BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 29 November, 2008, 16:56 GMT 21:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دیکھتے ہی گولی مارنے کاحکم

کراچی
بنارس کالونی اور پیرآباد میں تین گاڑیوں کو بھی نذرِ آتش کردیا گیا
کراچی میں پرتشدد واقعات کے دوران سنیچر کو تین افراد ہلاک اور سات زخمی ہوئے جبکہ صوبائی وزیرداخلہ ذوالفقار مرزا نےفائرنگ میں ملوث افراد کو دیکھتے ہی گولی مارنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

واضح رہے کہ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران دو گروہوں میں کشیدگی کی وجہ سے اٹھارہ افراد پر تشدد کارروائیوں میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

سنیچر کو پرتشدد کارروائیوں کے واقعات بنارس کالونی اور پیرآباد میں ہوئے جہاں تین افراد ہلاک اور سات زخمی ہوئے جبکہ تین گاڑیوں کو بھی نذرِ آتش کیا گیا۔

اس کے علاوہ سہراب گوٹھ کے علاقے میں بھی فائرنگ کی اطلاعات کے بعد ٹریفک کی روانی میں کچھ دیر خلل پڑا تھا تاہم قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے صورتحال پر قابو پالیا مگر اب بھی اس علاقے میں کشیدگی برقرار ہے۔

کراچی کے بعض علاقے جن میں سہراب گوٹھ، بنارس کالونی، اورنگی ٹاؤن، پیرآباد، ملیر، اور قائدآباد شامل ہیں پچھلے چند ہفتوں سے پرتشدد کارروائیوں کی لپیٹ میں ہیں اور نامعلوم افراد کی فائرنگ سے کئی جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔

اس صورتحال کے پیش نظر سنیچر کو پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ایم کیو ایم کے صدر دفتر نائن زیرو گئے جہاں ایم کیو ایم کے رہنماؤں کے ساتھ شہر کے امن و امان کے حوالے سے مذاکرات ہوئے۔

بعد میں مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیرِ داخلہ ذوالفقار مرزا نے کہا ’آج کچھ علاقوں اور محلوں میں چند افراد فائرنگ کر رہے ہیں۔ انہیں میں بتانا چاہتا ہوں کہ میں نے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو واضح ہدایات دے دی ہیں کہ فائرنگ کرنے والوں کو دیکھتے ہی گولی ماردی جائے۔‘

انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران فیصلہ کیا گیا ہے کہ شرپسند عناصر کا تعلق خواہ کسی بھی جماعت سے ہو انہیں نہیں چھوڑا جائے گا بلکہ انہیں گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے گی۔

کمیٹی قائم
 شہر میں امن قائم رکھنے کے لئے ایک مشترکہ چھ رکنی کمیٹی قائم کی جا رہی ہے جس میں پیپلزپارٹی، اے این پی اور ایم کیو ایم کے دو دو ارکان شامل ہوں گے۔
فاروق ستار

ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ نائن زیرو پر صوبائی وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا، اے این پی کے صوبائی صدر شاہی سید کے اپنے دیگر رفقا کے ساتھ آنے کا مقصد یہ تھا کہ سازشی عناصر جو شہر کا امن تباہ کرنے کے درپے ہیں اور پر تشدد کارووائیوں کو ہوا دے رہے ہیں انہیں ہم مل کر بالکل واضح پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ ہم میں سے نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ مفاہمتی عمل قائم ہونے سے ہی پائیدار امن قائم ہوگا۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ شہر میں امن قائم رکھنے کے لئے ایک مشترکہ چھ رکنی کمیٹی قائم کی جا رہی ہے جس میں پیپلزپارٹی، اے این پی اور ایم کیو ایم کے دو دو ارکان شامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کمیٹی شہر میں امن قائم رکھنے کے لئے مؤثر کردار ادا کرے گی۔

اے این پی کے صوبائی صدر شاہی سید نے اس موقع پر کہا ’ہم امن کے لئے ہر جگہ، ہر گھر، ہر کوچے جانے کے لئے تیار ہیں۔ ہم امن کی خاطر یہاں آئے ہیں اور ہم اس شہر میں امن چاہتے ہیں۔‘

انہوں نے ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اور گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں کی کاوشوں کے نتیجے میں ہم دونوں (اے این پی اور ایم کیو ایم) کو ایک ساتھ بٹھایا گیا جہاں وہ باتیں کی گئیں جو اس مسئلے کا حل ہیں۔

ایم کیو ایم کی جانب سے سندھ اور بالخصوص کراچی میں طالبنائزیشن کے خدشے پر تبصرہ کرتے ہوئے ذوالفقار مرزا اور شاہی سید نے کہا کہ کراچی میں طالبان یا شدت پسندوں کی موجودگی کو یکسر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کیونکہ کراچی میں ہوئے کئی بم دھماکوں میں شدت پسند ملوث رہے ہیں تاہم صورتحال باعثِ تشویش نہیں ہے۔

اسی بارے میں
جامعہ کراچی میں چار ہلاک
26 August, 2008 | پاکستان
سیاسی جماعتوں کا رد عمل
10 April, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد