BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 07 January, 2009, 17:16 GMT 22:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عاشورہ پر امن و امان کے انتظامات

 محرم
صوبہ سرحد اور بلوچستان میں یومِ عاشور کے موقع پر ماضی کے مقابلے میں سخت حفاظتی انتظامات کیے جاتے ہیں
پاکستان میں جب سے فرقہ ورانہ فسادات میں بم دھماکوں اور مبینہ خودکش حملوں کا عنصر شامل ہوا ہے تب سے بالعموم ملک بھر میں اور بالخصوص صوبہ سرحد اور بلوچستان میں یومِ عاشور کے موقع پر ماضی کے مقابلے میں سخت حفاظتی انتظامات کیے جاتے ہیں۔

ماضی میں تشدد کے ہولناک تجربوں سے گزرے شہری اس بار اتنے خوفزدہ ہوچکے ہیں کہ صوبہ سرحد کے حساس علاقوں پشاور، ہنگو اور ڈیرہ اسماعیل خان کے شہری یومِ عاشور کے موقع پر گھروں میں رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
صوبہ سرحد کے ضلع ہنگو میں تو عام شہریوں کے خوف کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ساٹھ فیصد لوگ شہر سے نقل مکانی کرچکے ہیں جبکہ دو ہزار چھ کے فسادات میں تقریباً چھ سو دکانوں کے نذرِ آتش ہونے کے بعد اس بار دکانداروں نے اپنا سامان محفوظ جگہوں پر منتقل کردیا ہے۔

دو ہزار تین سے پہلے محرم الحرام کے موقع پر لوگوں میں اتنا خوف دکھائی نہیں دیتا تھا مگر ماتمی جلوسوں اور امام بارگاہوں پر کئی سال تک تسلسل کے ساتھ ہونے والے مختلف نوعیت کے حملوں نے صورتحال کو یکسر بدل دیا ہے۔

اگر دیکھا جائے تو دو مارچ دوہزار تین کو صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں واقع امام بارگاہ پر محرم الحرام کے دوران ہونے والے خودکش حملے کے بعد ہر سال امام بارگاہوں اور ماتمی جلوسوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ کوئٹہ میں ہونے والے اس حملے میں پچاس کے قریب لوگ مارے گئے تھے جو ملک میں کئی دہائیوں سے جاری فرقہ ورانہ فسادات میں خودکش حملے کے استعمال کا شاید پہلا واقعہ تھا۔

دو ہزار تین سے دو ہزار آٹھ تک محرم الحرام کے دوران صوبہ سرحد اور بلوچستان میں اس نوعیت کی آٹھ وارداتیں ہوچکی ہیں جن میں ایک اندازے کے مطابق مجموعی طور پر ایک سو پچھتر افراد ہلاک جبکہ دو سو کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔

صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں دو مارچ دو ہزار تین اور جولائی دو ہزار چار کو لیاقت بازار میں ماتمی جلوس اور امام بارگاہ پر فائرنگ اور مبینہ خودکش حملوں میں بالترتیب پچاس اور بیالیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔ کوئٹہ ہی میں دو ہزار پانچ کو پولیس نے دومبینہ خودکش بمباروں کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا جو پولیس کے دعوے کے مطابق خودکش جیکٹ پہن کر ماتمی جلوس پر حملہ کرنا چاہتے تھے۔


تاہم صوبہ سرحد میں محرم الحرام کے دوران حملوں کا سلسلہ نو فروری دو ہزار چھ کو جنوبی ضلع ہنگو سے اس وقت شروع ہوا جب ایک مبینہ خودکش بمبار نے عاشورہ کے جلوس کو نشانہ بنایا۔اس کے بعد فرقہ ورانہ فسادات پھوٹنے سے پچاس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اس کے اگلے سال یعنی دو ہزار سات کے دوران اس قسم کے حملوں کا دائرہ وسیع ہوکر ڈیرہ اسماعیل خان اور صوبائی دارالحکومت پشاور تک پھیل گیا۔اس سال محرم الحرام کے دوران ہنگو، ڈیرہ اسماعیل او پشاور میں تین مختلف واقعات پیش آئے جن میں مجموعی طور پر سترہ افراد ہلاک جبکہ قریباً چالیس زخمی ہوگئے تھے۔

ان میں ستائیس جنوری کو پشاور کے تاریخی بازار قصہ خوانی میں واقع ڈھکی دلگراں میں ہونے والا مبینہ خودکش حملہ اس لیے قابل ذکر ہے کہ اس نے صوبہ سرحد سے ایک ایسا پولیس افسر ملک سعد کوچھین لیا جنکی شہریوں میں عزت اور احترام کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس واقعے کی برسی کے موقع پر ہر سال پشاور کی سڑکوں پر ان کی ایک بڑی تصویر آویزاں کی جاتی ہے۔

دو ہزار آٹھ میں محرم الحرام کے موقع پر صوبہ سرحد میں دو مختلف واقعات رونما ہوئے تھے جن میں سے ایک جنوبی ضلع ہنگو میں پیش آیا جہاں پر بیس جنوری کو یومِ عاشور کے موقع پر کرفیو کے نفاذ کے باوجود ماتمی جلوس پرفائرنگ ہوئی تھی اور تین اہلکاروں سمیت بارہ افراد زخمی ہوگئے تھے۔

سترہ جنوری دو ہزار آٹھ ہی کو صوبائی دارالحکومت پشاور میں واقع مرزا قاسم بیگ امام بارگاہ پر مجلس کے دوران مبینہ خودکش حملہ ہوا جس میں دس افراد ہلاک اور بیس زخمی ہوگئے تھے۔


پچھلے سال کی طرح اس سال بھی صوبہ سرحد کی حکومت نے نویں اور دسویں محرم کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظام کا دعویٰ کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ صرف پشاور میں چار ہزار سکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔ ہنگو، ڈیرہ اسماعیل خان میں آنے جانے کے زیادہ تر راستوں پر تلاشی لی جا رہی ہے۔ جبکہ پشاور میں ہیلی کاپٹروں سے فضائی نگرانی کی جائے گی لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ اس قسم کے سکیورٹی اقدامات امن و امان قائم رکھ سکیں گے۔ اس کا جواب جمعرات کو دن ڈھلنے کے ساتھ ہی مل جائے گا؟
اسی بارے میں
محرم کے لیے حفاظتی انتظامات
30 December, 2008 | پاکستان
محرم: 50 سے زائد اضلاع حساس
27 December, 2008 | پاکستان
محرم، پینتیس اضلاع حساس
11 January, 2008 | پاکستان
محرم: سرحد میں سکیورٹی سخت
10 January, 2008 | پاکستان
محرم کے لئے حفاظتی انتظامات
26 February, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد