’نیٹو افواج پر حملے بڑھیں گے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں طالبان کے رہنما ملا عمر نے کہا ہے کہ ملک میں تشدد میں اضافہ ہوگا اور نیٹو افواج کو واپسی کی تیاری کرنی چاہیے۔ تقریباً ایک سال کی خاموشی کے بعد ایک بیان جاری کرتے ہوئے ملا عمر نے کہا کہ مزید فوج افغانستان بھیجنے کے امریکی فیصلے سے جھڑپوں میں اضافہ ہوگا اور ہلاک یا زخمی ہونے والے غیر ملکی فوجیوں تعداد تیزی سے بڑھے گی۔ ملا عمر نے کہا کہ عسکریت پسندوں کا تعاقب کرتے ہوئے کئی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ غیر ملکی افواج نے عام افغان شہریوں کو ہلاک کیا ہے اور ملا عمر کے مطابق ان کے فوجی ان واقعات پر مشتعل ہیں۔ ادھر امریکی فوجی ذرائع نےکہا کہ آئندہ برس کے اوائل میں افغانستان بھیجی جانے والی اضافی امریکی فوج کابل کے اطراف میں میں تعینات کی جائے گی۔ پہلے مرحلے میں تقریباً ساڑھ تین ہزار فوجی افغانستان بھیجے جائیں گے۔ اس سے قبل اطلاعات تھیں کہ انہیں پاک افغان سرحد پر تعینات کیا جائے گا۔ اس سے قبل اتوار کی صبح سویرے صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں اتحادی افواج کےلیے سامان جانے والی گاڑیوں کے اڈوں پر نامعلوم مسلح افراد کی طرف سے ایک بار پھر حملہ کیا گیا جس میں ایک چوکیدار ہلاک جبکہ دو سو سے زائد کنٹینرز تباہ ہوگئے ہیں۔ حملوں میں بکتر بند اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں راکھ کے ڈھیر میں تبدیلی ہوگئیں ہیں۔ پولیس کے مطابق پشاور کے علاقے رنگ روڈ پر سنیچر کی رات تین سو کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے افغانستان میں اتحادی افواج کو رسد لے جانے والی دو ٹرمینلز (اڈوں) پر راکٹ لانچروں اور دیگر خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا جس سے ٹرمینل کا ایک چوکیدار ہلاک ہوگیا۔ دونوں ٹرمینل تقریباً آمنے سامنے واقع ہیں۔ حملوں میں تقریباً دو سو بیس کے قریب کنٹینرز کو آگ لگائی جو مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہیں۔ تباہ ہونے والی گاڑیوں میں بکتر بند اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ٹرمینل کے ایک چوکیدار کو مسلح افراد نے مزاحمت پر فائرنگ کر کے قتل کردیا۔ کفایت اللہ جان کا کہنا تھا کہ ٹرمینل میں ایک سو چھ گاڑیاں راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئی ہیں جن میں بکتر بند گاڑیاں، فائر بریگیڈ اور دیگر گاڑیاں شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تباہ ہونے والی گاڑیوں میں بیس فٹ اور چالیس فٹ کے کنٹینرز شامل ہیں۔ الفصیل ٹرمینل کے سپر وائزز شاہ ایران نے بتایا کہ ان کے اڈے میں بھی تقریباً ایک سو بیس گاڑیاں مکمل طورپر تباہ ہوگئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ٹرمینل پر پہلے بھی حملہ کیا گیا تھا جس کے بعد سکیورٹی بھی بڑھائی گئی تھی لیکن تین چار سو مسلح افراد کا مقابلہ کون کرسکتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی طرف سے ان کو کوئی تحفظ حاصل نہیں تھا۔ جائے وقوع سے بدستور آگ کا دھواں اٹھ رہا ہے اور کئی کنٹینرز میں آگ لگی ہوئی ہے۔ تباہ ہونے والی زیادہ تر گاڑیاں میں بکتر بند گاڑیاں شامل ہیں۔ پشاور اور قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں اتحادی افواج کو سامان لے جانے والی ٹرکوں پر یہ تیسرا حملہ ہے۔ گزشتہ ماہ بھی خیبر ایجنسی میں بیت اللہ گروپ کی تحریک طالبان نے ایک قافلہ پر حملہ کر کے بارہ ٹرکوں کو عملے کے چھبیس افراد سمیت اغواء کر لیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد پاکستان نے نٹیو افواج کو سامان کی سپلائی چند دنوں کےلیے معطل کردی تھی۔ تاہم کچھ دنوں کے بعد سخت سکیورٹی میں یہ سپلائی بحال کردی گئی۔ چند دن قبل طالبان کے ایک کمانڈر حکیم اللہ محسود نے اورکزئی ایجنسی میں صحافیوں سے ملاقات میں دھمکی دی تھی کہ جب تک قبائلی علاقوں میں امریکی جاسوس طیاروں کے حملے بند نہیں ہوتے وہ نیٹو افواج کو سامان لے جانے والے قافلوں پر حملے کرتے رہیں گے۔ | اسی بارے میں رسد کا متبادل راستہ، ایک چال؟03 April, 2008 | پاکستان ’نیٹو افواج رسد پِیر سے بحال‘16 November, 2008 | پاکستان آئل ٹینکرز کی تباہی، سات گرفتار24 March, 2008 | پاکستان نیٹو رسد، سکیورٹی میں قافلہ روانہ17 November, 2008 | پاکستان ’وزارت خارجہ کو نظر انداز کیا گیا‘ 13 November, 2008 | پاکستان ’انگور اڈہ گولہ باری طالبان نے کی‘12 July, 2008 | پاکستان نیٹو کو تیل کی فراہمی کا انتقام؟26 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||