BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 06 February, 2009, 18:12 GMT 23:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان آسٹریلیا سیریز، یو اے ای

اعجاز بٹ
سیریز کا مکمل شیڈول اور دیگر تفصیلات اگلے ہفتے طے کر لی جائیں گی
پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان پانچ ایک روزہ میچز اور ایک ٹونٹی ٹونٹی میچ پر مشتمل سیریز 24 اپریل سے سات مئی تک یو اے ای میں ہو گی۔

پہلے دو ایک روزہ میچ دبئی میں اور اس کے بعد تین ایک روزہ ابوظہبی میں منعقد کیے جائیں گے جبکہ آخر میں ہونے والا ٹونٹی ٹونٹی میچ دبئی میں کھیلا جائے گا۔ ان میچوں کی تاریخوں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئرمین اعجاز بٹ کے مطابق اس سیریز کا مکمل شیڈول اور دیگر تفصیلات اگلے ہفتے طے کر لی جائیں گی۔

اعجاز بٹ کے مطابق اپریل اور مئی میں یو اے ای میں موسم کرکٹ کھیلنے کے لیے ساز گار ہوتا ہے البتہ مئی کے آخر میں گرمی کی شدت زیادہ ہو جاتی ہے اور چونکہ یہ سیریز سات مئی تک ختم ہو جائے گی اس لیے موسم کے حوالےسے کوئی مسائل نہیں ہوں گے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئرمین جو کہ آئی سی سی کے اجلاس میں شرکت کے لیے آسٹریلیا گئے تھے اور وہیں انہوں نے آسٹریلین کرکٹ بورڈ کے حکام سے مل کر آسٹریلیا کے ساتھ پاکستان کی ہوم سیریز کو نیوٹرل وینیو پر کروانے کی تفصیلات طے کیں۔

اس اجلاس میں پاکستان کےخلاف دو فیصلے ہوئے، ایک تو متنازع اوول ٹیسٹ کا فیصلہ دوبارہ انگلینڈ کے حق میں کر دیا گیا تھا جبکہ چمپئنز ٹرافی کو پاکستان سے منتقل کر دیا گیا۔

پاکستان کی ٹیم کے سابق کپتان اور معروف کمینٹیٹر رمیض راجہ کا کہنا ہے کہ چونکہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی کے اس اجلاس سے پہلے ہی اس بات

کرکٹ بورڈ کی کمزوری
 چمپئنز ٹرافی کے منتقل ہونے کی تمام ذمہ داری پاکستان کرکٹ بورڈ پر عائد ہوتی ہے، کرکٹ بورڈ کی کمزوری کے سبب آئی سی سی کے یہ دونوں فیصلے پاکستان کے خلاف ہوئے
انور بیگ
پر آمادگی ظاہر کر دی تھی کہ آسٹریلیا کی میزبانی وہ نیوٹرل وینیو پر بھی کر سکتے ہیں اس لیے آئی سی سی کو بھی پاکستان سے چمپئنز ٹرافی منتقل کرنے کا بہانہ مل گیا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چئرمین لیفٹیننٹ جرنل ریٹائرڈ توقیر ضیا کے خیالات بھی رمیض راجہ ہی کی طرح ہیں ان کا بھی یہی کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے آسٹریلیا کو پہلے ہی نیوٹرل وینیو پر بلانے کی دعوت دے دی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم پاکستان میں غیر ملکی ٹیموں کو بلانے کا خود ارادہ نہیں رکھتے اورآسٹریلیا چونکہ چمپئنز ٹرافی کی ایک اہم ٹیم ہے اس لیے آئی سی سی نے اسی بنیاد پر یہ فیصلہ کر لیا۔

سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے کھیل کے رکن سینیٹر انور بیگ نے چمپئنز ٹرافی کے منتقل ہونے کی تمام ذمہ داری پاکستان کرکٹ بورڈ پر عائد کی اور کہا کہ کرکٹ بورڈ کی کمزوری کے سبب آئی سی سی کے یہ دونوں فیصلے پاکستان کے خلاف ہوئے۔

اسی بارے میں
اعجاز بٹ بھارت جائیں گے
05 December, 2008 | کھیل
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد