ستائیس برس بعد انڈیا کی جیت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلور میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سیریز کا آخری ٹیسٹ ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہو گیا ہے اور بھارت نے تین میچوں کی سیریز ایک صفر سے جیت لی ہے۔ بھارت ستائیس برس کے وقفے کے بعد پاکستان کو اپنی سرزمین پر شکست دینے میں کامیاب ہوا ہے۔ میچ کے آخری دن جب بھارت نے اپنی دوسری اننگز چھ وکٹ کے نقصان پر 284 رن بنا کر ڈیکلیئر کی اور پاکستان کو فتح کے لیے 374 رن کا ہدف ملا تو ایسا لگ رہا تھا کہ میچ یقینی طور پر ڈرا ہو جائے گا۔ تاہم انیل کمبلے کی شاندار بالنگ کی وجہ سے میچ میں سنسنی پیدا ہوگئی اور ایک موقع پر پاکستان نے سات کھلاڑی صرف 154 رن پر آؤٹ ہوگئے تھے لیکن میچ خراب روشنی کی وجہ سے روکنا پڑا اور بعد ازاں ایمپائروں نے میچ ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ سورو گنگولی کو میچ میں ڈبل سنچری بنانے پر مین آف دی میچ اور سیریز میں پانچ سو چونتیس رن بنانے اور چار وکٹیں حاصل کرنے پر مین آف دی سیریز قرار دیا گیا۔ آخری ٹیسٹ میں بھارت کی جانب سے کپتان انیل کمبلے نے پانچ جبکہ یوراج سنگھ نے دو وکٹیں حاصل کیں۔ پاکستان کی پہلی دو وکٹیں ان کے ایک ہی اوور میں گریں جب پہلے یاسر حمید اور پھر یونس خان آؤٹ ہوئے۔آؤٹ ہونے والے تیسرے کھلاڑی سلمان بٹ تھے۔ فیصل اقبال اکیاون رن بنا کر کمبلے کا چوتھا شکار بنے جبکہ اگلی ہی گیند پر انیل کمبلے نے کامران اکمل کو بولڈ کر دیا۔ اس سے قبل بھارت نے اپنی دوسری اننگز ختم کرنے کا اعلان کھانے کے وقفے کے بعد دنیش کارتک کے آؤٹ ہونے پر کیا۔ کارتک باون رن بنا کر یاسر عرفات کی گیند پر آؤٹ ہوئے جبکہ عرفان پٹھان ناٹ آؤٹ رہے۔
کھیل کے آخری دن گنگولی اور ڈراوڈ نے کھیل کے آغاز ہی سے رنز بنانے کا سلسلہ اسی رفتار سے شروع کیا جس پر انہوں نے چوتھے دن کھیل ختم ہونے پر چھوڑا تھا اور دوسری اننگز میں بھارت کے سکور کو 178 تک پہنچا دیا۔ اس موقع پر پہلے ڈراوڈ بیالیس رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے اور پھرگنگولی اپنی سنچری سے صرف نو رنز کے فاصلے ایک غلط شاٹ کھیلتے ہوئے اپنی وکٹ کھو بیٹھے۔گنگولی اور ڈراوڈ نے مشترکہ طور پر ڈیڑھ سو رنز بنائے۔ ڈراوڈ کو کنیریا نے ایل بی ڈبلیو کیا جبکہ گنگولی سمیع کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے۔ سمیع نے اس کے تھوڑی ہی دیر بعد یوراج سنگھ کو بھی آؤٹ کر دیا۔ پاکستان کی طرف سے شعیب اور سمیع نے بالنگ کا آغاز کیا لیکن جلد ہی محمد سمیع کی جگہ دانش کنریا کو بالنگ کے لیے بلا لیا گیا۔میچ کے آخری دن گیند نیچے رہ رہی تھی اور بھارتی بلے بازوں کو شعیب کا سامنا کرنے میں دشواری پیش آ رہی تھی لیکن شعیب اختر کو شروع میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ تیسرے اور آخری میچ کے چوتھے دن کے اختتام پر بھارت نے اپنی دوسری اننگز میں دو وکٹ کے نقصان پر ایک سو اکتیس رن بنائے تھے۔ چوتھے دن بھارت کے آؤٹ ہونے والے کھلاڑیوں میں وسیم جعفر کو یاسر عرفات نے ایل بی ڈبلیو کیا جبکہ بھارتی اوپنر گوتم گمبھیر کو تین کے انفرادی سکور پر شعیب اختر نے بولڈ کیا۔ اس سے قبل پاکستانی ٹیم چائے کے وقفے سے پہلے پانچ سو سنتیس رن بنا کر آؤٹ ہوگئی تھی اور یوں بھارت کو پہلی اننگز میں نواسی رن کی برتری حاصل ہوئی تھی۔ پاکستان کی جانب سے مصباح الحق نے کولکتہ ٹیسٹ کے بعد بنگلور ٹیسٹ میں بھی سنچری بنائی۔ وہ ایک سو تینتیس رن بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ مصباح الحق اور کامران اکمل کے درمیان چھٹی وکٹ کی شراکت میں 144 رنز بنے اور اس پارٹنر شپ نے پاکستان کو فالوآن سے بچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ بھارت کی جانب سے اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے ایشانت شرما نے پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ | اسی بارے میں بنگلور ٹیسٹ بے نتیجہ رہنے کا امکان11 December, 2007 | کھیل بنگلور: مصباح اور کامران ڈٹ گئے10 December, 2007 | کھیل پاکستان 540 رنز پیچھے 09 December, 2007 | کھیل یوراج 169 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے08 December, 2007 | کھیل شعیب آخری ٹیسٹ سے بھی باہر06 December, 2007 | کھیل کولکتہ ٹیسٹ بغیر ہار جیت کے ختم04 December, 2007 | کھیل ان فٹ گل کے متبادل یاسرعرفات29 November, 2007 | کھیل بھارت نے پہلا ٹیسٹ جیت لیا26 November, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||