BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 06 December, 2008, 12:31 GMT 17:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مہنگائی: اضافے کی شرح 7ء31 فیصد

سٹیٹ بینک پاکستان مرکزی دفتر
بینک دولت پاکستان کو پوری معیشت میں نگرانی کے حوالے سے اپنا کردار بڑھانا پڑا
سٹیٹ بینک پاکستان کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اکتوبر 2008 تک مہنگائی کی شرح میں پچیس فیصد تک اضافہ ہوا جبکہ غذائی اشیاء پر مہنگائی کی شرح 31.7 فیصد اور غیر غذائی اشیاء پر اٹھارہ فیصد تک پہنچ گئی۔

اس مدت تک سرکار کا جانب سے قرض کا حصول ریکارڈ سطح تک پہنچ گیا، عالمی گرانی بڑھتی رہی اور اس کے ساتھ روپے کی قدر میں مسلسل کمی نے مل کر شرح گرانی میں بہت اضافہ کردیا

پاکستان کے مرکزی بینک نے سنیچر کو سالانہ رپورٹ جاری کی ہے جس میں ملک میں مالیاتی نظام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اجناس کی قیمتوں میں عالمی بحران اور گرانی کے باعث ملکی معیشت میں جو عدم استحکام اور چیلنجز آئے تھے ان سے نمٹنے کے لیے مرکزی بینک کی جانب سے بروقت راست اقدامات کے بعد معیشت میں بہتری کے اشارے مل رہے ہیں۔

گورنر بینک دولت پاکستان شمشاد اختر کی جانب سے جاری کی گئی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ 18 ماہ سے پاکستان کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے جو اجناس کی عالمی مہنگائی کے باعث مزید پیچیدہ ہوگئی ہیں۔ ان حالات میں بینک دولت پاکستان کو پوری معیشت میں نگرانی کے حوالے سے اپنا کردار بڑھانا پڑا اور بروقت اصلاحی اقدامات کرکے نئے خطرات اور چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے خود کو تیار کرنا پڑا۔

اس کے علاوہ دیگر مالی وساطتی اداروں جیسے سٹاک مارکیٹ اور غیر بینکی مالی اداروں کی مالیاتی ضروریات بھی اس لیے بڑھ گئیں کہ انہیں سٹاک مارکیٹ کی لین دین منجمد کیے جانے کے نتیجے میں غیر یقینی صورتحال کی بنا پر سرمایہ کاروں کی طرف سے رقم کی واپسی کے مطالبات کا سامنا کرنا پڑا۔

سرکار کا جانب سے قرض کا ریکارڈ
 سرکار کا جانب سے قرض کا حصول ریکارڈ سطح تک پہنچ گیا، عالمی گرانی بڑھتی رہی اور اس کے ساتھ روپے کی قدر میں مسلسل کمی نے مل کر شرح گرانی میں بہت اضافہ کردیا
سٹیٹ بینک رپورٹ

بڑھتے ہوئے معاشی عدم توازن کی بنا پر مختلف حلقوں کی متضاد اور بعض اوقات غیر حقیقت پسندانہ توقعات اور مطالبات سے نمٹنا مشکل ہوگیا۔ روپے کی قدر میں کمی، سٹاک مارکیٹ کے اشاریوں میں زوال اور گرانی کی تیزی نے مل کر تشویش میں اضافہ کردیا۔ اکتوبر 2008 تک مہنگائی کی شرح میں پچیس فیصد تک اضافہ ہوا جبکہ غذائی اشیاء پر مہنگائی کی شرح 31.7 فیصد اور غیر غذائی اشیاء پر اٹھارہ فیصد تک پہنچ گئی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غلط رویے اور سٹے بازی نے پچھلے 18 ماہ کے دوران بعض اوقات غیر ضروری افراتفری پیدا کی۔ اس تمام صورتحال میں مرکزی بینک خطرات اور مشکلات سے مناسب طریقے سے نمٹ رہا ہے اور کئی پالیسی پیکیجز جاری کیے گئے ہیں، پہلے جولائی 2007ءمیں اور پھر جنوری، مئی، جولائی اور نومبر 2008ءمیں۔

اگرچہ شرح سود میں حالیہ تبدیلیوں کا اثر ابھی تک گرانی تک نہیں پہنچا، کیونکہ معاشی بحران کی وجہ سے مالی منڈیوں میں بگاڑ پیدا ہوگیا ہے، تاہم ان پیکیجز سے نہ صرف گرانی کے دباؤ کو مزید بڑھنے سے روکنے میں مدد ملی ہے بلکہ مبادلہ بازار میں تغیر اور مالیاتی منڈیوں میں بے چینی میں بھی کمی آئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق غذائی اشیا کی قیمتیں بڑھیں اور اس کے ساتھ مالیاتی حوالے سے ناموزوں صورتحال پیش آئی، حکومت کی جانب سے قرض حاصل کرنا اور سٹیٹ بینک کی نومالکاری سکیموں کے ذریعے برآمد کنندگان کی طلب پوری کرنے سے زر بنیاد کی نمو تیز ہوگئی اور گرانی کے دباؤ میں پھر اضافہ ہوا۔ سرکار کا جانب سے قرض کا حصول ریکارڈ سطح تک پہنچ گیا، عالمی گرانی بڑھتی رہی اور اس کے ساتھ روپے کی قدر میں مسلسل کمی نے مل کر شرح گرانی میں بہت اضافہ کردیا۔ ان نئے حالات میں سٹیٹ بینک کو مالی سال 2008 کے دوران اپنا مالیاتی موقف کئی بار سخت کرنا پڑا۔ تین مراحل میں سٹیٹ بینک نے شرح سود ڈھائی فیصد بڑھایا۔ پالیسی ریٹ میں اضافہ کرکے غیر معمولی معاشی صورتحال سے نمٹنا ضروری تھا۔

اگر سولہ ارب کے ذخائر نہ ہوتے
 پچھلے 18 ماہ اس اعتبار سے یادگار ہیں کہ ان میں زر مبادلہ کے ذخائر غیر معمولی طور پر بڑھے اور پھر تیزی سے کم ہوئے۔ اگر اکتوبر 2007ءتک 16.4 ارب ڈالر کے ذخائر جمع نہ ہوجاتے تو نتائج اور بھی سنگین ہوتے
سٹیٹ بینک پاکستان

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پچھلے 18 ماہ اس اعتبار سے یادگار ہیں کہ ان میں زر مبادلہ کے ذخائر غیر معمولی طور پر بڑھے اور پھر تیزی سے کم ہوئے۔ اگر اکتوبر 2007ءتک 16.4 ارب ڈالر کے ذخائر جمع نہ ہوجاتے تو نتائج اور بھی سنگین ہوتے۔ زر مبادلہ کے ذخائر میں کمی اور درآمدی بل میں بے پناہ اضافہ زرِ مبادلہ کی امپورٹ کوریج میں کمی کا سبب بنا جو جون2007 میں 30.6 ہفتے سے کم ہوکر 18.1 ہفتے رہ گئی۔ آنے والے مہینوں میں آئی ایم کی جانب سے قرضہ کی رقم اور امدادی اداروں سے مالی مدد کی بناء پر مرکزی بینک کے ذخائر پر دباؤ کم ہونے کی توقع ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالی استحکام کے تجزیے میں باقاعدگی لانے کی خاطر ایک نیا شعبہ بنایا گیا ہے تاکہ مالی استحکام کا جائزہ اور آزادانہ نگرانی کا عمل مسلسل جاری رہے جیسا کہ دنیا بھر کے مرکزی بینکوں میں کیا جاتا ہے۔

سٹیٹ بینک نے بینکنگ کمپنیز آرڈیننس 1962ء میں ترامیم کے لیے وفاقی حکومت سے اصولی منظوری لی ہے تاکہ سٹیٹ بینک کو تمام بینکاری ضابطہ کاروں کی طرح نگرانی کا جامع نظام متعارف کرانے کا اختیار مل جائے۔ ان ترامیم کے ذریعے مالی اداروں کی یکجائی کو باضابطہ بنانے اور سٹیٹ بینک کو مالی گروپ کی نگرانی کے لیے اپنی لائسنس یافتہ مالی ہولڈنگ کمپنی کو چلانے کا اختیار حاصل ہوجائے گا۔ اس فریم ورک سے سٹیٹ بینک کو بینکوں اور امانتیں وصول کرنے والے اداروں کی جامع بنیادوں پر نگرانی کرنے اور مالی یکجائی کی نگرانی کرنے کے لیے موزوں ضوابطی ڈھانچے تشکیل دینے کا اختیار بھی مل جائے گا۔

اسی بارے میں
کیش ریزرو 6 فیصد کردی گئی
17 October, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد