BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 20 October, 2008, 12:17 GMT 17:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستانی روپے میں قدرے استحکام

ڈالر
یرونِ ملک پاکستانیوں کی جانب سے زیادہ سے زیادہ زرِ مبادلہ بھیجے جانے کے باوجود ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر زبوں حالی کا شکار ہیں
پاکستان کے مرکزی بینک کی مداخلت کے بعد پیر کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں تیزی سے گِرتی ہوئی پاکستانی کرنسی چار روپے مستحکم ہوئی ہے۔

فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر ملک بوستان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پیر کو سٹیٹ بینک آف پاکستان نے مداخلت کرتے ہوئے بینکوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ انہیں جتنے ڈالر چاہئیں وہ انہیں دستیاب ہوں گے جس کے بعد انٹر بینک میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی تراسی روپے نوے پیسے سے کم ہوکر اسی روپے چالیس پیسے ہوگئی ہے اور روپیہ ساڑھے تین روپے مستحکم ہوا۔

ان کے بقول ایک دن میں پاکستانی کرنسی کا ساڑھے تین روپے مستحکم ہونا مرکزی بینک کی بہت بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے چھ ماہ سے مرکزی بینک کی جانب سے مداخلت تو ہورہی ہے لیکن پھر سٹیٹ بینک پیچھے ہٹ جاتا ہے اور روپیہ گِرنا شروع ہوجاتا ہے اور اگر اس مرتبہ سٹیٹ بینک نے مداخلت جاری رکھی اور ڈالر کی فراہمی کو یقینی بنایا تو روپیہ مزید مستحکم ہونے کے امکانات ہیں۔

ملک بوستان نے کہا کہ مرکزی بینک کی جانب سے مداخلت کے بعد اوپن مارکیٹ میں بھی اس کا مثبت اثر پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمعہ کو اوپن مارکیٹ میں پاکستانی کرنسی کی قدر جو چھیاسی روپے تک جا پہنچی تھی اب بیاسی روپے تک آچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب اگر ایکسچینج کمپنیوں کو بینک امریکی ڈالر کی فراہمی نقد شروع کردیں گے تو اوپن مارکیٹ میں روپے کے مقابلے میں ڈالر مزید کمزور ہوگا اور روپیہ مستحکم ہوگا لیکن اگر ڈالر کی نقد فراہمی نہیں کی جاتی تو پھر پاکستانی کرنسی کے کمزور ہونے کے امکانات ہیں۔

پاکستانی کرنسی میں استحکام کی ایک اور وجہ انہوں نے غیر قانونی طور پر ڈالر فروخت کرنے والی ایکسچینج کمپنیوں کے خلاف کارروائی کو قرار دیا ہے۔ ملک بوستان کا کہنا ہے کہ غیر قانونی ایکسچینج کمپنیاں ڈالر اسمگل کرنے میں بھی ملوث تھیں اور ان کے خلاف کارروائی کے بعد غیرقانونی طور پر ڈالر کی فروخت بند ہونے سے بھی روپیہ مستحکم ہوا ہے۔

امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی کی قدر پچھلے پانچ ماہ سے مسلسل گِر رہی ہے۔ اقتصادی تجزیہ کاروں کے خیال میں بیس ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کی بنیادی وجہ ہے اور یہ خسارہ کسی طور بھی کم نہیں ہورہا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر ایک سال پہلے سولہ ارب ڈالر سے بھی زیادہ تھے جو اب گِر کر سات ارب پچھتر کروڑ ڈالر رہ گئے ہیں، اور روپے کی قدر میں کمی کی ایک بڑی وجہ زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی بھی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر روپے کی قدر کو بہتر کرنا ہے تو حکومت زرِ مبادلہ کو بڑھانے اور تجارتی خسارہ کم کرنے کے لئے فوری اقدامات کرے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد