نیٹو رسد: پاکستان سے نہ گئی تو نقصانات ہوں گے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے راستے افغانستان میں تعینات نیٹو فورسز کے لیے سامانِ رسد لیجانے والے ٹرکوں پر شدت پسندوں کی جانب سے بڑھتے ہوئے حملوں نے بالاخر امریکہ اور نیٹو حکام کو اس بات پر مجبور کردیا کہ وہ افغانستان میں اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیےمتبادل کے طور پر روس اور وسط ایشیائی ریاستوں کے راستے کو استعمال کریں۔ اگرچہ اس سلسلے میں گفت و شنید کافی عرصے سے جاری تھی مگر پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر انچیف جنرل ڈیوڈ پیٹریس نے باقاعدہ اعلان کر دیا ہے کہ انہوں نے روس اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ معاہدہ کرلیا ہے ۔ تاہم انہوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ پاکستان کے راستے سامان لیجانے کے حوالے سے انہوں کیا حکمت عملی اختیار کر لی ہے۔ آیا وہ اس راستے سے اپنی رسد مکمل طور پر بند کرنا چاہتے ہیں یا اس میں کمی لانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ بہرحال یہ بات تو طے ہے کہ امریکی ساز وسامان افغانستان لیجانے کے لیے پاکستان کا راستہ غیر محفوظ ہوگیا ہے اور قوی امکان ہے کہ وہ پاکستان پر مزید تکیہ کرنے سے گریز کرے۔ سوال یہ ہے کہ ایسا ہونے کی صورت میں پاکستان کو کس قسم کا نقصان پہنچ سکتا ہے۔؟ ظاہر ہے کہ پہلا براہ راست نقصان تومعیشت کو ہی پہنچے گا کیونکہ بڑی بڑی کمپنیاں، ٹرانسپورٹرز اور مزدور اس کاروبار سے وابستہ ہیں۔ ٹراسنپورٹ کمپنیوں کے مالکان کا کہنا ہے کہ اس وقت تقریباً ہر ماہ پندرہ سے بیس ہزار ٹرک نیٹو فورسز کے لیےسامانِ رسد لیجانے کے کاروبار سے منسلک ہیں اورایک اندازے کے مطابق صرف ایک ٹرک کے ساتھ دس سے زیادہ افراد کام کرتے ہیں لہذا اگر نیٹو فورسز نے پاکستان کے راستے سامان نہ لیجانے کا فیصلہ کیا تو اس سے تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد کے بے روزگار ہونے کا خدشہ ہے۔
نیٹو فورسز کے لیے سامانِ رسد لیجانے والے ٹرکوں پر شدت پسندوں کی جانب سے پشاور میں کیے جانے والے حملوں نے ٹرانسپورٹ کے شعبے سے منسلک لوگوں کو اتنا ڈرادیا ہے کہ کراچی میں بیٹھے ہوئے لوگوں نے بھی اس شرط پر بات کی کہ انکے نام ظاہر نہیں کیئے جائیں گے۔ ایک ٹرانسپورٹ کمپنی کے مالک نے بتایا کہ اگر امریکہ ایسا کوئی قدم اٹھا تاہے تو نہ صرف ٹرانسپورٹ کے شعبے سے وابستہ افراد کو نقصان پہنچ سکتا ہے بلکہ حکومت کو کراچی پورٹ پر ٹیکس اور طورخم بارڈر تک روڈ ٹیکس کی جو ادائیگی ہوتی ہے اس مد میں سرکاری خزانے کوکروڑوں روپے کا نقصان ہوسکتا ہے۔ ایک اور کمپنی کے اہلکار نے بتایا کہ اس ممکنہ اقدام سے کراچی میں جاری ترقیاتی کاموں پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ ان کے بقول حکومتِ پاکستان نے جب امریکی سامان پر ایکسائز ڈیوٹی لگانے کا ارادہ ظاہر کیا تو اس نے دینے سے انکار کردیا جسکے بعد حکومت نے اسکے بدلے کراچی میں ترقیاتی کاموں کے لیے امدادی فنڈ دینے پر امریکہ کو آمادہ کرلیا۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اس سے پاکستان کو ایک قسم کا سیاسی نقصان بھی پہنچ سکتاہے کیونکہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نہ صرف افغانستان کی سرحد کے ساتھ قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کا صفایا کرنے میں پاکستان پر تکیہ کیا ہوا ہے بلکہ نیٹو فورسز کے لیے سامان لیجانے کے لیے راستہ فراہم کرنے میں بھی اسے حکومتِ پاکستان کی زیادہ ضرورت ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کے ساتھ معاملات طے کرنے میں حکومتِ پاکستا ن کے ساتھ جو کئی دستیاب سیاسی فوائد ہیں اس میں نیٹو فورسز کے لیے سامانِ رسد لیجانا بھی شامل ہے اور ایسا ہونے کی صورت میں پاکستان اسے محروم بھی ہوسکتا ہے۔ | اسی بارے میں نائب صدر بائیڈن اسلام آباد پہنچ گئے09 January, 2009 | پاکستان ’وردی اتروانے میں بائیڈن کااہم کردار‘12 January, 2009 | پاکستان جاسوسوں کی بیخ کنی، ڈرون حملے کم13 January, 2009 | پاکستان شمالی وزیرستان، چھ ’جاسوس‘ قتل20 January, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||