امریکی آرمی چیف سے خفیہ ملاقات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی مسلح افواج کے سربراہ نے منگل کے روز بحرہند میں ایک طیارہ بردار جہاز پر پاکستانی فوج کے اعلی کمانڈروں سے خفیہ ملاقات کی ہے جس میں اس بات پر غور کیا گیا کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر بڑھتے ہوئے تشدد سے کس طرح نمٹا جائے۔ اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق یہ اجلاس امریکی فوج کے جوائنٹ چیف آف اسٹاف کے سربراہ مائک مولین نے طلب کیا تھا جس میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی بھی شامل تھے- ادھر اسلام آباد میں پاکستانی فوجی حکام نے ملاقات کی تصدیق کی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں علاقے کی سکیورٹی صورتحال پر غور کیا گیا۔ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے اہلکار میجر مراد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس ملاقات کو پہلے سے طے شدہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملاقات میں فریقن نے علاقے میں سکیورٹی کی صورتحال اور دہشت گردی کے حلاف جنگ پر غور کیا۔ تاہم انہوں نے اس میں ہوئے فیصلوں کے بارے میں کچھ بتانے سے انکار کیا۔ نیو یارک ٹائمز نے پاکستانی کمانڈروں کے مابین ہونے والے اس انتہائي خفیہ اجلاس کو خلاف معمول بات قرار دیا ہے- تاہم میجر مراد کے مطابق یہ معمول کی ملاقات تھی۔
اخبار نے لکھا ہے کہ اگرچہ امریکی حکام اس اجلاس کے متعلق بہت ہی کم بتا رہے ہیں لیکن بحر ہند میں موجود امریکی بحری بیڑے ابراہم لنکن پر ہونیوالے اس اجلاس میں شامل نام خود ہی اس کی اہمیت کو عیاں کر دیتے ہیں- ملاقات میں عراق میں تعینات امریکی فوج کے کمانڈر ڈیوڈ ایچ پیٹرئس ، جو جلد ہی مشرق وسطی میں امریکی فوجوں کی کمان سنبھالنے والے ہیں، ریئر ایڈمرل مائیکل فیور جو کہ پاکستان کے لیے امریکی فوج کے رابطہ افسر ہیں، جنرل ڈیوڈ ڈی میکرنان، جو افغانستان میں نیٹو کی فوج کے کے کمانڈر ہیں، سپیشل آپریشن کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل ایرک ٹی اولسن اور مشرق وسطی میں تعینات امریکی افواج کے قائم مقام سربراہ لیفٹیننٹ جنرل مارٹن ای ڈیمپسی بھی شامل تھے۔ جبکہ جنرل اشفاق پرویز کیانی پاکستانی فوج کے افسران کے ہمراہ شریک ہوئے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق دونوں ممالک کے فوجی اہلکار یہ بتانے سے انکار کر رہے ہیں کہ آیا دونوں ممالک نے قبائلی علاقوں میں امریکی افواج کو زیادہ رسائی دینے کے بارے میں کوئی نیا سمجھوتہ کیا ہے۔ رپورٹ میں ایک امریکی فوجی اہلکار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اجلاس میں بات چیت کا مہور یہ تھا کہ تشدد کو روکنے کے لیے پاکستان مزید کیا کچھ کرسکتا ہے اور امریکہ اس ضمن میں اسکی کیا مدد کرسکتا ہے- | اسی بارے میں باجوڑ آپریشن جاری رہے گا: پاک فوج22 August, 2008 | پاکستان وزیرستان میں طالبان یا غیر ملکی؟05 August, 2008 | پاکستان وانا میں ’میزائل حملہ‘ چھ ہلاک20 August, 2008 | پاکستان طالبان کا پلڑا بھاری ہے: زرداری24 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||