انگلینڈ سکیورٹی وفد کی پاکستان آمد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے آئندہ دورہ پاکستان کے دوران حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کےماہرین کا ایک وفد پیر کے روز پاکستان پہنچ رہا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ترجمان عباس زیدی کے مطابق انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے کراچی میں ٹیسٹ کھیلنے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ سکیورٹی انتظامات کے بارے میں وفد کے ارکان کے خدشات دور کرنے کی کوشش کرے گا۔ وفد انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے لیے کام کرنے والی اولیور سکیورٹی ایجنسی کے دو ماہرین مشتمل ہوگا اور پی سی بی کے عہدے داروں کے علاوہ پولیس اور وزارت داخلہ کے حکام سے ملاقات کرے گا۔ سکیورٹی رپورٹ موصول ہونے کے بعد انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے جان کار اور پلیئرز یونین کے سربراہ رچرڈ بیون پر مشتمل ایک دو رکنی وفد ٹیسٹ اور ایک روزہ میچوں کی جگہوں کو حتمی شکل دینے کے لیے اگلے ماہ پاکستان جائے گا۔ کراچی میں سن دوہزار دو میں نیوزی لینڈ کی ٹیم کے دورے کے دوران بم دھماکے میں چودہ افراد ہلاک ہو گئے تھے اور نیوزی لینڈ کی ٹیم دورہ ادھورا چھوڑ کر واپس چلی گئی تھی۔ اس کے بعد سے بنگلہ دیش اور سری لنکا نے کراچی کے نیشل اسٹیڈیم پر میچ کھلیے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئر مین شہر یار خان نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ انگلینڈ کے دورے کے دوران یہ تاثر ملے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ انہیں ایسی جگہوں پر میچ کھیلنے پر مجبور کر رہا ہے جہاں وہ میچ کھیلنا نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیسٹ میچ کے لیے ٹیموں کو کراچی میں سات آٹھ دن قیام کرنا پڑتا ہے جو ان کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا بھارت ٹیم نے بھی اسی وجہ سے کراچی میں ٹیسٹ میچ کھیلنے سے انکار کر دیا تھا۔ انگلینڈ نے آخری مرتبہ پانچ سال قبل پاکستان کا دورہ کیا تھا اور نیشنل اسٹیڈیم میں آخری روز شام کے ڈھلتے سائے اور کم ہوتی ہوئی روشنی میں میچ جیت کر سیریز ایک صفر سے جیت لی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||