BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 May, 2008, 15:34 GMT 20:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی میں تشدد کا بڑھتا ہوا رحجان

کراچی
واقعے کے بعد ایمبولنس لاشیں اٹھا کر لے جا رہی ہے
کراچی میں جرائم میں اضافے نے عام لوگوں کو شدت پسندی کی طرف دھکیل دیا ہے، جرائم پیشہ افراد پر ہجوم کی جانب سے تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایک حالیہ واقعے میں تین مبینہ ڈاکوؤں کو لوگوں نے تشدد کے بعد آگ لگا دی جس میں تینوں ہلاک ہوگئے۔ یہ اپنی طرز کا پہلا واقعہ ہے۔

یہ واقعہ بدھ کو اس وقت پیش آیا جب جب کراچی کے ایک قدیم علاقے رنچھوڑ لائن میں تین مسلح افراد ایک گھر میں داخل ہوگئے۔

گھر کے زخمی مالک اکبر سومرو کے کزن شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ دوپہر بارہ بجے کے قریب تین افراد نے دروازہ کھٹکھٹایا تو ایک چھوٹی بچی نے جاکر دروازہ کھولا اور ایک دم تین افراد گھر میں داخل ہوگئے۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت مردوں میں سے صرف اکبر کے والد موجود تھے جن کو مسلح افراد نے ایک کمرے میں بند کردیا اس کے بعد گھر میں باقی بچنے والی خواتین سے انہوں نے زیوارت اور نقدی لوٹ لی۔

شاہد سومرو نے بتایا کہ اسی دوران اکبر گھر پہنچے اور گھر کا سامنے کا دروازہ بند پا کر عقبی راستے سے جیسے ہی گھرمیں داخل ہوئے تو مسلح افراد نے انہیں یرغمال بنالیا اور مزاحمت کرنے پر ان پر گولی چلائی جو ان کی کمر میں لگی جس پر خواتین مشتعل ہوگئیں اور ملزمان نے صورتحال دیکھ کر فرار ہونے کی کوشش کی لیکن اس دوران خواتین کی چیخ و پکار اور فائر کی آواز سن کر لوگ جمع ہوگئے۔

ٹمبر مارکیٹ کی سڑک سے پولیس کو جھلسی ہوئی لاشیں ملیں، سول ہسپتال کے میڈیکل لیگل افسر کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے چالیس فیصد تک جل گئے تھے۔

ایس پی صدر پولیس ڈاکٹر امیر شیخ کے مطابق ملزمان کے پاس اسلحہ تھا مگر وہ ہزار ڈیڑھ ہزار لوگوں کے سامنے مجبور ہوگئے، لوگوں نے ان پر تشدد کیا اور بعد میں ان کے کپڑوں کو آگ لگا دی۔

ایس پی پولیس کے مطابق پولیس پہنچ گئی تھی مگر لوگ بضد تھے کہ وہ ملزمان کو گولی ماریں مگر اہلکاوں نے ایسا کرنے سے انکار کیا اور ہجوم کی موجودگی میں پولیس اہلکار مجبور ہوگئے۔

مبینہ ڈاکو اسلحے کے باوجود مجبور
 ملزمان کے پاس اسلحہ تھا مگر وہ ہزار ڈیڑھ ہزار لوگوں کے سامنے مجبور ہوگئے، لوگوں نے ان پر تشدد کیا اور بعد میں ان کے کپڑوں کو آگ لگا دی۔
ڈاکٹر امیر شیخ

ہلاک ہونے والے تینوں میں سے پولیس نے ایک ملزم کی شناخت بابر ہزاروی کے نام سے کی ہے جو پولیس کے مطابق رکشہ ڈرائیور تھا۔

کراچی میں حالیہ سالوں میں سٹریٹ کرائم میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد متاثر ہو رہی ہے ۔ سٹیزن پولیس لیژاں کمیٹی کے مطابق صرف بدھ کو 21 موٹر سائیکلیں،21 موبائل ٹیلیفون اور کاریں چھینی گئیں۔

سٹیزن پولیس لیژاں کمیٹی کے سربراہ شریف الدین میمن کا کہنا ہے ان واقعات سے تو یہ تاثر ملتا ہے کہ لوگ چاہتے ہیں کہ وہ اپنا فیصلہ خود کریں، ان کے مطابق جرائم کی وجہ سے لوگوں کی فرسٹریشن بڑھ رہی ہے۔ یہ ان کا رد عمل ہوسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر جب لوگوں کا اعتماد اٹھنے لگتا ہے تو پھر لوگ اس طرح کے ردعمل کا اظہار کرتے ہیں۔

ایس پی امیر شیخ کا کہنا ہے کہ ان واقعات کی وجہ پورا جسٹس سسٹم ہے پولیس بھی اس کا ایک حصہ ہے۔ سو فیصد کہنا کہ یہ پولیس کی ناکامی ہے جو درست نہیں ہے۔ نوے فیصد واقعات میں تو ڈاکو پکڑ کر پولیس کے حوالے کیے جاتے ہیں اعتماد ہے تبھی تو پولیس کے حوالے ہوتے ہیں۔

لوگوں کے اشتعال کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس کا انحصار صورتحال پر ہوتا ہے ماحول ایسا ہث جاتا ہے جس میں لوگ مشتعل ہوکر ایسے واقعات کر گذرتے ہیں یا انہیں کچھ گروہ یا لوگ اشتعال میں لاتے ہیں۔

عوامی رد عمل کے ان واقعات کی ابتدا کوئی دو سال قبل اس وقت ہوئی جب ایک موٹر سائیکل سوار کو گلشن اقبال میں ایک ٹینکر نے ٹکر مارکر ہلاک کردیا مشتعل افراد نے اس ٹینکر کو نذر آتش کردیا۔ جس کے بعد نیو کراچی، اورنگی، کورنگی مومن آباد میں بھی ایسے واقعات پیش آئے جن میں لوگوں نے مبینہ ڈاکوں کو تشدد کرکے ہلاک کردیا یا حادثہ کرنے والی گاڑی کو نذر آتش کردیا۔

کراچی
علاقے کے لوگ جلتے ہوئے جسموں کے گرد جمع ہیں

نفسیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رویہ معاشرے میں موجود انارکی کی عکاسی کرتا ہے۔

ماہر نفسیات ڈاکٹر واصف علی کا کہنا ہے جب لوگ اس طرح مارنا شروع کردیتے ہیں تو اس کے پیچھے سماجی عوامل ہوتے ہیں، بدقسمتی سے سماجی قدروں کی یہاں کوئی پاسداری نہیں۔

معاشرے میں سماجی عدم توازان ہے چالیس فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی گزار رہے ہیں اگر قانون اور عدلیہ کی بات کریں تو تاثر یہ ہے کہ یہ صرف غریب کے لیے ہی استعمال ہوتا ہے۔

وفاقی حکومت اور سندھ کی نو منتخب حکومت نے کراچی میں امن امان کی بحالی کے لیے اپنی اولین ترجیح سٹریٹ کرائم کو قرار دیاہے مگر اب تک اس بارے میں ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔

کراچیکراچی میں تشدد
بدھ کو کراچی میں کئی گاڑیاں نذرِ آتش کی گئیں
پولیسصرف 25 دن میں
کراچی میں پچھہتر ہلاکتیں یا ’ٹارگٹ قتل‘
فائل فوٹوقیمتوں میں پھر اضافہ
پبلک ٹرانسپورٹ، دو روزہ ہڑتال کا اعلان
بجلیبجلی کا بحران
کراچی میں پانچ گھنٹے تک بجلی کی فراہمی بند
کراچی میں وکلاء کی ریلی وکلاء پر تشدد
کراچی:وکلاء ریلی پر لاٹھی چارج کی تصاویر
کراچی میں دھماکے
گزشتہ آٹھ سال میں اٹھائیس دھماکے ہوئے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد