BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 03 February, 2009, 07:39 GMT 12:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مغوی اہلکار، پندرہ افراد زیرِ حراست

پولیس یو این اہلکار کے اغوا کی تحقیق مختلف پہلوؤں سے کر رہی ہے
کوئٹہ میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے اعلی اہلکار جان سلیکی کو چوبیس گھنٹےگزر جانے کے بعد اب تک بازیاب نہیں کرایا جا سکا ہے۔

پولیس نے پندرہ افراد کو حراست میں لیا ہے لیکن اب تک کو ئی اہم گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جان سلیکی کی بازیابی کے لیے تفتیش مختلف زاویوں پر کی جا رہی ہے اور اس سلسلے میں کوئٹہ شہر کے مختلف مقامات پر چھاپے مارے گئے ہیں۔

دریں اثناء اقوام متحدہ کے حفاظت اور بچاؤ کے محکمے یعنی یو این ڈی ایس ایس کی ایک ٹیم اسلام آباد سے کوئٹہ پہنچی ہے۔ اس ٹیم نے اس مقام کا دورہ بھی کیا ہے جہاں گزشتہ روز یہ واقعہ پیش آیا تھا۔

اسلام آباد سے اقوام متحدہ کی ترجمان نے بتایا ہے کہ اس ٹیم کا مقصد تحقیقات کرنا نہیں ہے بلکہ حکومت پاکستان کی مدد کرنا ہے۔ ابتدائی طور پر یہ ٹیم اس واقعہ کے حوالے سے معلومات اکھٹی کرے گی۔

اس کے علاوہ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ اقوام متحدہ کی ایک ٹیم کا کوئٹہ کا دورہ آئندہ چند روز میں متوقع ہے۔

آج یہاں کوئٹہ میں وزیر اعلی بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے کہا ہے کہ انھیں غیر ملکی تحقیقاتی ٹیمیوں کے آنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ بلوچستان اسمبلی میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غیر ملکی ٹیمیں اگر کوئٹہ آنا بھی چاہیں تو وہ اسے روک نہیں سکتے ۔

اس بارے میں جمعیت علماء اسلام کے سینیئر صوبائی وزیر مولانا عبدالواسع سے پوچھا تو ان کا کہنا ہے کہ وہ اس کے حق میں نہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے اپنے ادارے ہیں اور وہ بہتر تحقیقات کر سکتے ہیں اس لیے بین القوامی تحقیقاتی ٹیموں کے آنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

جان سلیکی کو سوموار کے روز کوئٹہ میں چمن ہاؤسنگ سکیم سے نامعلوم افراد نے فائرنگ کے بعد اغوا کرلیا تھا۔ اس فائرنگ کے واقعہ میں یو این ایچ سی آر کے ڈرائیور سید ہاشم رضا ہلاک ہوگئے تھے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت تحقیقات جاری ہیں جس میں ایک طرف تو فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کو مد نظر رکھاگیا ہے اور دو سری طرف ملک بھر میں خاص طور پر صوبہ سرحد میں شدت پسندی کے واقعات کو دیکھا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ گزشتہ روز اہل تشیع سے تعلق رکھنے والے ایک تاجر اقبال حیدر زیدی کو بھی نامعلوم افراد نے زرغون روڈ پر فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا تھا۔

بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور اس بارے میں کوئٹہ میں فرنٹیئر کور کی بھاری نفری تعینات ہے لیکن اس واقعات پر قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔

اسی بارے میں
کوئٹہ میں فائرنگ سے دو ہلاک
24 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد