امریکی جنرل پیٹریئس کی اہم ملاقاتیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹریئس اور جنوبی ایشیائی امور کے لئے امریکی نائب وزیرخارجہ رچرڈ باؤچر کی سوموار کو صدر آصف علی زرداری، وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور پاکستان فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی سے اہم ملاقاتیں متوقع ہیں۔ امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ کا عہدہ سنبھالنے کے دو دن بعد اتوار کو جنرل پیٹرس پاکستان کے دورے پر اسلام آباد پہنچ تھے۔ پاکستان کے قبائلی علاقے پر امریکی فوج کے بڑھتے ہوئے میزائل حملوں اور اس پر پاکستان کی جمہوری حکومت کے سخت رد عمل سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں تناؤ کے پس منظر میں جنرل پیٹریئس کا یہ دورہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ جنرل پیٹریئس نے جمعہ کے روز امریکی فوج کے مشرق وسطی اور ایشیاء میں آپریشن کی کمان سنبھالی ہے۔ ان کی ذمہ داریوں میں عراق ، افغانستان اور پاکستان شامل ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق جنرل پیٹریئس کا اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالنے کے فوراً بعد اسلام آباد کے دورے پر روانہ ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو کتنی اہمیت دیتا ہے۔ افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈرز کا یہ خیال ہے کہ افغانستان میں شدت پسندی اور تشدد کو ختم کرنے کا راستہ پاکستان کے قبائلی علاقوں سے گزرتا ہے۔ پاکستان کے شمال مغرب میں قبائلی علاقوں کو طالبان اور القاعدہ کے عناصر کے لیے محفوظ پناہ گاہ تصور کیا جاتا ہے۔ ان قبائلی علاقوں میں طالبان کے مبینہ ٹھکانوں پر امریکہ کے مسلسل میزائل حملوں اور پاکستانی فوج کی طرف سے زمینی کارروائیوں کے باوجود طالبان اور القاعدہ کے مبینہ عناصر کی سرگرمیوں میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ گزشتہ جمعہ کو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی فوج کے دو میزائل حملوں میں کم سے کم بیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ امریکی میزائل حملوں کے دو دن بعد شدت پسندوں نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اتوار کو فرنٹیئر کور کے ہیڈ کواٹر کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جس میں آٹھ اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ جنرل پیٹریئس نے خطے میں امریکی فوجی حمکت عملی پر پہلے ہی نظر ثانی شروع کر دی ہے جس میں وسیع تر علاقائی حل اور طالبان تک رسائی پر غور کیا جا رہا ہے۔ امریکی نائب وزیر خارجہ رچرڈ باؤچر نے جو کہ جنرل پیٹریئس کے ہمراہ پاکستان آئے ہیں گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ جنرل پیٹریئس کے طالبان سے بات چیت کا کوئی امکان نہیں ہے۔ انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان اور پاکستان دونوں ہی کی مفاہمت کی پالیسی ہے اور امریکہ ان دونوں کی مدد کرنے پر آمادہ ہے۔ جنرل پیٹریئس امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ سنبھالنے سے پہلے عراق میں امریکی فوج کے سربراہ تھے۔ انہوں نے عراق میں مزید امریکی فوج تعینات کرنے کے بعد ملک میں سیکیورٹی کی صورت حال بہتر بنانے میں اہم کرداد ادا کیا تھا۔ | اسی بارے میں ’بات چیت بھی، کارروائی بھی‘14 October, 2008 | پاکستان پیٹریئس، سینٹرل کمانڈ کے سربراہ31 October, 2008 | آس پاس جان مکین عراق کے آٹھویں دورے پر17 March, 2008 | آس پاس ’شدت پسندوں کو شریک کریں‘13 October, 2008 | پاکستان ’تصویر کادوسرا رخ ‘11 October, 2008 | پاکستان امریکی آرمی چیف سے خفیہ ملاقات28 August, 2008 | آس پاس ’آئی ایس آئی کے طالبان سے روابط‘ 30 July, 2008 | آس پاس افغانستان: طالبان مزاحمت پرتشویش04 August, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||