وسیم اکرم کے خلاف مقدمہ ختم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ ہائی کورٹ نے سابق کپتان اور فاسٹ بالر وسیم اکرم کے خلاف دوست کی جیپ ہتھیانے کا مقدمہ ختم کرنے کا حکم دیاہے۔ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس انور ظہیر جمالی پر مشتمل سنگل بنچ نے وسیم اکرم کے وکیل زاہد فخرالدین کی درخواست پر یہ فیصلہ سنایا۔ درخواست میں یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ وسیم اکرم بے گناہ ہیں اور انہیں بلیک میل کرنے کے لیے یہ مقدمہ درج کرایا گیا ہے جو کہ بدنیتی پر مشتمل ہے۔ قومی ٹیم کے سابق کپتان کے خلاف درخشاں تھانہ کراچی میں سعادت حسین نے مقدمہ درج کرایا تھا کہ وسیم اکرم نےان سے دوست ہونے کے ناطے ایک جیپ لی تھی جو وہ بعد میں بغیراطلاع کے لاہور لےگئے۔ جب انہیں یہ جیپ لوٹانے کے لیے کہا گیا تو انہوں نے کہا کہ انہوں نے جیپ فروخت کردی ہے۔ یہ مقدمہ ایڈیشنل سیشن جج ساؤتھ کراچی کی عدالت میں زیر سماعت تھا۔ وسیم اکرم کے وکیل کی طرف سے یہ ثابت کرنے کے بعد کہ مقدمہ بدنیتی کی بنیاد پر درج کیا گیا ہے، عدالت نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ وہ مقدمہ ختم کر دے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||