BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 January, 2009, 22:21 GMT 03:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نیٹو لاجسٹک سپورٹ بحال

طالبان کی جانب سے نیٹو کے ٹرکوں اور کنیٹنروں پر مسلسل حملوں کے بعد حکومت پاکستان نے تورخم کے راستے نیٹو افواج کے لیے سامان کی ترسیل کا سلسلہ معطل کیا تھا
پاکستان کے حکومتی اہلکاروں اور قلعہ عبداللہ میں قبائلی رہنماؤں کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد بلوچستان کے راستے افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کے لیے لاجسٹک سپورٹ بحال ہوگئی۔

کوئٹہ چمن بین الاقوامی شاہراہ چار روز قبل قلعہ عبداللہ کے مقام پر کاکوزئی قبیلے کے مسلح افراد نے اس وقت ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بندکردی تھی جب پاکستانی سیکورٹی فورسز کی جانب سے کلی کولک میں ملک کرم خان کاکوزئی کے گھر پر ایک چھاپے کے دوران مبینہ فائرنگ سے ان کا جواں سال بیٹا محمد علی ہلاک ہوا تھا۔

اس واقعہ کے خلاف کاکوزئی قبیلے کے افراد نے سخت احتجاج کیا اور کوئٹہ چمن شاہراہ بند کردی تھی ۔

شاہراہ کی مسلسل بندش کی وجہ سے نہ صرف پاکستان اور افغانستان کے درمیان عام لوگوں کی آمدروفت سخت متاثر ہوئی بلکہ افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کے لیے لاجسٹک سپورٹ بھی معطل ہوگئی تھی اور خوراک ، ایندھن اور دیگر سامان سے لوڈ سینکڑوں کی تعداد میں ٹرک اور کنیٹنر قلعہ عبداللہ اور کوئٹہ کے مقام پر رکے ہوئے تھے۔

کوئٹہ چمن قومی شاہراہ کو کھولنے کےلیے گزشتہ رات چمن اور کوئٹہ کی انتظامیہ نے قلعہ عبداللہ میں کاکوزئی قبیلے کے مشران سے مذاکرات کئے اور ان کو یقین دہانی کرائی کہ جلد ہی محمد علی کی ہلاکت میں ملوث ذمہ دار افراد کے خلاف جلد مقدمہ درج کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں پاکستانی طالبان کی جانب سے نیٹو کے ٹرکوں اور کنیٹنروں پر مسلسل حملوں کے بعد حکومت پاکستان نے تورخم کے راستے نیٹو افواج کے لیے سامان کی ترسیل کا سلسلہ معطل کیا تھا۔

اس کے بعد نیٹو افواج کو لاجسٹک سپورٹ کے لیے چمن کے راستے پر انحصار بڑھ گیا کیونکہ حکومت بلوچستان نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ بلوچستان کے راستے نیٹو کے لیے خوراک اور دیگر اشیاء لے جانے والے ٹرکوں کو افغانستان کی سرحد سپین بولدک تک تحفظ فراہم کیاجائے گا۔

اس سلسلے میں پیر کے روز اسلام آباد میں ورلڈ بینک کے زیر اہتمام افغانستان اور پاکستان کے تاجروں کا اجلاس بھی ہوا تھا جس میں نہ صرف ان ٹرکوں کو تحفظ کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا گیا تھا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان سیکورٹی اور کسٹم سے متعلق مسائل پر بھی تبادلہ خیال ہوا ۔

واضح رہے کہ روزانہ ڈیڑھ سو سے دو سو ٹرک نیٹو افواج کے لیے چمن کے راستے سامان جاتے ہیں جن میں پانی، بسکٹ، گوشت و دیگر خوراک کا سامان اور ایندھن شامل ہوتا ہے ۔

اس کے علاوہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت کراچی پورٹ اور پاکستان کے مختلف علاقوں سے سو کے قریب ٹرک روزانہ افغانستان جارہے ہیں جن میں چاول ، آٹا ، گھی ، چینی اور پھل شامل ہیں۔ جبکہ افغانستان سے بڑے پیمانے پر ڈرائی فروٹ نہ صرف پاکستان آتاہے بلکہ یہاں سے ہندوستان اور خلیجی ممالک کو بھی بھیجا جاتاہے ۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد