BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 09 January, 2008, 14:56 GMT 19:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اوول ٹیسٹ، نتیجہ بدلناچاہیے‘

انضمام الحق کو اس میچ میں ٹیم واپس نہ لانے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان انضمام الحق نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جرات مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آئی سی سی سے متنازعہ اوول ٹیسٹ کے نتیجے کو تبدیل کرائے۔

انضمام الحق کا یہ مطالبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان سڈنی ٹیسٹ میں مبینہ خراب امپائرنگ پر بھارتی طوفان کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوئے آئی سی سی نے امپائر اسٹیو بکنر کو اگلے ٹیسٹ سے ہٹادیا ہے۔

انضمام الحق گزشتہ سال پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان کھیلے گئے اوول ٹیسٹ میں پاکستانی ٹیم کے کپتان تھے جس میں امپائر ڈیرل ہیئر نے پاکستانی ٹیم پر بال ٹیمپرنگ کا الزام عائد کیا تھا۔

پاکستانی ٹیم نے اس پر احتجاج کیا تھا اور امپائر ہیئر نے کھیل جاری نہ رکھتے ہوئے نتیجہ انگلینڈ کے حق میں دے دیا تھا۔

بعدازاں آئی سی سی نے انضمام الحق کو بال ٹیمپرنگ کے الزام سے بری کردیا تھا۔

اوول کا میدان (فائل فوٹو)

انضمام الحق نے بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں آئی سی سی اور پاکستان کرکٹ بورڈ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جس وقت وہ امپائر ہیئر کے فیصلے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئےتھے اس وقت پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان کی حمایت نہیں کی اور ان پر پابندی عائد کردی گئی لیکن مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ بال ٹیمپرنگ کے جس الزام پر ان کےخلاف پابندی کی سزا ہوئی وہی الزام آئی سی سی نے مسترد کرکے انہیں بری کردیا۔اگر ہمارا کرکٹ بورڈ مضبوط ہوتا تو یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی۔

انضمام الحق نے کہا کہ اگر بھارتی کرکٹ بورڈ اپنے کھلاڑی کے حق میں حرکت میں آ کر امپائر تبدیل کراسکتا ہے تو پاکستان کرکٹ بورڈ کو اب تو ایکشن لے لینا چاہئے اور آئی سی سی کو مجبور کرنا چاہئے کہ وہ اوول ٹیسٹ کا نتیجہ جو پاکستان کے حق میں ہونے کے قریب تھا تبدیل کرائے۔

انضمام الحق نے کہا کہ آئی سی سی اس وقت ایسے لوگوں کے نرغے میں ہے جو اہم فیصلے کرکے ان پر قائم رہنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ میلکم اسپیڈ سمیت تمام موجودہ افسران کو اب جانا چاہئے۔ وہ ایک فیصلہ کرکے اسے تبدیل کردیتے ہیں۔

انضمام الحق نے کہا کہ ایشیائی ممالک ہمیشہ سے آئی سی سی کے ہدف پر رہے ہیں لیکن بھارت کے معاملے میں آئی سی سی اس لئے کھل کر سامنے نہیں آتی کیونکہ اس کی تریسٹھ فیصد آمدنی بھارت سے ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئی سی سی کے قوانین ہر ملک کے لئے الگ الگ ہیں ۔ اگر کوئی یہ کہے کہ یہ سب کے لئے یکساں ہیں تو یہ بہت بڑا مذاق ہوگا۔

انضمام الحق نے کہا کہ اوول ٹیسٹ میں بھی میچ ریفری مائیک پراکٹر تھا اور سڈنی میں بھی وہی ہے۔ دراصل میچ ریفریز میں بڑے فیصلے کرنے کی اہلیت ہی نہیں ہے۔ ہربھجن سنگھ کے معاملے میں آئی سی سی کو سوچ بچار کے بعد فیصلہ کرنا چاہئے تھا یہ سست اوور ریٹ پر جرمانے والا عام کیس نہیں تھا بلکہ انتہائی حساس معاملہ تھا۔ ایک فیصلہ کرکے اسے تبدیل کرنا آئی سی سی کی نااہلی ثابت کرتا ہے اور یہ اسی وقت ہوتا ہے جب معاملات شفاف انداز میں نہ چلائے جاتے ہوں۔

دریں اثنا پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے اوول ٹیسٹ کے نتیجے کو تبدیل کرنے کا معاملہ اپنی کرکٹ کمیٹی کے سپرد کردیا ہے جس کی رولنگ کے بعد اس پر ایگزیکٹیو بورڈ کے اجلاس میں بات ہوگی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد