BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 04 March, 2004, 16:40 GMT 21:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عمران خان کی سیریز

سنیل گاوسکر
گاوسکر کی قیادت میں ٹیم کوئی اچھی کارکردگی نہ دکھا سکی
انیس سو بیاسی تراسی کی سیریز کو پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلی جانے والی تمام سیریز میں سب سے زیادہ ہنگامہ خیز سیریز کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

سنیل گاوسکر کی قیادت میں پاکستان آنے والی بھارتی ٹیم کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ وہ عمران خان جو تین سال قبل بھارت کے دورے میں فٹنس کے مسائل سے دوچار دکھائی دیتے تھے، ایک خطرناک بولر کے روپ میں سامنے آئیں گے۔

ان کی تیز رفتار بولنگ اگرچہ بعد میں ان کی پنڈلی کے فریکچر کا سبب بھی بنی لیکن بڑے بڑے ناموں والی بھارتی بیٹنگ لائن کو تنکے کی طرح بکھیر گئی۔

بھارتی کپتان سنیل گاوسکر سے جب یہ پوچھا گیا کہ عمران خان کی طوفانی بولنگ سے بچنے کا سب سے آسان طریقہ کیا ہوسکتا ہے تو گاوسکر نے مذاقاً کہا کہ بیٹسمین اور عمران خان کے درمیان سائڈ اسکرین لگا دی جائے۔

عمران سے بچنے کا طریقہ
 عمران کی خطرناک بولنگ سے بچنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ بیٹسمین اور عمران کے درمیان سائڈ سکرین لگا دی جائے
سنیل گاوسکر

عمران خان نے 6 ٹیسٹ میچوں کی اس سیریز میں 40 وکٹیں حاصل کر کے پاکستان ٹیسٹ کرکٹ کی نئی تاریخ رقم کی۔

لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں ڈرا پر ختم ہونے والے پہلے ٹیسٹ میں پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 485 رنز بنائے۔ ایشین بریڈمین ظہیر عباس بھارتی بولرز کے خلاف ایک بار پھر فارم میں آگئے۔ انہوں نے شاندار ڈبل سنچری بنائی جو فرسٹ کلاس کرکٹ میں ان کی 100 ویں سنچری بھی تھی۔ اوپنر محسن خان صرف 6 رنز کی کمی سے سنچری مکمل نہ کرسکے۔

بھارتی لیفٹ آرم اسپنر دلیپ دوشی نے پانچ کھلاڑی آؤٹ کئے۔ بھارت نے پہلی اننگز میں 379 رنز بنائے۔ گاوسکر کی اننگز 83 پر تمام ہوئی لیکن مہندر امرناتھ ناقابل شکست سنچری بنانے میں کامیاب ہوگئے۔ سندیپ پاٹل اور ارون لعل نے بھی نصف سنچریاں اسکور کیں۔ سرفراز نواز نے چار اور عمران خان نے تین وکٹ لیے۔

سید کرمانی
بھارت کے مایہ ناز وکٹ کیپر سید کرمانی

پاکستان کی دوسری اننگزکی خاص بات محسن خان کی سنچری تھی۔ عمران خان کی تباہ کن بولنگ نے پاکستان کو نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میں ایک اننگز اور 86 رنز کی فتح سے ہمکنار کردیا۔ عمران خان نے ٹیسٹ کرکٹ میں 200 وکٹوں کے سنگ میل پر پہنچنے کے ساتھ ساتھ میچ میں 11 وکٹیں حاصل کیں جن میں دوسری اننگز میں 60 رنز کے عوض 8 وکٹوں کی انتہائی شاندار پرفارمنس بھی شامل تھی۔

بھارتی ٹیم پہلی اننگز میں 169 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔ عبدالقادر نے چار وکٹیں حاصل کیں۔ عمران خان نےتین کھلاڑی آؤٹ کیے۔ کپل دیو اور مدن لعل کی سوسے زائد رنز کے عوض حاصل کردہ پانچ اور تین وکٹوں کے سامنے پاکستان کے 452 رنز دوسری اننگزمیں بھارت کو دباؤ میں رکھنے کے لئے کافی تھے۔

ظہیر عباس کی ایک اور ڈبل سنچری کی طرف پیش قدمی 186 رنز پر آ کر رک گئی۔ مدثرنذر نے بھی تین ہندسوں کی اننگز کھیلی۔ دوسری اننگز میں 102 رنز ایک کھلاڑی آؤٹ کے اسکور سے 197 پر بھارتی ٹیم کے آل آؤٹ ہونے کی ڈرامائی صورتحال کے ذمہ دار عمران خان تھے جن کا طوفانی اسپیل دیکھنے والوں کو آج بھی یاد ہے۔

عمران خان نے اندر آتی ہوئی گیند پر جس خوبصورتی سے وشواناتھ کو بولڈ کیا وہ مقناطیسی کشش کی طرح تھی۔ سنیل گاوسکر، سندیپ پاٹل، کپل دیو اور مہندر امرناتھ بھی عمران خان کے سامنے کھڑے نہ رہ سکے۔ وینگسارکر اور مدن لعل کی نصف سنچری کی مزاحمت رسمی کارروائی ثابت ہوئی اور پاکستان نے چار دن سے بھی کم وقت میں میچ جیت لیا۔

فیصل آباد کے اقبال اسٹیڈیم میں بھی عمران خان کا جادو سرچڑھ کر بولا۔ سیریز کا یہ تیسرا ٹیسٹ پاکستان نے 10 وکٹوں سے جیتا جس میں عمران خان کا حصہ 117 رنز کی شاندار اننگز کے ساتھ ساتھ میچ میں 11 وکٹیں تھا۔

جاوید میانداد
جاوید میانداد اور مدثر نذر نے ایک ریکارڈ پارٹنرشپ بنائی

بھارتی ٹیم پہلی اننگز میں 372 رنز پرآؤٹ ہوگئی۔ سندیپ پاٹل 84 ، سیدکرمانی 66 ، مدن لعل 54 اور وشواناتھ 53 رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔ عمران خان نے 98 رنز کے عوض 6 وکٹیں حاصل کیں۔ عمران خان کے علاوہ جاوید میانداد ، ظہیرعباس اور سلیم ملک کی سنچریوں کی مدد سے پاکستان نے 652 رنز بناڈالے۔

کپل دیو نے 220 رنز دیکر 7 وکٹیں حاصل کیں۔ وکٹ کیپر سید کرمانی نے پانچ کیچز لئے۔ دوسری اننگز میں پاکستانی بولرز نے گاوسکر کے سوا سب بیٹسمینوں کو286 رنز کے مجموعی اسکور پر قابو میں کرلیا۔ بھارتی کپتان نے اوپن جاکر اننگز کے اختتام تک ناٹ آؤٹ رہ کر 127 رنز بنائے۔ مہندرامرناتھ نے 78 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی۔ عمران خان نے 82 رنز دے کر 5 کھلاڑی آؤٹ کئے۔ سرفراز نواز نے چار وکٹوں کے ساتھ ان کا ساتھ خوب نبھایا۔

پاکستان نے حیدر آباد ٹیسٹ میں اننگز اور 119 رنز سے کامیابی اپنے نام کی تو یہ پہلا موقع تھا کہ پاک بھارت کرکٹ میں کسی ٹیم نے لگاتار تین ٹیسٹ میچز جیتے ہوں۔ یہ ٹیسٹ جاوید میانداد کے ناقابل فراموش 280 رنز ناٹ آؤٹ، مدثر نذر کے 231 ، ان دونوں کی عالمی ریکارڈ شراکت اور عمران خان کے ’ متنازعہ‘ ڈیکلیئریشن کی وجہ سے یاد رکھا جاتا ہے۔ پاکستان نے 3 وکٹوں پر 581 رنز کا پہاڑ جیسا اسکور کھڑا کردیا۔ محسن خان اور ہارون رشید کے لگاتار گیندوں پر آؤٹ ہونے کے بعد بھارتی بولرز وکٹ کو ترستے رہے جو انہیں نہ ملی۔

جاوید میانداد اور مدثرنذر نے تیسری وکٹ کی شراکت میں 451 رنزبنا کر سر ڈان بریڈمین اور بل پو نسفورڈ کا دوسری وکٹ کے لئے 451 رنز بنانے کا عالمی ریکارڈ برابر کردیا۔ مدثرنذر 231 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے۔ جاوید میانداد ٹرپل سنچری سے صرف 20 رنز کی دوری پر تھے کہ عمران خان نے جبکہ ابھی کھیل کا دوسرا ہی دن تھا اننگز ڈیکلیئر کرکے سب کو حیران کر دیا۔ یہ بحث آج بھی جاری ہے کہ کیا عمران خان کے اس فیصلے نے میانداد کو ٹرپل سنچری سے محروم کردیا؟ میانداد کا کہنا ہے کہ وقت کا کوئی مسئلہ نہیں تھا جبکہ عمران خان کا کہنا ہے کہ میچ کو فیصلہ کن بنانے کے لئے ڈیکلیریشن ضروری تھا۔

پاکستان نے تیسرے دن بھارت کو پہلی اننگز میں 189 رنز پر آؤٹ کردیا۔ بلوندر ساندھو نے 71 اور مہندر امرناتھ نے 61 رنز بنائے۔ عمران خان نے صرف 35 رنز دے کر 6 وکٹوں کی شاندار کارکردگی سے بھارتی بیٹنگ کو ایک بار پھر بے بسی کی تصویر بنادیا۔ سیریزمیں یہ لگاتار چوتھی اننگز تھی جس میں عمران خان نے پانچ یا اس سے زائد وکٹیں حاصل کیں۔ دوسری اننگز میں بھارتی بیٹسمین 273 رنز سے آگے نہ بڑھ سکے۔ گاوسکر امرناتھ اور وینگسارکر کی نصف سنچریاں خسارہ پورا کرنے میں ناکام رہیں۔ اس مرتبہ سرفراز نواز نے چار وکٹ لیے۔

لاہور میں کھیلے گئے پانچویں ٹیسٹ میں پاکستان ٹیم 323 رنز پر آؤٹ ہوئی۔ سیریزمیں چار سو سے کم پر آؤٹ ہونے کا یہ ٹیم کا پہلا اتفاق تھا۔ مدثرنذر نے پوری اننگز میں بیٹ کیری کیا اور آخر وقت تک ناٹ آؤٹ رہ کر 152 رنز بنائے۔ تیس سال قبل لکھنؤ ٹیسٹ میں ان کے والد نذر محمد نے بھی بیٹ کیری کیا تھا۔ کپل دیو نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے 85 رنز دے کر 8 وکٹیں حاصل کیں۔

بھارت کی پہلی اننگز میں مہندر امرناتھ نے سنچری اسکور کی۔ سیریزکا اختتام کراچی کے ڈرا ٹیسٹ پر ہوا۔ اوپنر کی حیثیت سے آزمائے گئے روی شاستری نے شاندار سنچری بنائی۔ وینگسارکر نے 89 رنز اسکور کئے اور بھارت نے پہلی اننگز 393 رنز 8 وکٹ پر ڈیکلیئر کردی۔ پاکستان نے پہلی اننگز 6 وکٹ پر 420 کے اسکور پر ختم کی جس میں مدثرنذر کے 152 اور محسن خان کے 91 رنز قابل ذکر تھے۔ دوسری اننگز میں بھارت نے 2 وکٹوں پر 224 رنز بنائے۔ مہندر امرناتھ نے سیریز میں اپنی شاندار کارکردگی کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے ایک اور سنچری بناڈالی۔ یوں یہ بھرپور کرکٹ کی حامل سیریز پاکستان کی تین صفر کی جیت پر ختم ہوئی۔

بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد