ممبئی حملہ’ شواہد‘ پاکستان کے حوالے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت نے ممبئی حملوں میں ملوث پاکستانیوں کے حوالے سے ’شواہد‘ پاکستان کے حوالے کر دیئے ہیں۔ پاکستان کی حکومت نے ’معلومات‘ مہیا کیے جانے کی تصدیق کی ہے۔ ادھر اعلی امریکی سفارت کار رچرڈ باؤچر سوموار کے روز اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ اسلام آباد میں پاکستانی وزارت خارجہ نے ایک مختصر بیان میں بھارتی حکومت سے ’معلومات‘ موصول ہونے کی تصدیق کی ہے۔ بیان کے مطابق دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کو فراہم کی گئی ان معلومات کا متعلقہ حکام جائزہ لے رہے ہیں۔ تاہم بیان میں بھارت کی جانب سے فراہم کی گئی معلومات کی تفصیل نہیں بتائی گئی ہے۔ دوسری طرف بھارتی ذرائع ابلاغ فراہم کی گئی معلومات کے لیے ممبئی حملوں کے ’شواہد‘ کا لفظ استعمال کر رہے ہیں۔ ادھر ان معلومات کے تبادلے کے موقع پر امریکہ کے جنوبی ایشیا کے لیے نائب وزیر خارجہ رچرڈ باؤچر اسلام آباد میں موجود ہیں اور پاکستانی صدر اور وزیر اعظم سمیت دیگر اعلٰی حکام سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ سفارتی مبصرین دہلی میں معلومات کی فراہمی اور امریکی سفارت کار کی اسلام آباد میں موجودگی کو اہم قرار دے رہے ہیں۔ خیال ہے کہ اس دورے میں بھارت کے ساتھ کشیدگی میں کمی اور دہشتگردی سے متعلق امور پر بات چیت ہو گی۔ بھارتی حکومت ممبئی حملوں کی ذمہ داری کالعدم تنظیم لشکر طیبہ پر ڈالتے ہیں۔ تاہم پاکستان مبینہ طور پر ملوث شدت پسندوں کے خلاف مزید کارروائی کے لیے شواہد کا تقاضہ کرتا چلا آ رہا ہے۔ مبصرین کے خیال میں دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان ان معلومات کو شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے کس قدر ٹھوس پاتا ہے۔ دوسری جانب بھارتی وزیر خارجہ برنب مکھرجی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے ممبئی حملوں میں پاکستانی دہشت گردوں کے ملوث ہونے کے شواہد پاکستان کو دے دیے ہیں۔
اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارت دیگر دوست ممالک کو ممبئی حملوں کی تحقیقات کے حوالے سے مطلع کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس بیان میں مزید کہا ہے کہ انہوں نے دیگر دوست ممالک کے وزرائے خارجہ کو خط لکھے ہیں جن میں ممبئی حملوں کی تفصیلات اور اس حوالے سے تحقیقات میں ملے شواہد بیان کیے گئے ہیں۔ اس بیان میں کہا گیا ہے اگلے چوبیس گھنٹے میں بھارتی وزارت خارجہ بھارت میں تمام سفیروں کو بریفنگ دے گا اور دوسرے ممالک میں تعینات بھارتی سفیر بھی اسی طرز پر بریفنگ دیں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان اپنے دو طرفہ معاہدوں پر عملدرآمد کرے اور بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرے۔ |
اسی بارے میں بھارت، ابھی سب اچھانہیں ہے:قریشی04 January, 2009 | پاکستان ’ممکنہ بھارتی حملے کی اطلاعات تھیں‘ 01 January, 2009 | پاکستان ’حملہ آوروں سےروابط کااعتراف‘31 December, 2008 | پاکستان اسلام آباد: سفارتی مصروفیات تیز26 December, 2008 | پاکستان جنگ نہیں، لیکن امن بھی نہیں ہوگا23 December, 2008 | پاکستان پاکستان اپنا دفاع کرنا جانتا ہے:گیلانی27 December, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||