اعجاز مہر بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | ’ہمیں لازمی طور پر متحد ہونا چاہیے اور انہیں کامیاب نہیں ہونے دینا چاہیے‘۔ |
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ جمہوریت کو سب سے بڑا خطرہ شدت پسندی اور شدت پسندوں سے ہے جو اپنا سیاسی اور نظریاتی ایجنڈا بیلٹ کے بجائے بُلٹ کے ذریعے مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بات انہوں نے پاکستان میں عام انتخابات کے ایک سال کی تکمیل کے موقع پر جاری کیے جانے والے پیغام میں کہی ہے۔ پاکستان میں اٹھارہ فروری کے انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی جمہوری حکومت نے اس وقت کے صدر پرویز مشرف کو مستعفی ہونے پر مجبور کیا اور یوں ان کے نو سالہ دور ختم ہوگیا۔ صدر آصف علی زرداری نے شدت پسندوں کو ناکام بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’ہمیں لازمی طور پر متحد ہونا چاہیے اور انہیں کامیاب نہیں ہونے دینا چاہیے‘۔ صدر نے مزید کہا ہے کہ ’گزشتہ برس اٹھارہ فروری کے انتخابات کے بعد تحمل، مصالحت اور مذاکرات کو ہی جمہوریت کی سڑک پر اپنے سفر کا اصول بنایا ہے۔ یہی ہمارے آئندہ کے بھی رہنما اصول ہوں گے ایسے لوگوں سے معاملات طے کرنے کا جو لوگ گولی کے بجائے ووٹ کے ذریعے آئین اور قانون کا احترام کرتے ہوئے تبدیلی لانا چاہتے ہیں،۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ وہ پاکستان کی عوام اور باالخصوص تمام سیاسی جماعتوں کے ایسے کارکنوں جنہوں نے ملک میں انتخابات کرانے کے لیے آمریت کو مجبور کرنے کی جدوجہد کی اور قربانیاں دیں۔ ’اس موقع پر ہمیں آج وہ تمام شہدائے جمہوریت یاد آتے ہیں جنہوں نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی سربراہی میں مقصد کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔۔ یہی وہ مقصد تھا کہ ایک قابض کو اقتدار واپس عوام کو دینا پڑا۔ وہ ہمارے ہیرو اور ہیروئنز ہیں جو آسمانِ وقت پر چمکتے رہیں گے اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہوں گی‘۔ |