BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 20 October, 2008, 14:50 GMT 19:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فرینڈز آف پاکستان: نقدی نہیں مشورے

اسٹیٹ بینک
چار سے چھ ہفتوں میں تین سے پانچ ارب ڈالر کا انتظام کرنے سے زر مبادلہ کے ذخائر بہتر ہوں گے: شوکت ترین
پیر کو صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی مشترکہ صدارت میں ایوان صدر میں ہونے والے ’فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان‘ گروپ کے اجلاس کے بعد واضح ہوگیا کہ اس سے پاکستان کو نقد امداد ملنے کا کوئی امکان نہیں ہے بلکہ فنی مدد اور مشورے ملیں گے۔

اجلاس کے بعد جاری کردہ بیان میں وزیر اطلاعات شیری رحمٰن نے بتایا ہے کہ یہ ابتدائی نوعیت کی ملاقات تھی جس میں پاکستان کی ضروریات کی ترجیحات کے بارے میں غور کیا گیا۔

بیان کے مطابق ’فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان‘ کے اجلاس میں امریکہ، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب چین اور برطانیہ کے نمائندے شریک ہوئے۔ ایوان صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر کے مطابق اجلاس میں رچرڈ باؤچر بھی خصوصی طور پر شریک ہوئے۔

شیری رحمٰن کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس گروپ کے تعاون سے پاکستان میں طویل المدتی معاشی استحکام پیدا ہوگا۔ لیکن کسی ٹھوس امداد ملنے کی بات نہیں ہے۔ بیان کے مطابق اس گروپ کے آئندہ اجلاس کی میزبانی متحدہ عرب امارات کرے گا اور اس کی تاریخ طے ہونا ابھی باقی ہے۔

پاکستانی حکومت تو تاحال یہ تاثر دے رہی تھی کہ ’فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان‘ نامی گروپ سے ملنے والی امداد کے بعد اقتصادی صورتحال بہتر ہوجائے گی لیکن نائب امریکی وزیر خارجہ رچرڈ باؤچر نے کہا ہے کہ پاکستان کو اس فورم سے نقدی نہیں بلکہ فنی امداد ملے گی۔

رچرڈ باؤچر نے، جو اچانک ایک روزہ دورے پر سنیچر کو اسلام آباد پہنچے تھے، پیر کو صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ فرینڈز آف پاکستان گروپ سے پاکستان کو کوئی نقدی نہیں ملے گی بلکہ مختلف مسائل حل کرنے کے لیے فنی مہارت اور مشاورت فراہم کی جائے گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس گروپ کے تعاون سے بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے فنڈز کے حصول میں مدد ملے گی۔

رچرڈ باؤچر نے کہا کہ ’یہ تاثر درست نہیں ہے کہ آج کی ملاقات میں فرینڈز آف پاکستان کے نمائندوں نے صدر مملکت آصف علی زرداری کے ساتھ ملاقات کے دوران ان کی میز پر پیسوں کے ڈھیر لگا دیے‘۔

وزیراعظم کے مشیر خزانہ شوکت ترین نے صدر کے دورہ چین کے بعد وزیر خارجہ کے ہمراہ نیوز بریفنگ میں کہا تھا کہ چار سے چھ ہفتوں میں تین سے پانچ ارب ڈالر کا انتظام کرنے سے زر مبادلہ کے ذخائر بہتر ہوں گے اور پاکستان کے اقتصادی حالات بھی ٹھیک ہوجائیں گے۔

ان کے مطابق اس رقم کا انتظام فرینڈز آف پاکستان فورم سے کیا جائے گا اور اگر ایسا ممکن نہ ہوا تو پاکستان کو انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ یعنی آئی ایم ایف سے رجوع کرنا ہوگا۔

مشیر خزانہ نے یہ بھی کہا تھا کہ آئی ایم ایف سے قرضہ تو طویل المدت اور کم شرح سود پر ملے گا لیکن ان کا زور ہوتا ہے کہ سبسڈیز ختم کی جائیں۔ ان کے مطابق پاکستان پہلے ہی اس طرح کے اقدامات کر رہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد