سونے کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں بدھ کو سونے کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا جبکہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپیہ چالیس پیسے مزید کمزور ہوا جس کے بعد فارن کرنسی اکاؤنٹ کے منجمد ہونے کی افواہیں گردش کرنے لگیں تاہم اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ان افواہوں کی سختی سے تردید کی ہے۔ بدھ کو دس گرام سونے کی قیمت تیئس ہزار ایک سو بیالیس روپے ہوگئی جس میں گزشتہ روز کے مقابلے میں نو سو روپے اضافہ ہوا ہے جبکہ ایک تولہ سونے کی قیمت ستائیس ہزار روپے ہوگئی ہے۔ آل پاکستان جیولرز ایسوسی ایشن کے صدر ہارون چاند نے بتایا کہ ملک کی تاریخ میں سونے کی قیمتیں اپنی بلند ترین سطح پر ہیں، جبکہ دس روز قبل ایک تولہ سونے کی قیمت چھبیس ہزار دوسو روپے تھی۔ انہوں نے کہا کہ رمضان کے مہینے میں کاروبار ذرا کم ہوتا ہے کیونکہ لوگ عبادات میں مصروف ہوتے ہیں لیکن رمضان کے بعد عید کا مہینہ شادیوں کا مہینہ سمجھا جاتا ہے جس میں کاروبار اپنے عروج پر ہوتا ہے تاہم سونے کی قیمتوں کے اِسی ماہ بڑھنے کی وجہ سے کاروبار پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ سونے کی قیمتوں میں بتدریج اضافہ گزشتہ کئی ماہ سے جاری ہے جس سے سونے کی مصنوعات بنانے والے کاریگر سب سے زیادہ پریشان حال دکھائی دیتے ہیں۔ سونے کے کاریگر نعیم الدین کہتے ہیں کہ سونے کی قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے ان کے کاروبار پر منفی اثر پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’سونے کے بھاؤ بڑھنے سے ہمارا کام کافی کم ہوا ہے اور پہلے جو ہماری آمدنی ہوا کرتی تھی اب یوں سمجھیں کہ اس کی آدھی ہوگئی ہے اور کئی کاریگر تو ایسے ہیں جنہوں نے یہ کام ہی چھوڑ دیا ہے۔‘ نعیم الدین کے بقول ’ان کے ہاں ملازمین مہنگائی کی وجہ سے تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کرتے ہیں جبکہ بجلی، گیس اور دکانوں کے کرایوں میں بھی مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ دوسری جانب آمدنی میں کمی ہورہی ہے تو گذارہ کرنا تو مشکل ہی ہورہا ہے۔ سونے کی قیمتوں میں اضافے کے علاوہ آج امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپیہ مزید گِر گیا اور اوپن مارکیٹ میں ایک امریکی ڈالر کے مقابلے میں ملکی کرنسی اکیاسی روپے تک پہنچ گئی تھی جس کے بعد اسٹیٹ بینک نے انٹر بینک کو امریکی ڈالر فراہم کیے اور دن کے اختتام تک ملکی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں اسّی روپے بیس پیسے رہی۔ فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر ملک بوستان کا کہنا ہے کہ بگڑتی ہوئی معیشت کے سبب لوگ یہاں امریکی ڈالر خرید رہے ہیں جس سے روپے پر دباؤ برقرار ہے اور سرمایے کا پھیلاؤ متاثر ہورہا ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح شرح سود کم کی جانی چاہیے تاکہ لوگ اپنا سرمایہ گھروں میں رکھنے کے بجائے کاروبار میں لگائیں۔ ملک بوستان نے کہا کہ مرکزی بینک روپے کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ ان کے بقول ’اگر مرکزی بینک روپے کو استحکام دینے میں اپنا کردار ادا کرتا رہا تو روپیہ مضبوط ہونے کے امکانات روشن ہیں لیکن اگر اسٹیٹ بینک ایک دن مداخلت کرنے کے بعد پہلے کی طرح خاموش تماشائی بنارہا تو خدشہ ہے کہ ملکی کرنسی امریکی ڈالر کے مقابلے میں اکیاسی روپے کی حد سے بھی تجاوز کرجائے گی۔‘ سونے کی قیمتوں میں اضافے اور روپے کی قدر میں مزید کمی کے بعد فارن کرنسی اکاؤنٹ منجمد اور بینک لاکرز سیل کیے جانے کی افواہیں گردش کرنے لگیں۔ میڈیا نے اس بارے میں خدشات ظاہر کرنا بھی شروع کردیے۔ جس کے بعد اسٹیٹ بینک کے ترجمان نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے ان افواہوں کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ اس قسم کا معاملہ کسی بھی سطح پر زیرِ غور نہیں ہے اور فارن کرنسی اکاوئنٹس کو قانون کے تحت تحفظ حاصل ہے۔ ترجمان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس قسم کی افواہوں پر کان نہ دھریں۔ | اسی بارے میں سونے کے نرخ میں ریکارڈ اضافہ12 May, 2006 | پاکستان سونےکی درآمد میں کمی01 May, 2007 | پاکستان خاشاک سے سونا19 November, 2003 | پاکستان سونے کی سمگلنگ، تحقیقات جلد مکمل28 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||