BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Friday, 12 March, 2004, 12:11 GMT 17:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوال آپ کے، جواب عمران کے
کرکٹ: سوال آپ کے، جواب عمران خان کے
بارہ مارچ کو بی بی سی اردو سروِس کے پروگرام سیربین میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان سامعین کے سوالوں کا براہ راست جواب دیا۔ وہ کراچی اسٹوڈیو میں موجود تھے اور لندن اسٹوڈیو سے یہ پروگرام شفیع نقی جامعی نے پیش کیا۔ یہ پروگرام آپ حسب ذیل لِنک پر کلک کرکے سن سکتے ہیں:

اعزاز احمد، پیرس: بھارتی ٹیم کے کوچ نے کل ٹیم میں کسی خامی کا ذکر کیا تھا۔ آپ بحیثیت ماہر پاکستانی کرکٹ ٹیم کی تیاری سے کس حد تک مطمئن ہیں اور کیا آپ کے خیال میں مزید بہتری کی گنجائش ہے؟

عمران خان: پاکستان کی ٹیم کس حد تک تیار ہے اس کا تو کل ہی پتہ چلے گا۔ کیونکہ اس کا فیصلہ ٹیم کا پرفورمنس دیکھ کر ہی کیا جاسکے گا۔ لیکن ایک بات بالکل واضح ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جب بھی میچ ہوتا ہے تو کھلاڑیوں پر اس قدر دباؤ ہوتا ہے کہ وہ پوری جان لگادیتے ہیں۔ بعض کھلاڑی اس دباؤ کے باعث بڑی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں جبکہ بعض کا کھیل متاثر ہوجاتا ہے۔۔۔

شیر علی خان، نوشہرہ، پاکستان: پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے لئے ریورس سوئنگ کا استعمال ٹیم کی فتح کیلئے کس حد تک کارآمد ثابت ہوسکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں کہ جب بھارتی بلے باز اچھے فارم میں کھیل رہے ہوں؟

عمران خان: دیکھئے، ریورس سوئنگ تو اب تمام دنیا کے بالر کراتے ہیں، ایسا نہیں ہے کہ صرف پاکستانی بالر ہی ریورس سوئنگ کراسکتے ہیں۔ اس لئے تمام بلے باز اس کے عادی بھی ہوچکے ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ بہت کم بالر ریورس سوئنگ کرانے کی صلاحیت رکھتے تھے جس کے باعث بہت کم بلے باز سمجھتے تھے۔ اسلئے میرے خیال میں یہ کہنا غلط ہوگا کہ پاکستانی ٹیم کو ریورس سوئنگ کا کوئی خاص فائدہ ہوگا۔ بلاشبہ بھارتی بلے باز اس وقت اچھے فارم میں ہیں، حالانکہ بھارتی ٹیم کو پریکٹِس میچ میں شکست ہوئی لیکن اس کے باوجود ان کی بیٹِنگ کا معیار کھیل کے دوران نظر آتا رہا۔ اس لئے اہم بات یہ ہے کہ کیا پاکستان کے بیٹسمین بھارت کی بظاہر کمزور باؤلِنگ کے خلاف بڑا اسکور کرسکیں گے تاکہ پاکستانی باؤلر بھارتی بلے بازوں کو بڑا اسکور کرنے سے روک سکیں گے۔

عبداللہ گل، دوبئی: پاکستان اے ٹیم کے خلاف بھارتی کارکردگی دیکھتے ہوئے کیا آپ اپنی اس رائے پر قائم ہیں جس میں آپ نے کہا تھا کہ ون ڈے سیریز بھارت اور ٹیسٹ سیریز پاکستان جیتے گا؟ کیا آپ پاکستان کی موجودہ ٹیم کے انتخاب سے مطمئن ہیں؟ اگر نہیں تو کن کو ٹیم میں شامل ہونا چاہئے تھا اور کن کو نہیں؟

عمران خان: میں نے یہ کبھی بھی نہیں کہا کہ کون سی ٹیم جیتے گی۔ بلکہ میں نے یہ کہا تھا کہ کس طرح کے کھیل میں یعنی کہ ون ڈے میچ میں ہندوستان کو اڈوانٹج ہے اور ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کو اڈوانٹج ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ ونڈے میچ عموما وہ ٹیم جیتتی ہے جن کی بیٹِنگ مضبوط ہو کیونکہ کوئی بھی اچھا باؤلر زیادہ سے زیادہ دس اوور ہی کرسکتا ہے، لیکن اچھا بیٹسمین پچاس کے پچاس اوور کھیل سکتا ہے۔ اس کے برعکس ٹیسٹ کرکٹ میں مدمقابل ٹیم کو دومرتبہ آؤٹ کرنا ہوتا ہے جس کے لئے میچ وِننگ باؤلروں کی ضرورت ہوتی ہے جو پاکستان کے پاس ہیں۔ لیکن اس سیریز میں اصل میں کیا ہوگا کہ اس کے بارے میں تو میں یہ کہوں گا کہ اگر آپ پاکستان اور بھارت کے درمیان اب تک کھیلی گئی سیریز پر غور کریں تو آپ دیکھیں گے کہ جب میں سن انیس سو اناسی میں پاکستان ٹیم کے ساتھ بھارت گیا تو اس وقت پاکستانی ٹیم بظاہر بھارتی ٹیم کے مقابلے میں زیادہ مضبوط تھی۔ لیکن اس کے باوجود ہم ہار گئے۔ اس کے بعد جب سن ستاسی میں ہم بھارت گئے تو اس وقت ان کی ٹیم بظاہر زیادہ مضبوط تھی، لیکن جیت ہم گئے۔ اس لئے یہ ضروری نہیں ہوتا کہ جس ٹیم کو اڈوانٹج ہو وہی میچ بھی جیتے۔ میں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ پریکٹِس میچ اور اصل میچ میں بہت فرق ہوتا ہے۔ اگر یہ سمجھنے لگیں کہ بھارت پاکستان کی اے ٹیم سے ہار گیا ہے تو ہم باقی میچ بھی جیت جائیں گے، ہمیں اس غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہئے۔

ناظم شیخ، گسین، سعودی عرب: میرا تعلق بھارت کے شہر ممبئی سے ہے۔ کیا موجودہ سیریز درست اقدام ہے کیونکہ پاکستان اور ہندوستان کے عوام ان میچوں کو کھیل کے نقطۂ نظر سے نہیں، بلکہ جنگ کی طرح دیکھتے ہیں۔ کیا ان میچوں سے کشیدگی میں اضافہ نہیں ہوگا؟

عمران خان: ہمیں کبھی نہ کبھی تو یہ بات سمجھنی پڑے گی کہ کرکٹ بہرحال ایک کھیل ہے۔ اگر پاکستانی اور ہندوستانی عوا اتنے ہی کمزور ہیں کہ وہ میچ برداشت نہیں کرسکتے، انہیں ہار یا جیت کا اس قدر خوف ہو، تو اس سے زیادہ شرمناک بات کیا ہوسکتی ہے۔ کھیل دراصل کیریکٹر اور کردار کا امتحان بھی ہوتا ہے۔ جو لوگ ہارنے سے ڈرتے ہیں انہیں دراصل جیتنا ہی نہیں آتا۔ ہمیں یہ بات سمجھنی چاہئے کہ کھیل کے نتیجے میں ایک ٹیم جیتے گی اور ایک ٹیم ہارے گی۔ اور ہم میں یہ حوصلہ ہونا چاہئے کہ اگر پاکستان یا ہندوستان سیریز ہار جاتا ہے تو ہمیں سمجھنا چاہئے کہ یہ سب تو کھیل کا حصہ ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ اگر دونوں ملکوں میں دوستی بڑھ رہی ہو تو پھر کرکٹ سے دشمنی نہیں، دوستی ہی بڑھے گی۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان دشمنی ہو توپھر کرکٹ کا بھی الٹا حساب ہوجاتا ہے اور کرکٹ ایک قسم کا جنگ کا میدان بن جاتا ہے۔

امیراللہ خان، کراچی : سعید انور کی ریٹائرمنٹ کے بعد ہمیں توفیق عمر کی صورت میں ایک اچھا لیفٹ ہینڈ اوپنِنگ بیٹسمین ملا ہے۔ لیکن انہیں ٹیسٹ کرٹ تک ہی محدود کردیا گیا ہے اور ون ڈے میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے پریکٹِس میچ میں بھارت کے خلاف سنچری بھی بنائی ہے، تو کیا آپ کے خیال میں انہیں ٹیم میں مستقل چانس نہیں ملنا چاہئے؟

عمران خان:آپ نے بالکل درست کہا۔ اگر میں کپتان ہوتا تو میں توفیق عمر کی کارکردگی کے بنا پر انہیں فوری طور پر ٹیم میں شامل کرلیتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے عالمی کپ سے پہلی بھی ساؤتھ افریقہ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ مجھے یاد نہیں کہ انہیں چوٹ آئی تھی یا کیا ہوا تھا کہ انہیں عالمی کپ میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔ میں اگر کپتان ہوتا تو انہیں ورلڈ کپ بھی کھیلاتا کیونکہ انہوں نے جو جنوبی افریقہ میں پرفورمنس دی تھی اس سے صاف واضح تھا کہ ان میں ٹیلنٹ بھی ہے اور ٹیمپرامنٹ بھی۔ انہوں نے جو کارکردگی کل دکھائی ہے تو میں اس کی بنا پر بھی انہیں ٹیم میں شام کرلیتا کیونکہ ان کی کارکردگی سے صاف نظر آرہا ہے کہ وہ اچھے فارم میں ہیں۔ جس کھلاڑی نے سو رن بنائے ہوں اور اسے اصل میچ میں بھی اسی باؤلِنگ اٹیک کا سامنا کرنا ہو تو ایسے کھلاڑی کو ٹیم میں ضرور شامل کرنا چاہئے۔ بہرحال یہ ٹیم کی سیلیکٹرز اور کپتان کا معاملہ ہے۔ لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ توفیق عمر کا مستقبل بہت روشن ہے۔

محمد اشفاق، کوہاٹ، پاکستان: کیا آپ اپنے دور کے تماشائیوں اور موجودہ تماشائیوں کے رویے میں کوئی فرق محسوس کرتے ہیں؟

عمران خان: خاصی مدت ہوچکی کہ میں نے گراؤنڈ میں کوئی میچ نہیں دیکھا۔ جب بھی موقع ملتا ہے ٹی وی پر ہی میچ دیکھ لیتا ہوں۔ کرکٹ چھوڑنے کے بعد میں اپنی مصروفیات کے باعث کرکٹ سے خاصا دور ہوگیا۔ اس لئے میں کچھ کہہ نہیں سکتا کہ تماشائیوں کے رویے میں کیا فرق آیا ہے۔ البتہ کل میں گراؤنڈ میں ہونگا تو تماشائیوں کے بارے میں کل ہی پتہ چلے گا۔ لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ اب ٹی وی جس قدر کرکٹ دکھائی جاتی ہے اس سے لوگوں کی کرکٹ سے متعلق سوجھ بوجھ میں خاصا اضافہ ہوگیا ہے۔ پہلے کراچی اور لاہور کے اسٹیڈیم میں آنیوالے تماشائیوں کو ہی کرکٹ کی زیادہ سوجھ بوجھ ہوتی تھی لیکن اب صوبہ سرحد کے دور دراز دیہات میں بھی جہاں کبھی کرکٹ کا نام و نشان نہ تھا، وہا ں بھی بچوں اور نوجوانوں کو کرکٹ کی سمجھ ہے۔

اپنی رائے بھیجیں
پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد