BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 04 January, 2009, 17:12 GMT 22:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارت، ابھی سب اچھانہیں ہے:قریشی

وزیر خارجہ شاہ محمود
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی تبدیلی کی کوئی بات نہیں: قریشی
پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں کمی آئی ہے اور حالات بہتری کی طرف جا رہے ہیں تاہم ابھی سب اچھا نہیں ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے آبائی شہر ملتان میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ممبئی دھماکوں کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جاری مذاکرات کا عمل تعطل کا شکار ہوا ہے لیکن حکومت پاکستان کی یہ اولین کوشش ہوگی کہ مذاکرات کے عمل میں جو تعطل پیدا ہوا ہے اس کو ختم کیا جائے تاکہ تعلقات معمول کی طرف آئیں۔

شاہ محمود قریشی کے بقول پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جب کشیدگی نے جنم لیا تو حکومت پاکستان کے تین مقاصد تھے اور پاکستان اپنے ان مقاصد کے قریب پہنچا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کا پہلا مقصد جنگ سے بچنا، دوسرا مقصد پاکستان عالمی سطح پر تنہا نہ ہوجائے اور تیسرا مقصد اندرونی عدم استحکام سے بچاؤ ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ دہشت گردی نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے اور دہشت گردی کا واقعہ پاکستان، ہندوستان یا خطے کے کسی علاقے میں ہوسکتا ہے۔

سنگین نوعیت کا واقعہ
 ہمیں حقائق کو تسلیم کرنا ہوگا کیونکہ ایک سنگین نوعیت کا واقعہ ہوا ہے اور ایسا حل تلاش کرنا ہے تاکہ ایسا واقعہ دوبارہ نہ ہو۔
شاہ محمود قریشی
وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کے دوستوں اور اہم قوتوں نے مثبت کردار ادا کیا ہے جس سے کشیدگی میں کمی آئی ہے لیکن بقول ان کے مسئلہ ابھی اپنی جگہ موجود ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’ہمیں حقائق کو تسلیم کرنا ہوگا کیونکہ ایک سنگین نوعیت کا واقعہ ہوا ہے اور ایسا حل تلاش کرنا ہے تاکہ ایسا واقعہ دوبارہ نہ ہو۔‘

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی پالیسی ہے کہ اس کے اپنے پڑوسیوں سے اچھے تعلقات ہوں۔ ان کے بقول بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات پاکستان کے مفاد میں ہیں اور اس طرح استحکام پیدا ہوگا جس سے پاکستان کے فائدے میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان ملزموں کے تبادلے کا معاہدہ تو ہے لیکن بھارت کے ساتھ پاکستان کا ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہے۔

ایک سوال پر شاہ محمو د قریشی نے کہا کہ اسرائیل عزہ پر فضائی اور زمینی حملے فوری طور پر بند کرے اور مسئلہ کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔

بینظیر بھٹو قتل کے بارے میں قریشی کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ نے فیصلہ کر لیا ہے کہ قتل کی چھان بین کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہوسکتا ہے کہ آصف علی زرداری کے علم میں بینظیر بھٹو قتل کے بارے میں کچھ باتیں ہوں اور ہوسکتا ہے کہ وہ کسی فورم پر اپنا موقف پیش کریں کیونکہ اس قسم کی معلومات پریس کانفرنس میں پیش کرنے کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی تبدیلی کے بارے میں سوال پر وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔

08 میں ’نیا‘ کیا؟
عام انتخابات اور نئی پارلیمانی روایات کا سال
پاکستانی فنکار کاشف خانہند پاک کشیدگی
ٹوٹے رشتے فنکار ہی جوڑ سکتے ہیں: مہیش بھٹ
بہار کا ’پاکستان‘
تقسیم کے بعد نام پڑا جو پھر نہیں بدلا
ممبئی حملےکس کے خلاف۔۔۔
ممبئی حملے اور جہادیوں کے اصل مقاصد
خدیجہمحبت کی ٹرین
’کوئی معاملہ لڑائی سے حل نہیں ہو سکتا‘۔
اگر پاکستان ۔ ۔ ۔
جنگ نہیں ہو گی لیکن امن بھی نہیں ہو گا!
ممبئیپاکستان اہم ہے
افغانستان کا حل پاک، بھارت امن سے جڑا ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد