آئی ایم ایف سے قرض کا خیر مقدم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقتصادی ماہرین اور تاجروں کی انجمن کے نمائندوں نے آئی ایم ایف سے قرض لینے کا خیر مقدم کیا ہے تاہم تجارتی خسارہ اور غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی جبکہ برآمدات اور ذرِمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ معیشت مستحکم ہو اور افراطِ زر میں کمی ہو۔ اقتصادی ماہر اسد سعید کے خیال میں آئی ایم ایف سے قرض لینا یوں ضروری ہوگیا تھا کہ قرض نہ لینے کی صورت میں پاکستان اپنی کرنسی کی قدرگنوا بیٹھتا جس طرح انڈونیشیا میں98۔1997 کے دوران مالیاتی بحران میں وہاں کے روپے نے اپنی قدر ایک امریکی ڈالر کے مقابلے میں دو ہزار روپے سے بارہ ہزار روپے تک کھو دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح پاکستان میں بھی امریکی ڈالر کے مقابلے میں کرنسی کی قدر بہت حد تک یعنی جو اس وقت اسی روپے ہے وہ دو سو سے تین سو روپے تک گِر سکتی تھی لیکن قرض ملنے کے بعد اب کرنسی کی قدر کو استحکام ملے گا۔ ان کے بقول ملکی زرِمبادلہ کے ذخائر میں کمی ہوگئی تھی اور اگر قرضہ نہ لیا جاتا تو درآمدات کو بھی کم کرنا پڑتا۔ انہوں نے کہا کہ قرض لینے کے بعد درآمدی اشیاء کی قیمت ادا کرنے کے لیے پیسے آگئے ہیں پھر روپے کی قدر نہیں گرے گی اور اب تیل، دواؤں اور دیگر درآمد شدہ اشیاء کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ نہیں ہوگا جس سے یقینی طور پر عام آدمی کو ہی فائدہ ہوگا اور مہنگائی کے بڑھنے کے رجحان میں بھی کمی ہوگی۔ اسد سعید کا کہنا تھا کہ دوسری جانب آئی ایم ایف سے قرض لینے میں خدشات یہ ہوتے تھے کہ ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی ہوا کرتی تھی جس سے عوام کو براہِ راست نقصان ہوتا تھا لیکن اب آئی ایم ایف نے خود کہا ہے اور حکومت نے بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی نہیں ہوگی جبکہ غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی کی جائے گی۔ انہوں اس بات پر زور دیا کہ تجارتی خسارہ اور غیرترقیاتی اخراجات کو خاطر خواہ کم کرنے پر بھرپور توجہ دینا ہوگی۔ان کے خیال میں زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کرنے کے لیے وسط المدتی پالیسی بنانی ہوگی اور برآمدات بڑھانی ہوں گی لیکن اس وقت عالمی معاشی بحران کے سبب دنیا کے بیشتر ممالک میں کساد بازاری ہے لہذٰا خطے میں تجارت کو فروغ دینا چاہیے۔ ان کے بقول پڑوسی ملک بھارت بہت بڑی مارکیٹ ہے لہذٰا بھارت کے ساتھ تجارت کو کھول دینا چاہیے جس سے ملک کو زرِ مبادلہ ملے گا اور بھارت کے علاوہ خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ تجارت کے فروغ سے زرِمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے قرض کا حصول بین الاقوامی برادری کو ایک قسم کا اشارہ ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار پروگرام کے تحت چلے گا اور ایک بین الاقوامی ادارہ اس کی کارکردگی کی نگرانی کرے گا۔ اس عمل کے بعد اب فرینڈز آف پاکستان سے امداد ملنے کی توقع ہے جو کہ شاید نقد نہ ہو بلکہ سرمایہ کاری کی صورت میں ہو۔ ملک کے سب سے بڑے تجارتی مرکز میں تاجروں کی انجمن یعنی کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر انجم نثار کا کہنا تھا کہ قرض لینے سے پہلے تاجروں کے چند تحفظات تھے تاہم اب قرض لینے پر اتفاقِ رائے ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری درآمدات پینتالیس ارب ڈالر ہیں جبکہ برآمدات بائیس ارب ڈالر ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کا انحصار درآمدات پر زیادہ ہے اور اس قرض سے ادائیگیوں میں توازن پیدا ہوگا جس سے روپے پر دباؤ ختم ہوگا، دوسرا یہ کہ مقامی اور بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا، اور تیسرا یہ کہ آئی ایم ایف کے قرض دینے سے پاکستان پر بین الاقوامی برادری کا اعتماد بحال ہوگا اور دیگر بین الاقوامی مالیاتی ادارے بھی اب پاکستان کو امداد دیں گے۔ انہوں نے عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے دباؤ کے تحت مالیاتی پالیسی کو سخت کرنے اور شرح سود میں اضافے پر تنقید کی اور کہا کہ اس سے تاجروں اور صنعتی شعبوں کو نقصان کا اندیشہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ شرح سود کو تین سے چار فیصد کم کیا جائے کیونکہ ویسے ہی توانائی اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ تیار اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوچکا ہے اور شرح سود کے بڑھنے سے کئی صنعتوں کے بند ہونے کے خدشات ہیں۔ |
اسی بارے میں کیش ریزرو 6 فیصد کردی گئی17 October, 2008 | پاکستان کے ایس ای: حکومتی یقین دہانی15 October, 2008 | پاکستان زرِمبادلہ کے ذخائر میں مزید کمی25 September, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||