جب زلزلہ آیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اللہ بڑا مہربان ہے جو دیتا ہے تو دے دیتا ہے نہیں دیتا تو نہیں دیتا یہ سب اللہ کی مرضی ہے اور اب بھی اللہ پر یقین ہے کہ وہی سب کچھ کرے گا۔ یہ الفاظ ہیں ایک اسی سالہ عبدالرزاق کے جو بی اینڈ آر محکمے سے جمعدار کے عہدے سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ عبدالرزاق کے خاندان کے سولہ افراد تھے۔ اب وہ زیارت سے تیس کلومیٹر دور کلی وام کے مقام پر اپنے تباہ شدہ مکان کے ملبے پر گاؤں کے دیگر افراد کے ساتھ بیٹھے تھے۔ بلوچستان میں حالیہ زلزلے سے کلی وام کے تمام مکانات تباہ ہو گئے۔ عبدالرزاق نے بتایا کہ ان کے خاندان کے سات افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ایک زلزلہ آیا لیکن وہ زیادہ شدید نہیں تھا اس کے بعد جب دوسرا زلزلہ آیا تو وہ بہت شدید تھا۔ عبدالرزاق نے بتایا کہ زلزلے کے وقت وہ اور ان کے دو جوان بیٹے بچوں کو باہر نکالنے لگے۔ کچھ کو باہر نکالا تھا لیکن جب دوسری مرتبہ بچوں کو باہر نکالنے کے لیے آئے تو ان کے مٹی سے بنے کچے مکان کی چھت گر گئی جس میں ان کے پوتے خواتین اور بھتیجے دب گئے۔
عبدالرزاق کی آنکھیں سرخ تھی اور باتیں کرتے وقت ان کا جسم کانپ رہا تھا لیکن وہ پر اعتماد تھے کہیں ان کی باتوں میں لغزش نہیں تھی۔ اس گاؤں میں دیگر مکانات کی تباہی کے بارے میں انھوں نے بتایا کہ ہر گھر میں چار یا پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں لیکن ایک گھر ایسا ہے جس میں کم سے کم سولہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ مقبول احمد ایک نوجوان ہیں جو کوئٹہ میں کام کرتے ہیں لیکن ان کا خاندان اسی گاؤں کلی وام میں رہائش پذیر ہے۔ مقبول احمد کواس گاؤں کے ہسپتال میں اپنے خاندان کی لاشوں کے ساتھ کھڑا تھا۔ مقبول احمد نے بتایا کہ وہ مشترکہ خاندان کے طور پر رہائش پذیر تھے یعنی چچا ماموں اور دیگر افراد اکھٹے ایک ہی مکان میں رہتے ہیں اور کل تعداد تیس ہے جن میں سے بیس ہلاک ہو گئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اب ان کا کچھ نہیں رہا، ان کے اپنے دو سگے بھائی اور دو بہنیں ہلاک ہو گئے ہیں۔وہ خود کوئٹہ میں تھے جہاں انھیں زلزلے کی اطلاع ملی اور جب وہ گاؤں پہنچے تو ان کے خاندان کی لاشیں پڑی ہوئی تھیں۔ |
اسی بارے میں پاکستان کے کچھ علاقوں میں زلزلہ26 October, 2008 | پاکستان زلزلہ متاثرین:کیا پھر سرما بغیر گھر کے08 October, 2008 | پاکستان پاکستان کے مختلف علاقوں میں زلزلہ06 September, 2008 | پاکستان بلوچستان کے کچھ علاقوں میں زلزلہ05 May, 2008 | پاکستان افغانستان، پاکستان، انڈیا میں زلزلہ03 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||