کراچی: سِول سوسائٹی کی مشعل برداری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں فسادات اور تیس سے زائد افراد کی ہلاکت کے خلاف سول سوسائیٹی کی تنظیموں اور این جی اوز نے جمعرات کو شہر میں مشعل بردار ریلی نکالی، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ شہر کو اسلحے سے پاک کیا جائے۔ شہر کی این جی اوز، ٹریڈ یونین اور انسانی حقوق کمیشن پر مشتمل جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے کراچی پریس کلب کے باہر منعقد کی جانی والی ریلی میں امن کے ترانےگائے گئے۔ ریلی سے قبل انسانی حقوق کمیشن کے رہنما اقبال حیدر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طالبانائزیشن کراچی کے لیے نہیں پورے ملک کے لیے خطرہ ہے مگر اس کی بنیاد پر نسلی ہنگامہ آرائی کا کوئی جواز نہیں بنتا ہے۔ ویمن ایکشن فورم کی رہنما انیس ہارون کا کہنا تھا کہ ’شہر کو اسلحے سے پاک ہونا چاہیئے، اس سے پہلے بھی کئی بار یہ مطالبات ہوتے رہے ہیں مگر حکومت اس طرف تبھی توجہ دے گی جب یہ آواز گلی گلی سے اٹھے گی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ یہ بڑے شرم کی بات ہے کہ ہم کاسموپولیٹن شہر میں رہتے ہیں اور اپنے معاشی مفادات کے تحفظ اور وسائل کی برابر تقسیم کے بجائے اس کو لسانی رنگ دے دیں اور لسانی فسادات کرائیں۔‘ سول سوسائٹی کی تنظیموں نے حکومت کی جانب سے شہر میں امن اور ہم آہنگی کے لیے بنائی گئی امن کمیٹیوں کو بھی رد کردیا۔ مزدور رہنما لیاقت ساہی کا کہنا تھا کہ ’اس کمیٹی میں جب تک سٹیک ہولڈر محنت کش اور سول سوائیٹی کو شامل نہیں کیا جاتا یہ بے معنی ہے۔۔۔ یہ نام نہاد حکومت جس کی چھتری کے نیچے لوگوں کا قتل ہوا ہے وہ لوگوں کو کیا تحفظ دیں گے۔‘ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ جو لوگ نسلی اور فرقہ وارنہ نفرتوں کو بڑھاوا دے رہے ہیں وہ عوام کے دشمن ہیں۔ کمیٹی کی جانب سے سنیچر کے روز محمد علی جناح کی مزار سے امن ریلی نکالنے کا بھی اعلان کیا گیا۔ |
اسی بارے میں کراچی میں ایدھی کی امن ریلی03 December, 2008 | پاکستان کراچی، ٹرانسپورٹ کم لوگ پریشان02 December, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||