BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 18 February, 2009, 13:29 GMT 18:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ: تشدد کی لہر میں کمی

آصف زرداری نے نائن الیون کا دورہ کرکے خطابت میں الطاف حسین کا ذوالفقارعلی بھٹو سے موازنہ کیا تھا
صوبہ سندھ میں پچھلے ایک سال میں کچھ اور بدلا ہو یا نہیں، سیاسی تشدد کی وہ لہر جو ماضی کے جمہوری ادوارں میں حکومتوں کے بننے اور ٹوٹنے کا ایک محرک رہی ہے، اب نظر نہیں آتی۔

عام انتخابات کو ایک سال ہوگیا ہے لیکن صوبے کی مخلوط حکومت کو وجود میں آئے کم و بیش نو دس مہینے ہوئے ہیں۔

اس مختصر عرصے کے دوران مخلوط حکومت میں شامل دونوں بڑی جماعتیں پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ جو دو دہائیوں تک ایک دوسرے کی مخالفت پر تیار نظر آتی تھیں، اتفاق رائے سے حکومتی امور چلانے میں بڑی حد تک کامیاب رہی ہیں۔

دونوں جماعتوں کے درمیان بعض معاملات پر اختلافات بھی سامنے آئے لیکن انہیں بات چیت کے ذریعے بروقت دور کرلیا گیا۔

پیپلز پارٹی عام انتخابات کے بعد صوبائی اسمبلی میں سادہ اکثریت حاصل کر کے اکیلے ہی حکومت بنانے کی پوزیشن میں تھی لیکن اس نے دوسری جماعتوں کو بھی اقتدار میں حصہ دار بنایا اور صوبے کی تاریخ میں لگ بھگ بیس سالوں بعد ایسا ہوا کہ متحدہ قومی موومنٹ نے پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کیا۔

بظاہر اسکی بنیاد پیپلز پارٹی کے شریک چئرپرسن آصف علی زرداری نے ڈالی جب انہوں نے عام انتخابات کے ڈیڑھ مہینے بعد متحدہ قومی موومنٹ کے مرکز نائن زیرو کا دورہ کیا اور متحدہ سے دوستی کا ہاتھ ملایا۔

نائن زیرو کے باہر ایم کیو ایم کے کارکنوں کے اجتماع سے خطاب کرتے آصف زرداری اور متحدہ کے قائد الطاف حسین دونوں نے ایک دوسرے کو معاف کرنے اور ماضی کی تلخیوں کو بھلاکر ایک نیا سفر شروع کرنے کا اعلان کیا۔

پیپلز پارٹی نے متحدہ قومی موومنٹ کے ساتھ ساتھ عوامی نیشنل پارٹی کو بھی اپنا حلیف بنایا جس نے عام انتخابات میں پہلی بار کراچی سے دو نشستیں حاصل کی تھیں جبکہ یہ بھی پہلی بار ہوا کہ وزیر اعلی سندھ سید قائم علی شاہ نے پچھلے سال دسمبر کے مہینے میں پیپلز پارٹی کی سخت حریف سمجھی جانے والی ایک اور جماعت مسلم لیگ فنکشنل کے تین نامزد افراد کو بھی مشیران کی حیثیت سے صوبائی کابینہ میں شامل کیا۔

مبصرین کے بقول اسکی ایک وجہ یہ تھی کہ فنکشنل لیگ نے صدارتی انتخابات میں آصف علی زرداری کی حمایت کی تھی۔

وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے حال ہی میں یہ عندیہ بھی دیا ہے کہ پیپلز پارٹی کی ایک اور حریف جماعت غلام مصطفی جتوئی کی نیشنل پیپلز پارٹی کے ارکان بھی حکومتی بینچوں پر بیٹھیں گے۔

انہوں نے سندھ سے سینٹ کی گیارہ نشستوں پر پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومینٹ کے امیدواروں کی بلامقابلہ کامیابی پر دوسرے سیاسی رہنماؤں کے ساتھ ساتھ ارباب غلام رحیم کا بھی ان کا غیرموجودگی میں شکریہ ادا کیا۔

ارباب رحیم کا شکریہ
 سینٹ کی گیارہ نشستوں پر پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے امیدواروں کی کامیابی پر دوسرے سیاسی رہنماؤں کے ساتھ ساتھ ارباب غلام رحیم کا بھی ان کا غیرموجودگی میں شکریہ ادا کرتا ہوں۔
وزیر اعلی قائم علی شاہ
News image

یقیناً ارباب غلام رحیم کے لئے یہ اچھی خبر ہے کیونکہ پچھلے سال سندھ اسمبلی میں حلف برداری کے بعد واپس جاتے انہیں جوتوں کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اسکے بعد سے وہ بیرون ملک مقیم ہیں۔

