’قرض گڈ گورننس کے لیے ضروری‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف سے قرضہ حاصل کرنے کے حکومتی فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ ’گڈ گورننس کے لیے ضروری ہے‘۔ یہ بات انہوں نے کراچی میں پیپلز پارٹی کے رہنما ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ کے کالموں پر مشتمل کتاب کی رونمائی کے لئے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اپنی حکومت پر اس حوالے سے ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’جو لوگ آئی ایم ایف کو سمجھتے نہیں، وہ ہم پر تنقید کر رہے ہیں۔ آئی ایم ایف کیا ہے؟ حتی کہ پچھلی حکومتیں آئی ایم ایف کے ماتحت تھیں۔ بے نظیر بھٹو کے سابقہ دور حکومت میں ہم آئی ایم ایف کے ماتحت تھے۔میاں نواز شریف کے دور حکومت میں بھی آئی ایم ایف کے ماتحت تھے اور یہ گڈ گورننس کے لیے ضروری ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی موجودہ مشکل اقتصادی صورتحال میں آئی ایم ایف سے مالی مدد حاصل کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔ قرضے کا مقصد ملک کی اقتصادی صورتحال کو بہتر بنانا ہے اس سے پہلے بھی حکومتیں آئی ایم سے قرضے لیتی رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو جمہوری قوتوں سے بہت سی توقعات ہیں اور پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتیں لوگوں کو مایوس نہیں کریں گی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت کی اولین ترجیح ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانا ہے تاکہ بیرونی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی جانب راغب کیا جا سکے۔ وزیراعظم نے کہا کہ’امن و امان بہتر ہوگا تو معیشت بھی بہتر ہوگی۔ ہمارے سامنے دو بڑے مسائل ہیں۔ نمبر ون لاء اینڈ آرڈر اور نمبر ٹو معیشت اور دونوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے کیونکہ ملک کے کسی بھی حصے میں خودکش حملہ ہوتا ہے تو ملک سے سرمایہ باہر جاتا ہے اور سرمایہ کاری رک جاتی ہے اس لیے ہمیں معیشت کو بہتر بنانے کے لیے امن و امان کو بہتر بنانا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ عالمی کساد بازاری سمیت پوری دنیا متاثر ہوئی ہے، پاکستان زرعی ملک ہے اور ہم زراعت کو ترقی دے کر ہی موجودہ مشکل صورتحال سے نکل سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ موجودہ حکومت نے ملک کے سکڑتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے کے لیے آئی ایم ایف سے قرض لینے کا فیصلہ کیا ہے جس پر عالمی مالیاتی ادارے نے ابتدائی طور پر پاکستان کو 6ء7 ارب ڈالر کا امدادی پیکج دینے پر رضامندی ظاہر کردی ہے تاہم اسے حتمی منظوری کے لئے آئندہ ہفتے آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ مسلم لیگ نون سمیت حزب اختلاف کی جماعتوں نے حکومت کے اس فیصلے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے پیپلز پارٹی کے اقتصادی منصوبوں کی ناکامی کا ثبوت قرار دیا ہے۔ مسلم لیگ نون کے سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال نے اتوار کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ مطالبہ بھی کیا کہ حکومت آئی ایم ایف کے امدادی پیکج کی تفصیلات پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرے۔ |
اسی بارے میں کیش ریزرو 6 فیصد کردی گئی17 October, 2008 | پاکستان کے ایس ای: حکومتی یقین دہانی15 October, 2008 | پاکستان زرِمبادلہ کے ذخائر میں مزید کمی25 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||