پل تباہ، نیٹو رسد کا متبادل راستہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں نامعلوم افراد کے پشاور طورخم مرکزی شاہراہ پر ایک پل کو دھماکے سے تباہ کرنے کے بعد مقامی انتظامیہ نے متبادل راستے سے ٹریفک بحال کر دی ہے۔ واضح رہے کہ منگل کے روز پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں نامعلوم افراد نے پشاور طورخم مرکزی شاہراہ پر ایک پل کو دھماکے سے تباہ کر دیا تھا جس کی وجہ سے نیٹو کے لیے رسد لے جانے والا قافلہ بھی روک دیا گیا۔ مقامی انتظامیہ نے بتایا کہ پل کے اڑائے جانے کے بعد متبادل راستے پر کام شروع ہو گیا تھا اور تھوڑی ہی دیر بعد چھوٹی گاڑیوں کے لیے متبادل راستہ کھول دیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ متبادل راستے کو بھاری گاڑیوں کے لیے بھی شام ہونے سے قبل کھول دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ متبادل راستے کھل جانے کے بعد نیٹو کے لیے رسد لے جانے والا قافلہ بھی افغانستان کے لیے روانہ ہو گیا ہے۔ اس سے قبل مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ منگل کو خیبر ایجنسی کی تحصیل جمرود میں علی مسجد کے قریب نامعلوم افراد نے پشاور طورخم کی مرکزی شاہراہ پر ایک پل کو دھماکے سے تباہ کردیا تھا۔ حکام کے مطابق دھماکے کے بعد سیمنٹ سے بھرا ہوا ایک ٹرک بھی تباہ شدہ پل سے گر گیا۔ انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ کہ انگریز دور کے بنے ہوئے لوہے کے پل کی مرمت کرنا ایک مشکل کام ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ نے متبادل راستے پر کام شروع کیا ہے اور شام تک ٹریفک بحال ہونے کی امید ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں موجود نیٹو کے لیے رسد لے جانے والا قافلہ بھی روک دیاگیا اور مقامی ٹریفک بھی بند کر دی گئی۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی نیٹو کےلیے رسد لے جانے والے قافلے خیبر ایجنسی میں کشیدہ حالات کی وجہ سے کئی بار خلل کا شکار ہوچکے ہیں لیکن یہ پہلی دفعہ ہے کہ ایک پل کو تباہ کر کے قافلے کے راستے کو مسدود کر دیا گیا ہو۔ اس واقعہ کی کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ البتہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے ترجمان مولوی عمرنے کچھ عرصہ پہلے بی بی سی کو بتایا تھا کہ قبائلی علاقوں میں اتحادی افواج کے حملے تسلسل کے ساتھ جاری ہیں اور اس میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے دھمکی دی تھی کہ جب تک قبائلی علاقوں میں نیٹو اور امریکی کارروائیاں بند نہیں ہوتیں وہ اتحادی افواج کے لیے سامان لے جانے والوں پر حملے کرتے رہیں گے۔ واضح رہے کہ پشاور کے علاقے رنگ روڈ پر گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران نیٹو افواج کے لیے رسد لے جانے والی گاڑیوں کے اڈوں پر مسلح افراد کی طرف سے پانچ حملے کیے جاچکے ہیں جس میں اب تک تین سو سے زائد گاڑیوں کو تباہ کیا گیا ہے جن پر اتحادی افواج کا جنگ ساز و سامان بھی لدا ہوا تھا۔ | اسی بارے میں نیٹو لاجسٹک سپورٹ بحال02 January, 2009 | پاکستان نٹیو رسد پر حملہ، ذمہ داری قبول14 December, 2008 | پاکستان پشاور کےقریب نیٹو ٹرکوں پرمزید حملے13 December, 2008 | پاکستان نیٹورسدپر پھرحملہ، 50 ٹرک راکھ08 December, 2008 | پاکستان ’نیٹو افواج پر حملے بڑھیں گے‘07 December, 2008 | پاکستان پشاور میں نیٹو ٹرکوں پر بڑا حملہ07 December, 2008 | پاکستان نیٹو رسد، سکیورٹی میں قافلہ روانہ17 November, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||