تو بظاہر صوبائی حکومت مصالحت اور سب کو ساتھ لےکر چلنے کی پالیسی پر عمل پیرا رہی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ امن و امان، مہنگائی اور بیروزگاری جیسے عوام کے بنیادی مسائل کے حل کے سلسلے میں پیش رفت کرسکی ہے۔

کئی تجزیہ کاروں کا جواب نفی میں ہے۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار شمیم الرحمن کا کہنا ہے کہ ’وعدے تو الیکشن میں بہت کئےگئے لیکن عملدرآمد ان پر اس لئے نہیں ہوا کہ مخلوط حکومت ہونے کی وجہ سے سیاسی جوڑ توڑ بہت رہا اور حکومت کے حصے دار ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے میں لگے رہے۔‘

شمیم الرحمن سمجھتے ہیں کہ پیپلز پارٹی اور متحدہ طویل عرصے تک ایک دوسرے کے خلاف صف آراء رہی ہیں اور اس کے نتیجے میں دونوں جماعتوں میں ہی ایسی لابیاں ہوں گی جو ایک دوسرے کے خلاف رائے رکھتی ہوں گی۔ ان کے بقول اس مخالفت کو ختم ہونے میں وقت لگے گا۔

تجزیہ کار ضمیر گھمرو کہتے ہیں کہ پانی کی قلت، صوبائی خودمختاری، این ایف سی ایوارڈ اور وفاقی اداروں میں نمائندگی وغیرہ صوبے کے اہم ایشوز ہیں جن پر ماضی میں صوبے کے دیہی علاقوں میں احتجاج ہوتا رہا ہے۔ ان کے بقول صوبائی حکومت ان مسائل کے حل کے لئے کوئی پیش رفت نہیں کرسکی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ مہنگائی خاص کر آٹے اور دوسری بنیادی ضرورت کی اشیاء کی قیمتوں میں بھی کمی نہیں کی جا سکی ہے جو عوام کا بنیادی مسئلہ ہے۔

’سندھ میں آج بھی آٹے کی قیمت پنجاب کے مقابلےمیں دگنی ہیں اور اسے کنٹرول کرنے میں صوبائی حکومت اب تک ناکام ہے۔‘

ضمیر گھمرو کا کہنا ہے کہ اندرون سندھ امن و امان کی صورتحال بھی بہتر ہونے کے بجائے خراب ہوئی ہے اور اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

صوبائی وزیر اطلاعات شاذیہ مری سمیت پیپلز پارٹی کے دوسرے رہنماؤں سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن رابطہ نہیں ہوسکا البتہ متحدہ قومی موومنٹ کے رکن سندھ اسمبلی فیصل سبزواری سے بات ہوئی تو انہوں نے اس تاثر کو درست قرار دیا کہ صوبائی حکومت کی پچھلے آٹھ دس مہینوں کی کارکردگی اتنی اطمینان بخش نہیں رہی لیکن ان کا کہنا ہے کہ اسکی بڑی وجہ مالی مشکلات ہیں۔

’معیشت کی جو دگرگوں صورتحال ہے اس کا تعلق عالمی کساد بازاری سے ہے۔ ایک لمبے عرصے تک تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا اور پھر بجلی کا بحران سامنے آگیا تو ان کی وجہ سے بھی معاملات بہت زیادہ بہتر نہیں ہوئے۔‘

فیصل سبزواری نے یہ بھی باور کرایا کہ متحدہ قومی موومنٹ صوبائی حکومت میں جونیئر پارٹنر ہے اور صوبے کی تمام اہم وزارتیں پیپلز پارٹی کے پاس ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر عوام کے مسائل کے حل لیے کوششیں کر رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ صوبے کے زیادہ تر مسائل این ایف سی ایوارڈ یعنی ملک کے مالی وسائل کی تقسیم اور صوبائی خودمختاری جیسے بنیادی ایشوز سے جڑے ہیں جن کا حل مرکز کے پاس ہے اور جب تک مرکز میں موجود پیپلز پارٹی اور اس کی حلیف جماعتیں ان مسائل کو حل نہیں کرتیں، صوبائی حکومت کو عوام کی توقعات پر پورا اترنے میں مشکلات کا سامنا رہے گا۔

کنور دلشادانتخابی نتائج
الیکشن کمیشن نےنتائج کا اعلان کر دیا
آصف زرداریمنتقلی اقتدار میں دیر
عوامی نمائندوں کو اقتدار کی منتقلی میں دیر کیوں؟
جیتامید کی ایک کرن
پاکستان میں نئی حکومت سے جنوبی ایشیاء پُرامید
نواز شریف اور آصف زرداری’بات دو تہائی کی‘
ممکنہ حکمران اتحاد اور دو تہائی اکثریت
پی پی پی اور پی ایم ایل ایناسمبلی کے نئے چہرے
سیاسی خاندان: کون کس کا کیا لگتا ہے
نواز شریفنواز شریف:
اب مشرف اپنی آنکھیں کھولیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد