BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 18 September, 2007, 23:11 GMT 04:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جیت نے اعتماد دیا ہے، شعیب ملک

شعیب ملک
بالروں کے آخری چار اوور اور مِصباح کی اچھی بیٹنگ سے کامیابی مِلی: شعیب ملک
ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں آسٹریلیا کے خلاف پاکستان کی شاندار کامیابی پر کپتان شعیب ملک نے کہا ہے کہ سری لنکا کے خلاف جیت نے مورال بلند کیا تھا اور آسٹریلیا کے خلاف جیت نے ٹیم میں بھرپور اعتماد پیدا کیا ہے۔

شعیب ملک کا کہنا ہے کہ وہ اگلے تمام میچ اچھی کارکردگی دکھاتے ہوئے جیتنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سری لنکا کے خلاف میچ کی طرح اس بار بھی جب وکٹیں جلد گریں تو انہوں نے دباؤ میں آنے کی بجائے اپنے کھیل پر توجہ دی جس کے نتیجے میں ٹیم مطلوبہ سکور پہنچی۔

پاکستانی ٹیم کے کپتان کے مطابق ٹیم میں تین ہی اوپنر ہیں جنہیں موقع دیا جارہا ہے لیکن وہ بدقسمتی سے رن نہیں کر رہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ابتداء ہی سے تیز رن کی کوشش میں وکٹیں گرتی ہیں لیکن انہیں یقین ہے کہ اس مسئلے پر قابو پالیا جائے گا۔

اوپنروں کا مسئلہ
 ٹیم میں تین ہی اوپنر ہیں جنہیں موقع دیا جارہا ہے لیکن وہ بدقسمتی سے رن نہیں کر رہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ابتداء ہی سے تیز رن کی کوشش میں وکٹیں گرتی ہیں لیکن انہیں یقین ہے کہ اس مسئلے پر قابو پالیا جائے گا۔
شعیب ملک
شعیب ملک کہتے ہیں کہ انہیں اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ سیمی فائنل میں ان کا سامنا کس ٹیم سے ہوگا۔ شعیب ملک نے پاکستانی بولروں کے آخری چار اوور اور مصباح الحق کی ذمہ دارانہ بیٹنگ کو جیت کا بنیادی سبب قرار دیا۔

پاکستانی کپتان نے کہا کہ جب وہ میچ کے لیے سٹیڈیم آئےتھے تو وکٹ دیکھ کر ان کی خواہش تھی کہ ٹاس جیت کر بولنگ کریں۔ ’ہر چیز خواہش اور پلان کے مطابق رہی۔‘

مین آف دی میچ مصباح الحق کہتے ہیں کہ ان کے سلیکشن پر بہت تنقید ہوئی تھی لیکن وہ پرعزم تھے کہ کارکردگی کے بل پر ناقدین کو بھرپور جواب دے سکتے ہیں۔

مصباح الحق کا کہنا ہے کہ ٹیم میں ان آؤٹ ہونے کے بعد اب ان کے لیے اچھا موقع ہے کہ وہ ٹیم میں جگہ مستحکم کریں۔ انہوں نے کہا کہ انضمام الحق، محمد یوسف اور یونس خان سے ان کا کسی طور موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔

مصباح نے انڈیا کے خلاف بھی عمدہ بیٹنگ کی تھی لیکن ٹیم کو جیت نہیں دلاسکے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے لیے اس طرح کی صورتحال نئی نہیں ہے مڈل آرڈر بیٹسمین کو ان حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا پڑتا ہے۔

انڈیا کے خلاف اپنی اننگز کا آسٹریلیا ے خلاف اننگز سے موازنہ کرتے ہوئے مصباح الحق نے کہا کہ دونوں اننگز میں انہوں نے آخری وقت تک بیٹنگ کا سوچ رکھا تھا اور اس میں وہ کامیاب رہے۔

آسٹریلوی ٹیم کے نائب کپتان ایڈم گلکرسٹ کا کہنا ہے کہ پاکستان سے ہارنے کا انہیں افسوس ہے لیکن دنیا ختم نہیں ہوئی ہے۔ صحافیوں کے روبرو انہوں نے کہا کہ ان کی ٹیم نے پندرہ بیس رنز کم اسکور کئے لیکن وہ اپنے بولرز کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔

گلکرسٹ نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ آسٹریلوی ٹیم ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے سنجیدہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیپ ٹاؤن کے مقابلے میں یہاں کنڈیشن بالکل مختلف تھی جبکہ پاکستان کو مسلسل دوسرا میچ یہاں کھیلنے کا فائدہ ہوا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد