BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 January, 2009, 19:19 GMT 00:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ممکنہ بھارتی حملے کی اطلاعات تھیں‘

شاہ محمود قریشی
جب ہمیں پتہ چلا کہ بھارت نیوی کے جہازوں کو مشرقی کمانڈ سے مغربی کمانڈ میں منتقل کر رہا ہے تو ہم نے بھی دفاعی حکمت عملی اپنائی‘
پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ممبئی حملوں کی تحقیقات میں بھارت کے ساتھ تعاون کا عزم دہراتے ہوئے کہا ہے کہ ممبئی حملوں کے متعلق پاکستان کی تحقیقات میں پیش رفت ہوئی ہے لیکن اسے اب بھی بھارت کی جانب سے شواہد کا انتظار ہے۔

انہوں نے پاکستان کے نجی ٹی وی چینل جیو کو ایک انٹرویو میں کہا کہ
پاکستان کو معلومات ملی تھیں کہ ممبئی حملوں کے بعد بھارت چنیدہ علاقوں پر حملے (سرجیکل اسٹرائیکس) کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہا تھا لیکن پاکستان مؤثر حکمت عملی کے ذریعے کشیدگی کو کم کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

ممبئی حملوں کے بعد پاکستان میں ہونے والی گرفتاریوں کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ ’ہم نے (تحقیقات میں) پیش رفت کی ہے اور ہم اپنی پیش رفت کا جائزہ لے رہے ہیں۔ جو دنیا ہمیں کہہ رہی ہے ہم اس کا جائزہ لیں گے اور ہندوستان جو شواہد جمع کر رہا ہے ہم اس کو دیکھنے کے بعد جو پاکستان کے مفاد میں جو ہوگا وہ کریں گے۔‘

ایک سوال کے جواب میں پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’ممبئی حملوں کے تانے بانے چاہے پاکستان سے جڑیں۔ ہم اس سے فرار اختیار نہیں کرسکتے کیونکہ پاکستان کی ساکھ داؤ پر ہے اور میں بحیثیت وزیر خارجہ کہوں گا کہ ہم پاکستان کی ساکھ کو داؤ پر نہیں لگائیں گے۔‘

مقدمے پاکستان میں
 ہمارے اپنے کچھ قوانین ہیں اور ہم ان کے تحت چلیں گے ہندوستان اور پاکستان میں ملزمان کے تبادلے کا معاہدہ نہیں ہے اور ہمارے قوانین اس کی اجازت نہیں دیتے۔فرض کیجیے کہ اگر کوئی پاکستانی شہری ممبئی حملوں میں ملوث بھی ہیں تو پاکستان کا ایک عدالتی نظام ہے، ہماری عدالتیں ہیں ہم ان پر مقدمے چلائیں گے لیکن اپنے قوانین کے تحت اور پاکستان کے اندر۔
شاہ محمود قریشی
بھارتی وزیر خارجہ پرنب مکھرجی کے اس بیان پر کہ بھارت نے پاکستان کے ساتھ کشیدگی نہیں بڑھائی پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’بھارت کا سرکاری مؤقف یہی ہے لیکن ہماری اطلاعات اس کے برعکس ہیں۔ جب ہمیں یہ پتہ چلا کہ بھارت نیوی کے جہازوں کو مشرقی کمانڈ سے مغربی کمانڈ میں منتقل کیا جارہا ہے اور کئی اور اطلاعات بھی ایسی ہیں جن کو میں نہیں بتا سکتا لیکن وہ ایسی تھیں جن پر ہمیں سنجیدگی سے غور کرنا تھا اس لیے پاکستان نے دفاعی حکمت عملی اپنائی۔‘

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان پہلے دن سے بھارت کے ساتھ تعاون کرنے پر تیار ہے اور یہی وجہ تھی کہ پاکستان نے لشکر طیبہ کی قیادت کے کچھ لوگوں کو حراست میں لیا ہے۔

تاہم انہوں نے بات کی تردید کی کہ کالعدم تنظیم جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر پاکستانی سکیورٹی ایجنسیز کی تحویل میں ہیں۔

’مولانا مسعود اظہر ہمارے پاس نہیں ہیں، نہ ہماری تحویل میں ہیں نہ ہمیں پتہ ہے کہ وہ کہاں ہے لیکن ہم ان تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

پاکستان سے ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کے شبہ میں مطلوب افراد کو حوالے کرنے کے بھارتی مطالبے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ’ہندوستان کی طرف سے اس قسم کے بیانات آتے رہے ہیں لیکن ہمارے اپنے کچھ قوانین ہیں اور ہم ان کے تحت چلیں گے ہندوستان اور پاکستان میں ملزمان کے تبادلے کا معاہدہ نہیں ہے اور ہمارے قوانین اس کی اجازت نہیں دیتے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’فرض کیجیے کہ اگر کوئی پاکستانی شہری ممبئی حملوں میں ملوث بھی ہیں تو پاکستان کا ایک عدالتی نظام ہے، ہماری عدالتیں ہیں ہم ان پر مقدمے چلائیں گے لیکن اپنے قوانین کے تحت اور پاکستان کے اندر۔‘

سرجیت کی پھانسی
پاکستانی جیل میں سزائے موت کے منتظر مبینہ بھارتی جاسوس سرجیت سنگھ کو پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کی جانب سے معافی دینے کے امکان کو رد نہیں کیا اور یہ کہا کہ اچھے تعلقات کی بحالی کے لئے سب کچھ ممکن ہے
وزیر خارجہ

’اگر ممبئی حملوں میں پاکستان کے غیرریاستی عناصر ملوث بھی ہوئے تب بھی ہم تعاون کریں گے اور پیچھے نہیں ہٹیں گے لیکن اس کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان رابطے اور بات چیت کا بحال ہونا ضروری ہے۔‘

انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان ایٹمی تنصیبات کی فہرستوں کے تبادلے کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ یہ دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان اعتماد سازی کا اقدام ہے۔

وزیر خارجہ نے امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل میں شائع ہونے والی اس خبر کی تردید نہیں کی کہ کالعدم تنظیم کے ضرار شاہ کو پاکستانی سکیورٹی ایجنسیوں نے گرفتار کیا ہے اور اس نے تفتیش کے دوران ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی کرنے کا اعتراف کیا ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ اس خبر پر تبصرہ کرنے سے ممبئی حملوں کی پاکستان میں جاری تحقیقات کا عمل متاثر ہوسکتا ہے۔

امریکہ سے پاکستان کے تعلقات کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’ہم امریکہ سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں اور یہی پاکستان کے مفاد میں ہے کہ امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات ہوں لیکن ہم پاکستان کے قومی مفادات قربان نہیں کریں گے خواہ امریکہ ناراض ہو یا راضی۔‘

انہوں نے پاکستانی جیل میں سزائے موت کے منتظر مبینہ بھارتی جاسوس سرجیت سنگھ کو پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کی جانب سے معافی دینے کے امکان کو رد نہیں کیا اور یہ کہا کہ اچھے تعلقات کی بحالی کے لیے سب کچھ ممکن ہے۔

انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ افغانستان میں بھارت اور پاکستان کی پروکسی وار چل رہی ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ عنقریب صدر زرداری کابل جا رہے ہیں جبکہ پاکستان نے افغانستان کو مستقبل کے تعلقات کے حوالے سے ایک دستاویز بھیجی ہے اور اگر اسے قبول کرلیا گیا تو وہ دونوں ملکوں کے درمیان اچھے تعلقات کی بہتری کی بنیاد بنے گا۔

اسی بارے میں
’ہم اپنی جنگیں خود لڑیں گے‘
27 December, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد