BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 30 December, 2008, 10:57 GMT 15:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
محرم کے لیے حفاظتی انتظامات

 فائل فوٹو
تشدد کے ممکنہ واقعات روکنے کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کیےجائیں گے
سیکریٹری داخلہ سید کمال شاہ نے کہا ہے کہ محرم الحرام کے دوران فوج کو سٹینڈ بائی رکھا گیا ہے جبکہ اس ماہ کے دوران اسحلہ کی نمائش پر پابندی ہوگی۔

منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس میں داخلہ کے بارے میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے موثر اقدامات کر رہی ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ شدت پسندوں پر نظر رکھیں اور کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لیے تمام وسائل بروئےکار لائیں۔

اس سے پہلے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سیکریٹری داخلہ نے کہا کہ ملک کے دارالحکومت سمیت اہم مقامات پر حفاظتی اقدامات کو مذید موثر بنانے کے لیے ایک نیا سکیورٹی پلان ترتیب دیا گیا ہے جو کہ آئندہ سال سے نافذ کردیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اہم سرکاری عمارتوں پر سکیورٹی مزید سخت کر دی جائے گی۔ اس کے علاوہ اسلام آباد میں داخلے کے راستے ایک سو سے کم کرکے 20 کر دیئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بارود سے بھری ہوئی گاڑیوں کا پتہ چلانے کے لیے آلاًت کی تنصیب ابھی نہیں ہوسکی ہے تاہم حکومت اس ضمن میں مختلف ملکوں کے ساتھ ان آلات کی خریداری کے بارے میں مذاکرات کر رہی ہے۔

ماضی میں کئی مرتبہ محرم کے دوران تشدد کے واقعات ہوئے ہیں

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد سمیت دیگر شہروں میں جدید آلات نصب کیے جائیں گے جس سے چوری کی اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کا سراغ لگانے میں مدد ملے گی۔

سیکرٹری داخلہ نے کہا نیا سکیورٹی پلان جلد ہی وفاقی کابینہ سے منظور کروالیا جائے گا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے چئرمین طلحہ محمود نے موبائل کنکشن والی کمپنیوں سے کہا کہ وہ 31 دسمبر تک وہ تمام سم بند کردیں جو رجسٹرڈ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کو فراہم کیے جانے والے اعدادوشمار کے مطابق ایک کروڑ بارہ لاکھ سے زائد غیر رجسٹرڈ شدہ سم بند کی جاچکی ہیں۔

اجلاس میں کمیٹی کے چئرمین نے نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی سے کہا کہ وہ اس بات کی تحقیقات کرے کہ ہزاروں افغان باشندوں کو پاکستانی شناختی کارڈ کس طرح جاری کیے گئے۔

اُدھر وزارت داخلہ کے حکام کا کہنا ہے کہ ممبئی میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعات کے الزام میں گرفتار ہونے والے اجمل قصاب کی شہریت اور دیگر امور کی تحقیقات ملک کی ایک اہم انٹیلیجنس ایجنسی کر رہی ہے جو کہ دو تین یوم میں مکمل ہوجائے گی۔

وزارت داخلہ کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ بات اُن کے علم میں آئی ہے کہ بھارتی اداروں کی تحویل میں اجمل قصاب سے ایک موبائل سم بھی برآمد ہوئی ہے جو آسٹریا سے جاری ہوئی تھی۔

اسی بارے میں
محرم، پینتیس اضلاع حساس
11 January, 2008 | پاکستان
لاہور میں فوج کا گشت شروع
16 February, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد