BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 07 February, 2009, 18:15 GMT 23:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’یو این اہلکار کا اغواء، ذمہ داری‘

 بلوچستان میں ایک مسلح مزاحمت کار
بلوچستان - ایک مسلح مزاحمت کار
کوئٹہ چھاؤنی میں نامعلوم افراد نے کم سے کم چار راکٹ داغے ہیں جس سے ایک اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔ یہ راکٹ مختلف مقامات پر گرے ہیں۔

راکٹ حملوں کے بعد چھاؤنی کے علاقے کو مکمل سیل کر دیا گیا ہے۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس وزیر خان ناصر نے بتایا ہے کہ تین چار راکٹ گرے ہیں لیکن اب تک نقصان کا کوئی علم نہیں ہیں وہ خود موقع پر پہنچ رہے ہیں۔

چھاؤنی سے لوگوں نے بتایا ہے کہ ایک راکٹ فوجیوں کی گاڑی کو لگا ہے جس سے ایک اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں جنہیں چھاؤنی میں ملٹری ہسپتال پہنچایا گیا ہے۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ ایک راکٹ چھاؤنی میں بولان شاپنگ کمپلیکس کی گاڑیاں کھڑی کرنے کی جگہ پر گرا ہے جبکہ باقی دو پانی تقسیم کے علاقے میں گرے ہیں۔

فوجی حکام نے بتایا ہے کہ راکٹ نامعلوم مقام سے داغے گئے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد شہر سے چھاؤنی جانے والے سارے راستے بند کر دیے گئے ہیں اور بولان میڈیکل کمپلیکس میں دکانیں بند کر دی گئی ہیں۔

 ترجمان نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا ہے کہ ان کے مطالبات میں چھ ہزار بلوچوں بشمول ایک سو اکتالیسں خواتین کی بازیابی اور بلوچستان کے مسئلے کو جنیوا کنونشن کے مطابق حل کیا جائے۔
دریں اثناء اپنے آپ کو کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے بیبرگ بلوچ نے اس حملے کی ذمہ داری اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کی ہے۔

جان سولیکی کے اغواء کی ذمہ داری
اس کے علاوہ آج کوئٹہ میں ایک خبر رساں ایجنسی آن لائن کو نامعلوم شخص کا ٹیلیفون ملا ہے جس میں اس نے خود کو میر شہک بلوچ ظاہر کیا اور کہا کہ وہ ایک نئی مسلح تنظیم بلوچ لبریشن یونائیٹڈ فرنٹ کا ترجمان ہے۔

اس نے بتایا کہ تنظیم کی جانب سے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے اعلی اہلکار جان سولیکی کے اغواء کی ذمہ داری قبول کی جاتی ہے۔ ترجمان نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا ہے کہ ان کے مطالبات میں چھ ہزار بلوچوں بشمول ایک سو اکتالیسں خواتین کی بازیابی اور بلوچستان کے مسئلے کو جنیوا کنونشن کے مطابق حل کیا جائے۔

اس تنظیم کا نام پہلے کبھی نہیں سنا گیا اور اس بارے میں پولیس حکام کا بھی یہی کہنا ہے کہ نہ تو انہیں اس تنظیم کے بارے میں کچھ معلومات ہیں اور نہ ہی انہوں نے پہلے کبھی اس تنظیم کے بارے میں سنا ہے تاہم اس بارے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

نواب اکبر بگٹی کے پوتے براہمدغ بگٹی کی جماعت بلوچ ریپبلکن پارٹی کے ڈیرہ بگٹی کے صدر شیر محمد بگٹی نے بتایا ہے کہ ان کی جماعت کے بزرگ جنرل سیکرٹری ڈاکٹر بشیر عظیم کو خفیہ ایجنسی کے اہلکار اٹھا کر لے گئے ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ کل رات وہ ادھر کوئٹہ کے سریاب روڈ پرگئے تھے جہاں سے انہیں اٹھایا گیا ہے۔

دو روز پہلے بی آر پی کے ضلع جعفرآباد کے صدر مرید بگٹی نے الزام عائد کیا تھا کہ سندھ کے علاقے جیکب آباد سے ان کے بیٹے بھائی اور چچا زاد بھائی کو خفیہ ایجنسی کے اہلکار اٹھا کر لے گئے ہیں۔

اسی بارے میں
بلوچستان، پائپ لائن اڑا دی
28 January, 2009 | پاکستان
بلوچستان دھماکہ: چودہ زخمی
01 February, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد