BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 27 April, 2004, 11:59 GMT 16:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وسیم اکرم: ٹی بی کنٹرول کے لیے سفیر
وسیم
وسیم اکرم ٹی بی سے متعلق ایک اور پروگرام ’سٹاپ ٹی بی پاکستان‘ میں بھی اہم کردار ادا کریں گے
پاکستان کے وزیر صحت محمد ناصر خان نے اعلان کیا ہے کہ سابق قومی کرکٹر وسیم اکرم کو عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے ٹی بی سے نمٹنے کےلیے پاکستان کا پہلا سفیر مقرر کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے قومی کرکٹ ہیرو ٹی بی کے خلاف جنگ میں مرکزی کردار ادا کریں گے۔

پاکستان کے سفیر برائے ٹی بی کی ذمہ داری یہ ہوگی کہ وہ اس مرض کے علاج اور اس بارے میں لوگوں میں شعور بیدار کریں۔

اس بارے میں وسیم نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ پورے خطے کے لیے سفیر مقرر کیے گئے ہیں اور ان کا کام یہ ہوگا کہ وہ مریضوں سے ملیں گے، انہیں بتائیں گے کہ نہ صرف اس مرض کا علاج ممکن ہے بلکہ اس کی ادویات بھی مفت فراہم کی جاتی ہیں۔

وسیم اکرم ٹی بی سے متعلق ایک اور پروگرام ’سٹاپ ٹی بی پاکستان‘ میں بھی اہم کردار ادا کریں گے جو آج یعنی منگل ہی سے شروع کیا جارہا ہے۔ اس پروگرام کے افتتاح کے لیے دنیا کے کم و بیش تمام مملک سے نمائندے پاکستان آئے ہوئے ہیں جہاں اس بات پر غور کررہے کہ دنیا کے مختلف خطوں میں اس مرض سے کس طرح نمٹا جائے۔

اکرم کا کہنا ہے ’پاکستان کے عوام کی نمائندگی کرنا میرے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے اور یہ بھی کہ اس مرض کے خلاف جنگ میں پہلی مرتبہ پاکستان کا کوئی سفیر مقرر ہوا ہے۔ اور پہلا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ میں اس مرض کے علاج کے لیے ایسا بنیادی ڈھانچہ بنا سکتا ہوں اور تحریک شروع کرسکتا ہوں جس سے ہزاروں جانیں بچائی جاسکتی ہیں‘۔

انہوں نے مزید کہا ’ٹی بی کا علاج ممکن ہے اور اس کی ادویات بھی دستیاب ہیں۔ اور یہی پیغام میں اپنے ملکی دورے کے دوران عوام تک پہنچانا چاہوں گا‘۔

اس مرض کا علاج ممکن ہونے کے باوجود اس سے دنیا بھر میں ہر سال دو ملین سے زائد افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں جبکہ پاکستان میں ٹی بی سے ہلاک ہونے والوں کی سالانہ تعداد پچاس ہزار ہے۔

ٹی بی سے سب سی زیادہ متاثر ہونے والے ممالک کی فہرست میں پاکستان کا نمبر چھٹا ہے۔ یہاں اس مرض کے جان لیوا ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ لوگ اس مرض کو بدنامی کا سبب تصور کرتے ہوئے علاج کروانے سے گریز کرتے ہیں۔ لوگوں میں غلط تصور پیدا ہوگیا ہے کہ ٹی بی کے جراثیم چھونے سے ایک شخص سے دوسرے میں منتقل ہوسکتے ہیں۔ وسیم نے کہا ’میں لوگوں میں یہ اعتماد پیدا کرنا چاہتا ہوں کہ یہ مرض چھونے سے نہیں لگتا چنانچہ اسے نہ چھپائیں‘۔

وسیم اکرم نے کہا ’بطور سفیر میری کامیابی کا انحصار اس امر پر ہے کہ مجھے لوگوں کی حمایت کس حد تک حاصل ہوتی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس مرض سے نمٹنے کے لئے سرکاری و غیر سرکاری ادارے مل کر کام کریں‘۔

ٹی بی کے انسداد کے لیے شروع کیا جانے والا پروگرام ’سٹاپ ٹی بی پاکستان‘ بھی ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ اس نوعیت کا پروگرام ایک ترقی پذیر ملک میں شروع کیا جارہا ہے۔ پاکستان کے علاوہ ابھی ایسے پروگرام اٹلی اور کینیڈا میں ہیں۔ تینوں پروگرام عالمی ادارۂ صحت کے انسداد ٹی بی پارٹنرشپ کے تحت کام کررہے ہیں۔

اس پروگرام کی قیادت ڈاکٹر کرم شاہ کررہے ہیں۔

اس پروگرام کا طریقۂ کار امراض سے نمٹنے کے روایتی طریقوں سے مختلف اور مزید وسیع ہوگا۔ اس میں مختلف کاروباری، نجی اور سرکاری اور تعلیمی اداروں کی شراکت حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس کے علاوہ اس کے اراکین میں مریضوں کے نمائندے اور سول سوسائٹی کے ارکان شامل ہوں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد