BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 12 October, 2007, 09:19 GMT 14:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کمزور طالبعلم، دوستوں کا دوست

 انضمام الحق
سکول کے زمانے میں انضمام الحق کے کپتان الیاس پیرو ہوا کرتے تھے
کسی کے کھیل کے بارے میں مبصرین اور ماہرین کے تبصرے اور آراء سند کا درجہ رکھتے ہیں لیکن جب بات ذاتی زندگی کی ہو تو اس بارے میں وہی لوگ بہتر بتا سکتے ہیں جو اس شخص کے قریب رہتے ہوں اور اسے جانتے ہوں۔

انضمام الحق کو بحیثیت کرکٹر ان کے کھیل اور عالمی کرکٹ میں مقام کے بارے میں دنیا پچھلے سولہ سترہ سال سے دیکھ اور سن رہی ہے لیکن ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں کئی دلچسپ پہلوؤں اور گوشوں سے اس وقت پردہ اٹھا جب میری ملاقات ان لوگوں سے ہوئی جو ’انضی‘ کی ذات سے جڑے ہوئے ہیں۔

انضمام الحق کے بچپن میں جھانکنے کے لیے میں نے مسلم ہائی سکول کا رخ کیا جہاں انضمام الحق نے تعلیم حاصل کی۔ پتہ چلا کہ اس دور کے اساتذہ ریٹائر ہوچکے ہیں تاہم اپنے دوست صحافی ندیم قیصر کی مدد سے، جو انضمام الحق پر چلتی پھرتی ڈکشنری ہیں، میں ان کے ایک استاد محمد ہاشم خان تک پہنچ گیا۔

محمد ہاشم خان نے بتایا کہ انضمام الحق پڑھائی کے معاملے میں غیرمعمولی طالبعلم نہیں تھے۔ ان کی لکھائی بھی کمزور تھی لیکن وہ بہت مؤدب تھے اور اساتذہ کی عزت کرتے تھے۔ انہیں کرکٹ کا بہت شوق تھا۔

News image
 پڑھائی کے معاملے میں غیرمعمولی طالبعلم نہیں تھے۔ ان کی لکھائی بھی کمزور تھی لیکن وہ بہت مؤدب تھے
محمد ہاشم خان

’ایک دن ہمارے ہیڈ ماسٹر وسیم احمد صاحب نے انضمام الحق کے بھاری بھرکم ہاتھ کو محسوس کیا تو کہنے لگے کہ تم بیٹ پر مضبوط گرفت رکھنے والے اچھے بیٹسمین بن سکتے ہو جس کے بعد وہ اسکول کی ٹیم میں کھیلنے لگے۔‘

محمد ہاشم خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے انضمام الحق کو کھیل کے پیریڈ کے دوران پنجوں کے بل اچھلتے کودتے دیکھا ہے لیکن وہ نہ شوخ طبیعت کے تھے نہ کبھی کسی سے بدتمیزی کی۔ہاشم خان نے بتایا کہ انضمام سمیت اس دور کے تمام طالبعلم ’جیرے‘ کی کینٹن میں کھٹائی والے چھولے شوق سے کھاتے تھے۔

مسلم ہائی سکول اور ڈسٹرکٹ سپورٹس گراؤنڈ کے درمیان صرف ایک سڑک حائل ہے۔ اس میدان کے گراؤنڈ مین کو ملتان کے لوگ چاچا برکت کے نام سے جانتے ہیں۔ ان کی عمر ستر سال سے زیادہ ہوچکی ہے لیکن جب میں نے ان سے انضمام الحق کے بچپن کی بات کی تو وہ خود کسی بچے کی طرح بہت خوش اور جوشیلے نظر آئے۔

چاچا برکت کہتے ہیں کہ ’انضمام الحق ہر روز سکول سے چھٹی ہونے پر گراؤنڈ آتا اور کھیلنے کی خواہش کرتا۔ اس وقت چونکہ وہ بہت چھوٹا تھا اس لیے اس سے بڑی عمر کے لڑکے اسے باری دینے میں تنگ کرتے تھے لیکن اس کا شوق تھا کہ کم ہی نہیں ہوتا تھا۔‘

News image
 بچپن میں بھی وہ صحت مند گول مٹول تھا لیکن اس کا کھیل اچھا تھا
چاچا برکت

چاچا برکت کا کہنا ہے کہ ’بچپن میں بھی وہ صحت مند گول مٹول تھا لیکن اس کا کھیل اچھا تھا۔‘

چاچا برکت کہتے ہیں کہ شہرت ملنے کے باوجود انضمام الحق نہیں بدلے ان کے بقول انضمام آج بھی انہیں وہی عزت دیتے ہیں اور انکی مدد کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں۔

سکول کرکٹ کے زمانے میں انضمام الحق کے کپتان الیاس پیرو ہوا کرتے تھے جو آج کل ملتان شہر میں ایک دکان چلاتے ہیں۔ ان سے انضمام الحق کے کھیل کے بارے میں پوچھا تو جواب ملا کہ ’انضمام ہرفن مولا کرکٹر تھا، بیٹنگ میں کام دکھایا اور جب بیٹنگ نہیں چلی تو لیفٹ آرم بولر کی حیثیث سے میچ جتوا دیا۔‘

الیاس پیرو کو آج بھی وہ وقت یاد ہے جب وہ انضمام الحق سے اس وقت ملنے گئے جب دنیا انہیں ورلڈ کلاس بیٹسمین کی حیثیت سے جان چکی تھی۔ ’ ان کے گھر پر موجود مہمانوں نے میرا تعارف کرانے کو کہا جس پر انضمام الحق نے کہا کہ میں انکا سکول کے دنوں کا کپتان ہوں۔ یہ سن کر مجھے بہت خوشی ہوئی کہ انضمام الحق گئے دنوں کو نہیں بھولے۔‘

News image
 جب بھی موقع ملتا ہے اسی طرح کی بیٹھکیں ہوتی ہیں جیسی برسوں پہلے ہوتی تھیں

فیلڈ میں غیرمعمولی سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے والے انضمام الحق جب دوستوں کی محفل میں ہوتے ہیں تو ان کی بذلہ سنجی اپنے عروج پر ہوتی ہے۔ان کے ایک دیرینہ دوست مجتبٰی کھوکھر نے بتایا کہ چار پانچ دوستوں کا گروپ ہے جب اکٹھے ہوتے ہیں تو وہ انضمام الحق کی جملے بازی کی زد میں ہوتے ہیں۔

مجتبیٰ نے بھی یہی بات بتائی کہ شہرت کے باوجود انضمام الحق بالکل نہیں بدلے اور اپنے پرانے دوستوں سے اسی گرمجوشی سے ملتے ہیں اور’جب بھی موقع ملتا ہے اسی طرح کی بیٹھکیں ہوتی ہیں جیسی برسوں پہلے ہوتی تھیں۔‘

سابق کپتان انضمام الحقورلڈ کپ میں ہار
انضمام کا آمرانہ رویہ: انکوائری رپورٹ
انضمام الحق کھیل اور مذہب
نمازیں شکست کی وجہ نہیں: انضمام الحق
انضمام الحقاختتام عمران جیسا !
انضمام اپنا آخری ورلڈ کپ جیتنا چاہتے ہیں
انضمام الحق کرکٹ اور نماز
کھلاڑیوں کو جبراً نماز نہیں پڑھواتا: انضمام
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد