کمزور طالبعلم، دوستوں کا دوست | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کسی کے کھیل کے بارے میں مبصرین اور ماہرین کے تبصرے اور آراء سند کا درجہ رکھتے ہیں لیکن جب بات ذاتی زندگی کی ہو تو اس بارے میں وہی لوگ بہتر بتا سکتے ہیں جو اس شخص کے قریب رہتے ہوں اور اسے جانتے ہوں۔ انضمام الحق کو بحیثیت کرکٹر ان کے کھیل اور عالمی کرکٹ میں مقام کے بارے میں دنیا پچھلے سولہ سترہ سال سے دیکھ اور سن رہی ہے لیکن ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں کئی دلچسپ پہلوؤں اور گوشوں سے اس وقت پردہ اٹھا جب میری ملاقات ان لوگوں سے ہوئی جو ’انضی‘ کی ذات سے جڑے ہوئے ہیں۔ انضمام الحق کے بچپن میں جھانکنے کے لیے میں نے مسلم ہائی سکول کا رخ کیا جہاں انضمام الحق نے تعلیم حاصل کی۔ پتہ چلا کہ اس دور کے اساتذہ ریٹائر ہوچکے ہیں تاہم اپنے دوست صحافی ندیم قیصر کی مدد سے، جو انضمام الحق پر چلتی پھرتی ڈکشنری ہیں، میں ان کے ایک استاد محمد ہاشم خان تک پہنچ گیا۔ محمد ہاشم خان نے بتایا کہ انضمام الحق پڑھائی کے معاملے میں غیرمعمولی طالبعلم نہیں تھے۔ ان کی لکھائی بھی کمزور تھی لیکن وہ بہت مؤدب تھے اور اساتذہ کی عزت کرتے تھے۔ انہیں کرکٹ کا بہت شوق تھا۔
’ایک دن ہمارے ہیڈ ماسٹر وسیم احمد صاحب نے انضمام الحق کے بھاری بھرکم ہاتھ کو محسوس کیا تو کہنے لگے کہ تم بیٹ پر مضبوط گرفت رکھنے والے اچھے بیٹسمین بن سکتے ہو جس کے بعد وہ اسکول کی ٹیم میں کھیلنے لگے۔‘ محمد ہاشم خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے انضمام الحق کو کھیل کے پیریڈ کے دوران پنجوں کے بل اچھلتے کودتے دیکھا ہے لیکن وہ نہ شوخ طبیعت کے تھے نہ کبھی کسی سے بدتمیزی کی۔ہاشم خان نے بتایا کہ انضمام سمیت اس دور کے تمام طالبعلم ’جیرے‘ کی کینٹن میں کھٹائی والے چھولے شوق سے کھاتے تھے۔ مسلم ہائی سکول اور ڈسٹرکٹ سپورٹس گراؤنڈ کے درمیان صرف ایک سڑک حائل ہے۔ اس میدان کے گراؤنڈ مین کو ملتان کے لوگ چاچا برکت کے نام سے جانتے ہیں۔ ان کی عمر ستر سال سے زیادہ ہوچکی ہے لیکن جب میں نے ان سے انضمام الحق کے بچپن کی بات کی تو وہ خود کسی بچے کی طرح بہت خوش اور جوشیلے نظر آئے۔ چاچا برکت کہتے ہیں کہ ’انضمام الحق ہر روز سکول سے چھٹی ہونے پر گراؤنڈ آتا اور کھیلنے کی خواہش کرتا۔ اس وقت چونکہ وہ بہت چھوٹا تھا اس لیے اس سے بڑی عمر کے لڑکے اسے باری دینے میں تنگ کرتے تھے لیکن اس کا شوق تھا کہ کم ہی نہیں ہوتا تھا۔‘
چاچا برکت کا کہنا ہے کہ ’بچپن میں بھی وہ صحت مند گول مٹول تھا لیکن اس کا کھیل اچھا تھا۔‘ چاچا برکت کہتے ہیں کہ شہرت ملنے کے باوجود انضمام الحق نہیں بدلے ان کے بقول انضمام آج بھی انہیں وہی عزت دیتے ہیں اور انکی مدد کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ سکول کرکٹ کے زمانے میں انضمام الحق کے کپتان الیاس پیرو ہوا کرتے تھے جو آج کل ملتان شہر میں ایک دکان چلاتے ہیں۔ ان سے انضمام الحق کے کھیل کے بارے میں پوچھا تو جواب ملا کہ ’انضمام ہرفن مولا کرکٹر تھا، بیٹنگ میں کام دکھایا اور جب بیٹنگ نہیں چلی تو لیفٹ آرم بولر کی حیثیث سے میچ جتوا دیا۔‘ الیاس پیرو کو آج بھی وہ وقت یاد ہے جب وہ انضمام الحق سے اس وقت ملنے گئے جب دنیا انہیں ورلڈ کلاس بیٹسمین کی حیثیت سے جان چکی تھی۔ ’ ان کے گھر پر موجود مہمانوں نے میرا تعارف کرانے کو کہا جس پر انضمام الحق نے کہا کہ میں انکا سکول کے دنوں کا کپتان ہوں۔ یہ سن کر مجھے بہت خوشی ہوئی کہ انضمام الحق گئے دنوں کو نہیں بھولے۔‘
فیلڈ میں غیرمعمولی سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے والے انضمام الحق جب دوستوں کی محفل میں ہوتے ہیں تو ان کی بذلہ سنجی اپنے عروج پر ہوتی ہے۔ان کے ایک دیرینہ دوست مجتبٰی کھوکھر نے بتایا کہ چار پانچ دوستوں کا گروپ ہے جب اکٹھے ہوتے ہیں تو وہ انضمام الحق کی جملے بازی کی زد میں ہوتے ہیں۔ مجتبیٰ نے بھی یہی بات بتائی کہ شہرت کے باوجود انضمام الحق بالکل نہیں بدلے اور اپنے پرانے دوستوں سے اسی گرمجوشی سے ملتے ہیں اور’جب بھی موقع ملتا ہے اسی طرح کی بیٹھکیں ہوتی ہیں جیسی برسوں پہلے ہوتی تھیں۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||