’وسیم اکرم قوم سے معافی مانگیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور کے ایک سول جج نے وسیم اکرم کو ایک مقدمے کی عدم پیروی کی بنا پر جرمانے اور قوم سے معافی مانگنے کی سزا سنائی ہے۔ یہ مقدمہ وسیم اکرم پر بھارت کی ایک شراب بنانے والی کمپنی کے اشتہار میں کام کرنے کی وجہ سے دائر کیا گیا تھا۔ وسیم اکرم کے وکیل فواد چودھری نے بی بی سی کو بتایا کہ اس مقدمہ کا کوئی سمن وسیم اکرم کو آج تک نہیں ملا اور دیوانی عدالت میں لاکھوں مقدمات زیرسماعت ہوتے ہیں اس لیے انھیں اس مقدمہ کا پتا نہیں چل سکا کہ وہ کس عدالت میں لگا ہوا ہے۔ وکیل نے کہا کہ وہ کل عدالت میں اس فیصلہ کے خلاف اور مقدمہ کی دوبارہ سماعت کے لیے درخواست دیں گے۔ وکیل کا کہنا تھا کہ وسیم اکرم نے تو ایسے کسی اشتہار میں کام ہی نہیں کیا۔ سول جج مشیر راؤ نے وسیم اکرم کو دیوانی مقدمہ میں سزا سنائی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ وسیم اکرم نے بھارت کی ایک شراب بنانے والی کمپنی میں ماڈل کے طور پر کام کیا جس سے پاکستانی قوم کے مذہبی جذبات مجروح ہوۓ ہیں۔ درخواست گزار لاہور کے ایک شہری فیاض احمد نے عدالت سے کہا تھا کہ وسیم اکرم انھیں پچیس ہزار جرمانہ کے طور پر ادا کریں اور قوم سے معافی مانگیں۔ عدالت نے وسیم اکرم کو طلب کرنے کے لیے اخبارات میں اشتہار دیئے اور ان کے سمن جاری کیے لیکن وہ عدالت میں پیش نہ ہوۓ جس پر گزشتہ روز عدالت نے ان کی عدم موجودگی میں انہیں جرمانے اور قوم سے معافی مانگنے کی سزا سنادی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||