پی سی بی نے رابط نہیں کیا: وسیم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان ٹیم کے سابق کپتان فاسٹ بالر وسیم اکرم کا کہنا ہے پاکستان کرکٹ بورڈ نے بالنگ کوچ بننے کی انہیں کوئی پیشکش نہیں کی۔ تاہم وسیم اکرم نے منگل کو صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یہ بات اخباروں میں ہی پڑھی ہے کہ ان کا اور وقار کا نام بالنگ کوچ کے لیے لیا جا رہا ہے لیکن مجھے پاکستان کرکٹ بورڈ سے ایسی کوئی پیش کش موصول نہیں ہوئی۔ وقار یونس اور وسیم اکرم پاکستان ٹیم کے ایسے دو فاسٹ بالر ہیں کہ جب وہ پاکستان ٹیم میں کھیلتے تھے تو ان کی آپس میں ان بن اور مقابلہ آرائی کی خبریں اکثر اخباروں کی زینت بنتی تھیں یہاں تک کہ پاکستان کی کچھ میچوں میں شکست کی ذمہ داری ان دونوں کی ان بن پر بھی ڈالی جاتی رہی ہے۔ وقار یونس ایک عرصہ تک وسیم اکرم کی کپتانی کے دور میں ٹیم سے باہر رہے تاہم بالنگ کوچ کی تقرری کے اس نئے سلسلے میں وقار یونس کا پلڑا بھاری ہے کیونکہ وہ اسی سلسلے میں بورڈ کے چیئرمین شہر یار خان سے ملاقات کر چکے ہیں۔ وسیم اکرم کے بقول اگر وقار یونس کو بالنگ کوچ مقرر کیا جاتا ہے تو یہ ایک اچھا فیصلہ ہو گا۔ پاک بھارت سیریز کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے سابق کپتان کا کہنا تھا بھارت کی نسبت پاکستان کی بالنگ کم تجربہ کار ہے۔ شعیب اختر کے ٹیم میں نہ ہونے سے فرق پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ اب پاکستان کا سٹرائیک بالر محمد سمیع ہے اور کچھ عرصے سے سمیع اچھی کارکردگی نہیں دکھا رہا اب بھارت کے دورے میں اسے ذمہ داری سے کھیلنا پڑے گا۔ مجمد خلیل اچھا بالر ہے تاہم اسے ان سؤنگ کی تکنیک پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں خلیل کی مدد کریں گے۔ وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ دورہء بھارت میں پاکستان کی ٹیم پر دباؤ ضرور ہو گا لیکن اسے اسی دباؤ میں منصوبہ بندی کے ساتھ کھیلنا ہو گا اور اگر ٹیم منصوبہ بندی سے کھیلی تو جیت بھی ممکن ہے۔ یونس خان کے نائب کپتان بنائے جانے کے فیصلے کی بابت وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ بورڈ نے سوچ کر ہی کیا ہو گا البتہ نائب کپتان کوئی بھی ہو اس سے ٹیم کی کارکردگی پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||