یہ تو اک تماشا ہوا: انضمام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان انضمام الحق نے اوول ٹیسٹ کے نتیجے کی ایک بار پھر تبدیلی کو آئی سی سی کی کمزوری اور ایک تماشے سے تعبیر کیا ہے۔ واضح رہے کہ آئی سی سی نے ہفتے کو پرتھ میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان انگلینڈ اوول ٹیسٹ2006ء کے نتیجے کو تبدیل کرتے ہوئے اسے ایک بار پھر انگلینڈ کے حق میں کردیا ہے۔ یہ وہی ٹیسٹ ہے جس میں آسٹریلوی امپائر ڈیرل ہیئرنے انضمام الحق کی قیادت میں پاکستانی ٹیم پر بال ٹمپرنگ کا الزام عائد کیا تھا۔ پاکستانی ٹیم کے احتجاج کے بعد ڈیرل ہیئر نے میچ ختم کرکے نتیجہ انگلینڈ کے حق میں دے دیا تھا۔ آئی سی سی میچ ریفری رنجن مدوگالے نے پاکستانی ٹیم کو بال ٹمپرنگ کے الزام سے بری کردیا تھا اور ڈیرل ہیئر آئی سی سی ایلٹ پینل سے ہٹادیئے گئے تھے۔ بعدازاں آئی سی سی نے اوول ٹیسٹ میں انگلینڈ کی جیت کے فیصلے کو تبدیل کرتے ہوئے اسے ڈرا میں تبدیل کردیا تھا لیکن کرکٹ کے قوانین بنانے والے ادارے ایم سی سی کی رولنگ کے بعد اب آئی سی سی نے اسے انگلینڈ کی جیت میں دوبارہ تبدیل کردیا ہے۔ انضمام الحق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ یہ آخری فیصلہ ہے۔ آئی سی سی اگر یہ فیصلہ تیسری مرتبہ تبدیل کرسکتی ہے تو اسے وہ چوتھی مرتبہ بھی تبدیل کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک تماشہ معلوم ہوتا ہے اور اس سے آئی سی سی کی کمزوری بھی ظاہر ہوتی ہے۔ انضمام الحق نے کہا کہ عجیب بات یہ ہے کہ آئی سی سی نے ڈیرل ہیئر کو بال ٹمپرنگ کا الزام غلط ثابت ہونے پر قصوروار ٹھہرا کر امپائرز پینل سے الگ کیا تو پھر وہ اسی امپائر کے انگلینڈ کے حق میں نتیجہ دینے کے فیصلے کو کیسے درست قرار دے سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی کے پاس اپنی کوئی سوچ اور وژن نہیں ہے جس کے تحت وہ کام کرسکے۔ انضمام الحق نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پی سی بی کی بھی کمزوری ہے کہ اس نے اس اہم معاملے پر چپ سادھ لی صرف اوول ٹیسٹ ہی نہیں پاکستان سے چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی چھین لی گئی اور پی سی بی نے اس فیصلے پر بھی سر تسلیم خم کرلیا۔ انضمام الحق نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اگر اسی طرح دفاعی انداز اور خاموش تماشائی والا کردار ادا کرتا رہا تو وہ وقت دور نہیں جب وہ بین الاقوامی کرکٹ میں تنہا رہ جائے گا۔ انضمام الحق نے آئی سی ایل کرکٹرز پر پابندی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ نے ان کرکٹرز کو ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت دے کر پاکستان کرکٹ بورڈ کے موقف کو غلط ثابت کردیا ہے اب پاکستان کرکٹ بورڈ کا فرض ہے کہ وہ عدالتی فیصلے کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ وہ شروع ہی سے یہ کہتے آئے تھے کہ ان کرکٹرز پر پابندی ان کے بنیادی حق سے محرومی کے مترادف ہے۔ سابق کپتان نے کہا کہ ان کرکٹرز کے ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے سے پاکستانی کرکٹ کو بھی فائدہ ہوگا۔ انہیں یقین ہے کہ ان کرکٹرز پر انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے بھی جلد کھل جائیں گے۔ |
اسی بارے میں سماعت:تاریخ کا اعلان آج متوقع 25 August, 2006 | کھیل ’نسلی تعصب کا شکار ہوا ہوں‘07 February, 2007 | کھیل نسلی تعصب کا معاملہ نہیں: مانی08 February, 2007 | کھیل ’اوول ٹیسٹ، نتیجہ بدلناچاہیے‘09 January, 2008 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||