کراچی جہاں سنی تحریک اور ایم کیو ایم کے مبینہ حامیوں کے درمیان ٹارگٹ کلنگ کے چھ ماہ سے جاری میچ میں تاحال مختلف اندازوں کے مطابق دو سو سے ڈھائی سو کے لگ بھگ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ وہاں گذرے سنیچر انتیس نومبر سے تشدد نے ایک اور خطرناک موڑ لیا ہے۔ بقول عوامی نیشنل پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور مقامی میڈیا بے چہرہ، گمنام اور نامعلوم عناصر نے چار روز میں تیس کے لگ بھگ افراد کو ہلاک اور قریباً دو سو کو زخمی کردیا ہے۔درجنوں گھر، دوکانیں، کارخانے اور گاڑیاں نذرِ آتش ہوچکی ہیں۔ پولیس کو اگرچہ کسی بھی مسلح شخص کو دیکھتے ہی گولی مارنے کے احکامات مل چکے ہیں لیکن پولیس کے بجائے مسلح لوگ اس ہدایت پر زیادہ عمل کر رہے ہیں۔ اس وقت ڈیڑھ کروڑ آبادی کے شہر میں چھتیس ہزار سپاہیوں پر مشتمل پولیس کی ساری توجہ موٹر سائیکل پر ڈبل سواری کی خلاف ورزی کرنے والوں کو حراست میں لے کر مقدمات درج کرنے پر ہے۔ جبکہ پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور عوامی نیشنل پارٹی پر مشتمل مخلوط صوبائی حکومت کا خیال ہے کہ متاثرہ علاقوں کے چند پولیس افسران کا تبادلہ کرنے سے حالات قابو میں آ جائیں گے۔ اگرچہ مخلوط حکومت میں شامل تمام جماعتیں موجودہ حالات کے بگاڑ سے لاتعلقی ظاہر کررہی ہیں اور کسی تیسرے فریق کو الزام دے رہی ہیں لیکن خود اتحادیوں کے درمیان بھی تعلقات کشیدہ ہیں۔ مثلاً سندھ کے وزیرِ داخلہ ذوالفقار مرزا نے اسمبلی کے فلور پر کہا ہے کہ اگر اس ایوان میں موجود اتحادی چاہیں تو چھ گھنٹے میں شہر کے حالات درست ہوسکتے ہیں۔ وزیرِ داخلہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ شہر کی پولیس میں ماضی قریب میں جس مخصوص طریقے سے بھرتیاں کی گئیں ان کے سبب پولیس حالات پر کنٹرول نہیں کر پا رہی۔
 | اگر اتحادی چاہیں تو ۔ ۔ ۔  سندھ کے وزیرِ داخلہ ذوالفقار مرزا نے اسمبلی کے فلور پر کہا ہے کہ اگر اس ایوان میں موجود اتحادی چاہیں تو چھ گھنٹے میں شہر کے حالات درست ہوسکتے ہیں  |
اگرچہ کراچی میں نسلی و مذہبی کشیدگی پختون مہاجر جھگڑوں کے روپ میں انیس سو چونسٹھ میں ایوب خان اور محترمہ فاطمہ جناح کے صدارتی انتخابات میں ایوب خان کی متنازعہ جیت کے ردِ عمل میں شروع ہوئی تھی۔ پھر ایک طویل وقفے کے بعد سن بہتر میں اردو سندھی لسانی جھگڑے اور بعد ازاں سن اسی کے عشرے کے وسط میں ضیا الحق کے مارشل لائی دور میں شیعہ سنی اور پھر پٹھان پنجابی مہاجر اور پھر سندھی مہاجر فسادات کی شکل میں اس کشیدگی نے بھیانک طریقے سے سر اٹھایا جس میں سینکڑوں لوگ مارے گئے۔ تاہم کراچی کے بعض واقفانِ حال کا خیال ہے کہ تازہ کشیدگی کے ڈانڈے گذشتہ برس بارہ مئی کے واقعات سے ملتے ہیں جب معزول چیف جسٹس کے استقبال کی ایم کیو ایم اور ریاستی اداروں کی جانب سے مسلح مزاحمت کے نتیجے میں باون کے لگ بھگ افراد ہلاک ہوئے۔ اس وقت عوامی نیشنل پارٹی کے مقامی حلقوں نے الزام لگایا تھا کہ اس قتل و غارت میں زیادہ تر پٹھانوں اور ان کی املاک کو نشانہ بنایا گیا۔جبکہ ایم کیو ایم جو اس وقت بھی حکومت کا حصہ تھی اس نے اپنے حامیوں کی ہلاکت کے بھی ثبوت پیش کیے۔ لیکن ان واقعات کے نتیجے میں جو پختون ایکشن کمیٹی وجود میں آئی تھی اسے حکومت کی جانب سے مبینہ طور پر چالیس کروڑ روپے زرِ تلافی کی پیش کش ہوئی۔ لیکن کتنے پیسے کسے ملے۔ متاثرین کو کتنے پہنچے خدا بہتر جانتا ہے۔ اس معافی و زرِ تلافی کے بعد بظاہر کچھ عرصے کے لیے سیاسی و نسلی کشیدگی کم ہوگئی اور معاملہ رفع دفع ہوگیا۔ تاہم کچھ سیاسی ذرائع کے مطابق دونوں جانب آنے والوں دنوں کے خدشات کے سبب تیاری جاری رہی اور یہ بات پولیس اور سراغرساں اداروں کے علم میں بھی تھی۔گذشتہ چار پانچ ماہ سے ایم کیو ایم کے حلقوں کی جانب سے یہ بات تواتر کے ساتھ کہی جانے لگی کہ دہشت گردی سے متاثرہ وزیرستان سمیت قبائیلی علاقوں سے نقلِ مکانی کی آڑ میں طالبان کراچی پہنچ رہے ہیں تاکہ یہاں بھی تشدد بھڑکایا جاسکے۔ لہذا ایم کیو ایم کے حامیوں کو حالات کا مقابلہ کرنے کی ہر طرح سے تیاری کرنی ہوگی۔ جب کہ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت مسلسل کہتی رہی کہ کراچی میں طالبان خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے اور عوامی نیشنل پارٹی کے حلقوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ طا لبان کے خطرے کی آڑ میں بعض عناصر شہر میں سن اسی کے عشرے کی طرح نسلی فسادات کروانا چاہتے ہیں۔ مذکورہ تمام سیاسی کرداروں کے خدشات اور انتباہ کے باوجود ان چار پانچ ماہ کے دوران انٹیلی جنس اور انتظامیہ کی سطح پر کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔ ان اداروں نے جس طرح سنی تحریک اور ایم کیو ایم کے ٹارگٹ کلنگ مقابلوں سے صرفِ نظر کیا اسی طرح کا طرزِ عمل موجودہ بے نام نسلی و لسانی تشدد کے معاملے میں برتا جا رہا ہے۔
 | گویا سب کچھ اچانک سے ہوا ہو  بعض تبصرہ نگار اور سیاسی رہنما اب یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں گویا یہ سب کچھ اچانک سے ہوا ہو اور اس کے ڈانڈے ممبئی کے واقعات سے ملائے جا رہے ہیں  |
گذشتہ دو ماہ سے ہر اس شخص کو جو خبروں پر تھوڑی سی بھی نگاہ رکھتا ہے معلوم تھا کہ کراچی میں کوئی بڑی گڑبڑ ہونے والی ہے لیکن بعض تبصرہ نگار اور سیاسی رہنما اب یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں گویا یہ سب کچھ اچانک سے ہوا ہو اور اس کے ڈانڈے ممبئی کے واقعات سے ملائے جا رہے ہیں اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ چونکہ بھارت کو کراچی کا امن تہہ و بالا کرنا مقصود تھا اس لیے اس نے ممبئی ایکشن کے ذریعہ اس کا جواز پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ کچھ دنوں بعد عیدِ قرباں آنے والی ہے۔گذشتہ کئی برس سے کراچی میں قربانی کی کھالوں کی مسلح چھینا جھپٹی معمول بن چکی ہے۔ اگر اگلے چند روز میں کشیدگی کا گراف گھٹنے کے بجائے مزید بڑھتا ہے تو اس عید پر جانوروں کے ساتھ ساتھ انسانوں کی قربانی بھی پچھلے برسوں کی نسبت زیادہ ہوگی اور اگر پولیس، رینجرز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو پیشہ ورانہ رہنمائی کے بجائے سیاسی مداخلت کے اصول پر ہی متحرک رکھا گیا تو خدا بہتر جانتا ہے کہ کراچی میں تشدد کی تازہ فلم کتنی طویل ہوگی۔ بقول شخصے قانون ہو مگر اسکے نفاذ کی نیت نہ ہو تو اچھی سے اچھی حکومت بھی مسخروں کا ٹولہ لگنے لگتی ہے۔ |