذہنی طور پر ٹف ہونے کا راز یہی ہے؟ وسیم اکرم: بالکل، یہ بھی ہے۔ یہ یقینی طور پر ایک وجہ ہوسکتی ہے۔ پھر ان کے پاس بیک اپ پلان بھی ہوتا ہے جس کی وجہ سے آسٹریلیا کی ٹیم نمبر ون ہے۔ اگر ان کا کوئی کھلاڑی زخمی ہوجاتا ہے تو ان کے پاس پیچھے ایک بولر یا بیٹس مین موجود ہوتا ہے۔ سیف اللہ قریشی، سیالکوٹ، پاکستان: ابھی تک پاکستان کا اوپننگ پیئر کیوں نہیں بن سکا، ہمیں اس سلسلے میں کیا کرنا چاہیے۔  | اوپننگ پیئر کا مسئلہ  اوپننگ پیئر ایک ہی ہونا چاہئے اور اسے کم از کم دس میچوں تک ضرور چلانا چاہیے تاکہ وہ اپنے اہم کردار کو سمجھ پائیں۔  وسیم اکرم |
وسیم اکرم: دیکھیں اوپننگ پیئر کپتان پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ کس پر اعتماد کرتا ہے۔ وہ کس سے بیٹنگ کا آغاز کرنا چاہتا ہے۔ بنیادی طور پر یہ بالکل درست سوال ہے کہ اوپننگ پیئر ایک ہی ہونا چاہئے اور اسے کم از کم دس میچوں تک ضرور چلانا چاہیے تاکہ وہ اپنے اہم کردار کو سمجھ پائیں۔ قیصر صغیر، کینیڈا : آپ کن دو ٹیموں کو اس چیمپیئن شپ کا فائنل کھیلتا ہوا دیکھتے ہیں؟ وسیم اکرم: دیکھیں میں امید کرتا ہوں کہ ایک تو ہمارا اپنا ملک ہی کھیلے گا۔ انہیں دیکھ کر لگ رہا ہے کہ وہ اچھے جا رہے ہیں۔ دوسری زیادہ فیورٹ ٹیم آسٹریلیا ہے۔ پھر نیوزی لینڈ کی ٹیم کا بھی مجھے لگتا ہے کہ وہ خاصا قریب پہنچے گی۔ علی فہد، فیصل آباد، پاکستان: کیا آپ شعیب اختر کے چھوٹے رن اپ سے مطمئن ہیں؟ وسیم اکرم: بالکل نہیں جی، کبھی چھوٹے رن سے وہ بولنگ کرتے ہیں، کبھی بڑے سے اور کبھی بالکل چھوٹے سے۔ میرا خیال ہے کہ انہیں فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ کس رن اپ سے بولنگ کریں گے۔ وہ ہمارے اٹیکنگ بولر ہیں اور انہیں تیز ہی بولنگ کرنی ہوگی جو کہ لمبے رن اپ سے ہی ہوگی۔ وقار احمد، نوشہرہ، پاکستان: وسیم صاحب، جس طرح عمران نے پاکستان کرکٹ کو آپ، وقار اور انظمام جیسے کھلاڑی دیئے، آپ نے ٹیم کو اپنا کوئی نعم البدل کیوں نہیں دیا؟  | پوچھیں تو بتائیں  اگر لڑکوں نے کچھ سیکھنا ہے تو وہ ہم سے پوچھیں گے تو ہم کچھ بتائیں گے۔ اب میں ان کے کمروں سے باہر تو جا کر کھڑا نہیں ہوسکتا۔  وسیم اکرم |
وسیم اکرم: عمران بھائی نے کسی کو دیا کچھ نہیں بلکہ ہم نے ان سے سیکھا ہے۔ ہم ان کے ساتھ رہتے تھے، ان کے پاس وقت گزارتے تھے۔ وہ نہیں ہمیں بلاتے تھے۔ اگر لڑکوں نے کچھ سیکھنا ہے تو وہ ہم سے پوچھیں گے تو ہم کچھ بتائیں گے۔ اب میں ان کے کمروں سے باہر تو جا کر کھڑا نہیں ہوسکتا۔ ہمیں جب کچھ جاننا ہوتا تھا تو ہم عمران بھائی کے کمرے سے باہر جا کر کھڑے ہوجاتے تھے۔ اگر کسی بھی سپورٹس مین یا کھلاڑی کو کچھ پوچھنا ہو تو اپنے سینیئر سے جا کر پوچھیں۔ وہ ضرور کچھ بتائیں گے۔ بسمان راہی، پاکستان: آپ انڈین بولرز کو کیوں سکھا رہے ہیں؟ وسیم اکرم: اس سوال کا جواب میں لاکھوں مرتبہ دے چکا ہوں۔ جو بھی یہ سوال پوچھتے ہیں، انہیں کھلے ذہن سے سوچنا چاہیے۔ میں ایک کرکٹر ہوں۔ میرے پاس جب اٹھارہ سال کا کوئی بچہ آئے گا تو میں اسے بتاؤں گا۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس کا تعلق انڈیا سے ہے، کینیا سے ہے یا کہیں اور سے۔ میں صرف ان سے بات چیت کرتا ہوں۔ میں ان کی کوچنگ نہیں کرتا۔ میں صرف انہیں یہ بتا تا ہوں کہ بولنگ کی نفسیات کیا ہوتی ہے؟ اسے کیسے کرتے ہیں۔ عرفان پٹھان بھی صرف دو لیکچرز میں ہی سیکھے ہیں اور یہ ان کا کمال ہے۔ براہِ مہربانی اس طرح کے سوال پوچھنا بند کیجیے۔ ہم اکیسویں صدی میں رہ رہے ہیں۔ سعید بٹ، لاہور، پاکستان: پاکستانی فاسٹ بولنگ کو کیا ہوگیا ہے؟ آخر ہم اتنے مؤثر کیوں نہیں رہے؟ وسیم اکرم: فاسٹ بولرز کو مستقل مزاج ہونا پڑے گا۔ صرف اخبارات میں نام چھپنے سے تو کچھ نہیں ہوگا۔ کارکردگی سے بات بنے گی۔ انہیں وکٹس لینی ہوں گی۔ عمران شہزاد، پبّی، پاکستان: ایمپائرز پاکستان کے معاملے میں جب غلط فیصلے کرتے ہیں تو ہم اس کا کچھ کرتے کیوں نہیں؟ وسیم اکرم: آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ ایمپائر کا فیصلہ آخری ہوتا ہے۔ ایمپائر غیرجانبدار ہوتے ہیں۔ باقی اگر ان سے غلطی ہوجاتی ہے تو انسان سے غلطی ہوسکتی ہے۔ آصف الاکرام، راوالپنڈی، پاکستان: دیکھئے ہمارے کلچر میں ہی مستقل مزاجی نہیں ہے۔ ٹیم بھی تو پاکستان کا ہی حصہ ہے۔ سو پورے ملک کو دیکھیے، پورے کلچر کو دیکھیے اور پھر بتایئے۔ |