BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی تشدد، ٹرائبیونل قائم

حالیہ تشدد میں درجنوں افراد ہلاک ہوگئے تھے
کراچی میں حال ہی میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل انکوائری ٹرائبیونل قائم کردیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ ہاؤس کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ کے رٹائرڈ جج علی محمد بلوچ کی سربراہی میں ایک رکنی انکوائری ٹرائبیونل قائم کیا گیا ہے، جو ایک ماہ کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گا۔

وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاھ کی جانب سے رٹائرڈ جج کا نام سامنے آیا تھا۔ صوبائی محکمہ داخلہ نے پیر کی شام تک ٹرائبیونل کے دائرہ اختیار کا نوٹیس جاری نہیں کیا ہے ۔

شہر میں چار روز تک جاری رہنے والی اس ہنگامہ آرائی میں بتیس سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے اور شہر میں معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے تھے۔ اس ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد یا گروہوں کی نہ تو پولیس نہ شناخت کی اور نہ ہی حکومت نے کسی طرف اشارہ کیا۔ تمام واقعات کے مقدمات نامعلوم افراد کے خلاف دائر کیئے گئے تھے۔

شہر میں قیام امن کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے کل جماعتی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں واقعات کی جوڈیشل انکوائری پر اتفاق کیا گیا تھا۔

صوبائی وزیر قانون ایاز سومرو کا کہنا ہے کہ یہ انکوائری کمیشن دوسرے کمیشنوں کی طرح نہیں ہے جن کی رپورٹ ہی نہیں آتی تھی۔

واضح رہے کہ ماضی میں پیپلز پارٹی کی چئرپرسن بینظیر بھٹو کے بھائی میر مرتضیٰ بھٹو کی مبینہ پولیس فائرنگ میں ہلاکت، نشتر پارک میں مذہبی اجتماع میں بم دھماکوں، اٹھارہ اکتوبر کو بینظیر بھٹو کے استقبالیہ جلوس پر بم حملے اور نو اپریل کو تشدد اور وکلا کو زندہ جلانے کے واقعات کے لیے بھی عدالتی ٹرائبیونل قائم کیےگئے تھے۔

ان میں سے صرف مرتضیٰ بھٹو ٹرائبیونل اپنی کارروائی مکمل کرسکا تھا تاہم اس میں بھی ملزمان کا تعین نہیں ہوسکا تھا۔

اسی طرح بارہ مئی 2007 کو سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی کراچی آمد کے موقع پر ہونے والے تشدد کے واقعات کے متعلق درخواستیں سندھ ہائی کورٹ نہ یہ کہتے ہوئے نمٹادیی تھیں کہ کسی آئینی درخواست کی بنیاد پر ہائی کورٹ تفتیش نہیں کرسکتی۔

اس صورتحال میں شہر میں ہونے والے بڑے واقعات اور خونریزی کے ملزمان نہ تو کبھی گرفتار ہوئے اور نہ ہی کبھی ان کی شناخت ہوسکی۔

اسی بارے میں
دیکھتے ہی گولی مارنے کاحکم
29 November, 2008 | پاکستان
کراچی، غریب، معصوم نشانے پر
02 December, 2008 | پاکستان
کراچی میں ایدھی کی امن ریلی
03 December, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد