BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 11 December, 2007, 11:31 GMT 16:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مصباح ’حق‘ ادا کر رہے ہیں

مصباح
پاکستان کی جانب سے مصباح نے اب تک سب سے زیادہ رن بنائے ہیں
تینتیس سال کی عمر میں کرکٹر اپنے مستقبل کے بارے میں سوچ وبچار شروع کردیتے ہیں لیکن مصباح الحق کی کرکٹ صحیح معنوں میں اسی عمر میں شروع ہوئی ہے۔

مصباح پاکستانی مڈل آرڈر بیٹنگ کا سب سے بڑا سہارا بن کر سامنے آئے ہیں بلکہ انہیں مستقبل کے کپتان کے طور پر بھی دیکھا جانے لگا ہے۔

بھارت کے خلاف دہلی ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں بالترتیب 82 اور 45 رنز بناکر انہوں نے وہ اعتماد بحال کیا جو ماضی کی ناکامی کے سبب متزلزل ہوچکا تھا اور وہ ایک اچھی کارکردگی کے شدت سے منتظر تھے۔

اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کولکتہ ٹیسٹ میں ان کا اعتماد آسمان سے باتیں کرتا رہا۔ ان کی161 رنز ناٹ آؤٹ کی شاندار اننگز پاکستانی ٹیم کو فالوآن سے بچاگئی۔

بنگلور ٹیسٹ میں بھی صورتحال مصباح الحق کے لیے مختلف نہ تھی۔ بھارت کے626 رنز کے جواب میں پاکستانی ٹیم ایک بار پھر فالوآن کے شکنجے میں پھنستی نظر آئی تو ان کی ناقابل شکست سنچری نے اسے مشکل سے نکالا۔ اس طرح اس سیریز میں وہ پاکستانی ٹیم کے سب سے کامیاب بیٹسمین بن کر سامنے آئے ہیں۔

مصباح الحق کو جب ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے پاکستانی کرکٹ ٹیم میں شامل کیا گیا تو پاکستانی میڈیا نے اس سلیکشن پر زبردست تنقید کی تھی۔

شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ ماضی میں خاطر خواہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہے تھے اور دوسری وجہ یہ تھی کہ ان کا سلیکشن محمد یوسف کی جگہ ہوا تھا جس پر طنزیہ کہا گیاکہ بتیس سالہ یوسف کو ڈراپ کرکے تینتیس سالہ مصباح کو موقع دینا کہاں کا انصاف ہے۔

مصباح ڈومیسٹک کرکٹ میں زمانے سے اچھا کھیل دکھا رہے ہیں

مصباح الحق نے ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں دو نصف سنچریاں بنائیں لیکن بھارت کے خلاف دونوں میچوں میں وہ عمدہ بیٹنگ کے باوجود میچ کو پاکستان کی جیت پر ختم کرنے میں ناکام رہے تھے جس کا خود مصباح الحق کو بھی ملال تھا۔

جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم سیریز میں جب انضمام الحق کے مستقبل کا فیصلہ کرلیا گیا تو یہ بات طے ہوچکی تھی کہ ایک اور ’ حق‘ ان کی جگہ لینے کے لیے موجود ہے۔

جنوبی افریقہ کے خلاف دونوں ٹیسٹ میچوں میں مصباح الحق ایک بھی نصف سنچری نہ بناسکے۔ اس لحاظ سے بھارت کے دورے میں ان پر زبردست دباؤ بھی تھا کیونکہ قابل ذکر کارکردگی نہ ہونے کی صورت میں وہ ایک بار پھر ڈومیسٹک کرکٹ اور پاکستان اے ٹیم تک محدود ہوجاتے لیکن مصباح الحق نے اس موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔

مصباح الحق نے مارچ 2001ء میں اپنا پہلا ٹیسٹ نیوزی لینڈ کے خلاف کسی قابل ذکر کارکردگی کے بغیر کھیلا۔ اگلے سال انہوں نے نیروبی میں آسٹریلیا اور کینیا کے خلاف سہ فریقی ون ڈے سیریز میں دو نصف سنچریاں بنائیں۔

اسی سال انہیں آسٹریلیا کے خلاف نیوٹرل گراؤنڈ پر کھیلی گئی سیریز کے تینوں ٹیسٹ میں موقع ملا لیکن اس میں وہ ناکام رہے اور جب 2003ء میں بنگلہ دیش کے خلاف کراچی ٹیسٹ میں بھی ان سے بڑی اننگز نہ کھیلی گئی تو سلیکٹرز نے انہیں مزید موقع دینے کا خیال دل سے نکال دیا۔

مصباح الحق کے لیے پاکستانی ٹیم میں واپسی انضمام الحق، یونس خان اور محمد یوسف جیسے ورلڈ کلاس بیٹسمینوں کی موجودگی میں آسان نہ تھی۔ اس دوران وہ مایوسی کا شکار بھی ہوئے اور بین الاقوامی کرکٹ کو خیرباد کہنے کے بارے میں بھی سوچا لیکن پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ اور پاکستان اے سے کھیلتے ہوئے عمدہ کارکردگی نے ان کی امیدوں کو زندہ رکھا۔

سابق کپتان رمیز راجہ نے ایک بار کہا تھا کہ اگر ڈومیسٹک کرکٹ کی پرفارمنس پر ہی ٹیم منتخب ہونے لگے تو مصباح الحق پہلا کھلاڑی ہوگا جس کا سلیکشن کیا جائے گا اور اب رمیز راجہ، مصباح الحق کی عمدہ کارکردگی اور پاکستانی ٹیم کی اندرونی ٹوٹ پھوٹ کو دیکھتے ہوئے اس رائے کے ساتھ سامنے آئے ہیں کہ مصباح کو پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کی قیادت سونپ دینی چاہیے۔

رمیز راجہ کا یہ کہنا ہے کہ شعیب ملک کی ٹیسٹ ٹیم میں جگہ نہیں بنتی۔
پاکستانی کرکٹ میں ہمیشہ بے یقینی کے رنگ جھلکتے رہے ہیں۔ ایسے میں اگر مصباح الحق کو کپتان بنادیا جاتا ہے تو اس پر حیرانگی نہیں ہوگی لیکن یہ فیصلہ ایک ایسے بیٹسمین کو بہت بڑے امتحان میں ڈالنے کے مترادف ہوسکتا ہے جو چار سال بعد ٹیم میں واپس آیا ہے اور اپنے قدم جمارہا ہے۔

مصباح الحق کی بیٹنگ کی سب سے خاص بات ان کا انہماک اور ٹھنڈے دماغ سے حالات کا مقابلہ کرنا ہے۔ نچلے نمبروں کے بیٹسمینوں کے ساتھ بیٹنگ کرتے ہوئے وہ پریشانی کا شکار نہیں ہوتے بلکہ اپنی اننگز کو آگے بڑھاتے جاتے ہیں۔ اس وقت وہ اپنی مستقل مزاجی سے ’حق ‘ ادا کررہے ہیں۔

مصباح الحقمصباح کو افسوس
’آخری گیند پر رن کا یقین تھا‘
شعیب ملککپتان کا تبصرہ
آسٹریلیا کے خلاف جیت نے ٹیم میں اعتمادپیدا کیا
کالم نویس کرکٹرز
پاکستانی ٹیم انڈیا میں کیا کیا کر رہی ہے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد