BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 31 December, 2008, 13:06 GMT 18:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’حملہ آوروں سےروابط کااعتراف‘
ذکی لکھوی(فائل فوٹو)
اطلاعات کے مطابق ذکی لکھوی کو بھارت کے حوالے کرنے کے لیے پاکستان کو امریکی دباؤ کا سامنا ہے
امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل کے مطابق ممبئی حملوں کے حوالے سے پاکستانی ایجنسیوں کی تحقیقات میں حملہ آوروں اور کالعدم تنظیم لشکرِ طیبہ کے درمیان روابط کا انکشاف ہوا ہے۔

جریدے میں پاکستانی سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے شائع ہونے والی ایک خبر میں کہا گیا ہے کہ دسمبر کے اوائل میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں لشکرِ طیبہ سے تعلق رکھنے والے جن رہنماؤں کوگرفتار کیا گیا تھا ان میں سے ایک اہم رہنما ضرار شاہ نے دورانِ تفتیش ممبئی حملوں میں اپنی تنظیم کے کردار کا اعتراف کر لیا ہے۔

وال سٹریٹ جرنل کے مطابق سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ ضرار شاہ کے
اعتراف کے علاوہ امریکی اداروں کے پاس ایک ایسی ٹیلیفونک گفتگو بھی ریکارڈ ہے جس میں ضرار شاہ اور تاج محل ہوٹل پر حملہ کرنے والوں میں شامل ایک شخص کی باتیں شامل ہیں۔

وال سٹریٹ جرنل کے علاوہ جنوبی ایشیا میں کچھ اخبارات میں ایسی خبریں بھی شائع ہوئی ہیں کہ ممبئی حملوں کے مبینہ سرغنہ ذکی الرحمٰن لکھوی کو بھارت کے حوالے کرنے کے لیے پاکستان کو امریکی دباؤ کا سامنا ہے۔

اس سلسلے میں جب بی بی سی اردو کے نامہ نگار اعجاز مہر نے صدرِ پاکستان کے ترجمان فرحت اللہ بابر سے رابطہ کیا تو انہوں نے ذرائع ابلاغ میں چھپنے والی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ لشکرِ طیبہ کے گرفتار شدہ رہنماؤں کو بھارت کے حوالے کرنے کے لیے امریکہ کا پاکستان پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔

ممبئی حملوں میں دو سو سے کچھ کم افراد ہلاک ہوئے تھے

صدر کے ترجمان نے کہا کہ بھارت کے ساتھ پاکستان کا ملزمان کے تبادلے کا کوئی معاہدہ موجود نہیں اور اگر بھارت نے کسی پاکستانی کے ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوت پیش کیے تو ان کے خلاف پاکستانی قوانین کے تحت ملک کے اندر کارروائی ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ’اس بار کسی کے خلاف بھی پکے ثبوت ملنے کی صورت میں کارروائی ایسی ہوگی جو پوری دنیا کو نظر آئے گی‘۔

ادھر بھارت کے وزیرِ مملکت برائے امورِ خارجہ آنند شرما نے کہا ہے کہ ’پاکستان کو چاہیے کہ وہ انکار کی بجائے ذمہ دار افراد کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے‘۔ چندی گڑھ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ ہم نے پاکستان کو کافی ثبوت دے دیے ہیں اور یہ بات قابلِ مذمت ہے کہ پاکستان ان ثبوتوں کو ماننے سے انکار کر کے عالمی برادری کی بھی توہین کر رہا ہے‘۔

یاد رہے کہ چھبیس نومبر کو ممبئی میں حملوں کے بعد پاکستانی حکام نے دسمبر کے اوائل میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے کالعدم تنظیم لشکرِ طیبہ کے رہنماؤں ذکی الرحمان لکھوی اور ضرار شاہ کو حراست میں لے لیا تھا جبکہ مذہبی تنظیم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو ان کی رہائشگاہ پر نظربند کر دیا گیا تھا۔

ذکی الرحمان لکھوی ذکی لکھوی کون؟
ذکی الرحمٰن لکھوی نے اب تک کیا کیا؟
جماعتہ الدعوۃ’عالمی دباؤ پر‘
الدعوۃ کے خلاف پابندیاں اور سوالات
حافظ محمد سعیدحافظ سعید کا سفر
رسالہ ’الدعوۃ‘ سے جماعتہ الدعوۃ تک
تحریکوں کا نرو سینٹر
لشکرِ طیبہ کے دو الگ الگ رخ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد