BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 14 December, 2007, 14:08 GMT 19:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہار کی وجہ کمزور انتظامیہ، انضمام

انضمام الحق
’بورڈ نے جب ایک جونیئر کو کپتان بنایا تو اسے اسی وقت یہ طے کرلینا چاہیے تھا کہ شعیب ملک کو مناسب وقت دینا ہوگا‘
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان انضمام الحق نے بھارت کے دورے میں ٹیم کی شکست کا ذمہ دار ٹیم کی انتظامیہ کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کرکٹروں کی سماجی اور ثقافتی سرگرمیوں میں کرکٹ پس منظر میں چلی گئی۔

واضح رہے کہ سابق کوچ جاوید میانداد بھی بھارت کے دورے میں پاکستانی ٹیم کی خراب کارکردگی کی ذمہ داری ’کمزور انتظامیہ‘ پر عائد کرچکے ہیں۔

انڈین کرکٹ لیگ کھیلنے کے بعد وطن واپسی پر انضمام الحق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس دورے میں پاکستانی کرکٹر ضرورت سے زیادہ سماجی اور ثقافتی سرگرمیوں میں مصروف نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ بظاہر اس میں کوئی برائی نہیں لیکن یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ پاکستانی ٹیم کرکٹ کھیلنے بھارت گئی تھی۔ ’آپ جس کام کے لیے گئے ہیں اسے تو پہلے صحیح انداز میں پورا کریں‘۔

کپتان کو حمایت کی ضرورت
 کسی جونیئر کپتان سے یہ توقع وابستہ کرنا درست نہیں کہ وہ ہر قسم کی ہنگامی صورتحال سنبھال سکتا ہے۔ شعیب ملک کو ایک تجربہ کار سپورٹنگ اسٹاف کی ضرورت ہے۔
انضمام
انضمام الحق نے کہا کہ کمزور انتظامیہ کی ایک اور مثال یہ ہے کہ فٹنس پر سمجھوتہ کرلیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیسٹ میچ میں کوئی بھی ٹیم ان فٹ بولر کو کھلانے کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ بولر یقیناً اس خواہش کا اظہار کرتا ہے کہ وہ میچ کھیلے لیکن حتمی فیصلہ ٹیم منیجمنٹ کا ہوتا ہے۔

انضمام الحق نے کپتان کی تبدیلی کے بارے میں خبروں اور تبصروں پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے جب ایک جونیئر کو کپتان بنایا تو اسے اسی وقت یہ طے کرلینا چاہیے تھا کہ اسے شعیب ملک کو مناسب وقت دینا ہوگا، ان سے فوری طور پر اچھے نتائج حاصل کرنا خوش فہمی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی جونیئر کپتان سے یہ توقع وابستہ کرنا درست نہیں کہ وہ ہر قسم کی ہنگامی صورتحال سنبھال سکتا ہے۔ شعیب ملک کو ایک تجربہ کار سپورٹنگ اسٹاف کی ضرورت ہے۔

انضمام الحق نے کہا کہ جیف لاسن کو انٹرنیشنل کرکٹ میں کوچنگ کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔ جس طرح ایک نوجوان کرکٹر ٹیم میں آ کر بین الاقوامی کرکٹ کے رموز سیکھتا ہے اسی طرح لاسن کوچنگ سیکھ رہے ہیں اور آپ نے انہیں اتنی بڑی ذمہ داری کے لیے منتخب کرلیا۔’اگر کپتان نیا ہے تو کوچ اور سپورٹنگ اسٹاف تجربہ کار ہونا چاہیے تھا‘۔

انضمام الحق نے انڈین کرکٹ لیگ کے بارے میں کہا کہ نوجوان کرکٹرز کے لیے ورلڈ کلاس کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنا اچھا تجربہ رہا۔ انہوں نے بھی اس کرکٹ سے بھرپور لطف اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی ایل کے منتظمین کو میدانوں کی دستیابی کا مسئلہ درپیش رہا لیکن وہ اب اپنا گراؤنڈ بنانے کا سوچ رہے ہیں جس سے یہ مسئلہ حل ہونے کی توقع ہے۔

سابق کپتان نے کہا کہ آئی سی ایل نے مارچ اپریل میں ٹوئنٹی ٹوئنٹی کا ایک اور ٹورنامنٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے، اس کے علاوہ پچاس اووروں کا بھی ایک ٹورنامنٹ کرانے کا پروگرام ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد