BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 30 October, 2008, 05:45 GMT 10:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جب زلزلہ آیا

عبدالرزاق
اللہ بڑا مہربان ہے جو دیتا ہے تو دے دیتا ہے نہیں دیتا تو نہیں دیتا یہ سب اللہ کی مرضی ہے اور اب بھی اللہ پر یقین ہے کہ وہی سب کچھ کرے گا۔ یہ الفاظ ہیں ایک اسی سالہ عبدالرزاق کے جو بی اینڈ آر محکمے سے جمعدار کے عہدے سے ریٹائر ہوئے ہیں۔

عبدالرزاق کے خاندان کے سولہ افراد تھے۔ اب وہ زیارت سے تیس کلومیٹر دور کلی وام کے مقام پر اپنے تباہ شدہ مکان کے ملبے پر گاؤں کے دیگر افراد کے ساتھ بیٹھے تھے۔ بلوچستان میں حالیہ زلزلے سے کلی وام کے تمام مکانات تباہ ہو گئے۔

عبدالرزاق نے بتایا کہ ان کے خاندان کے سات افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ایک زلزلہ آیا لیکن وہ زیادہ شدید نہیں تھا اس کے بعد جب دوسرا زلزلہ آیا تو وہ بہت شدید تھا۔

عبدالرزاق نے بتایا کہ زلزلے کے وقت وہ اور ان کے دو جوان بیٹے بچوں کو باہر نکالنے لگے۔ کچھ کو باہر نکالا تھا لیکن جب دوسری مرتبہ بچوں کو باہر نکالنے کے لیے آئے تو ان کے مٹی سے بنے کچے مکان کی چھت گر گئی جس میں ان کے پوتے خواتین اور بھتیجے دب گئے۔

مقبول احمد
عبدالرزاق کے مطابق انہوں نے یہ کچا مکان بہت مشکل سے بنایا تھا لیکن اب ان میں اتنی سکت نہیں ہے کہ وہ یہ مکان دوبارہ تعمیر سکیں۔ انھیں اپنے اللہ پر یقین ہے جو کچھ بھی کرے گا وہی کرے گا انسان سے انھیں کوئی امید نہیں ہے۔

عبدالرزاق کی آنکھیں سرخ تھی اور باتیں کرتے وقت ان کا جسم کانپ رہا تھا لیکن وہ پر اعتماد تھے کہیں ان کی باتوں میں لغزش نہیں تھی۔

اس گاؤں میں دیگر مکانات کی تباہی کے بارے میں انھوں نے بتایا کہ ہر گھر میں چار یا پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں لیکن ایک گھر ایسا ہے جس میں کم سے کم سولہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

مقبول احمد ایک نوجوان ہیں جو کوئٹہ میں کام کرتے ہیں لیکن ان کا خاندان اسی گاؤں کلی وام میں رہائش پذیر ہے۔ مقبول احمد کواس گاؤں کے ہسپتال میں اپنے خاندان کی لاشوں کے ساتھ کھڑا تھا۔ مقبول احمد نے بتایا کہ وہ مشترکہ خاندان کے طور پر رہائش پذیر تھے یعنی چچا ماموں اور دیگر افراد اکھٹے ایک ہی مکان میں رہتے ہیں اور کل تعداد تیس ہے جن میں سے بیس ہلاک ہو گئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اب ان کا کچھ نہیں رہا، ان کے اپنے دو سگے بھائی اور دو بہنیں ہلاک ہو گئے ہیں۔وہ خود کوئٹہ میں تھے جہاں انھیں زلزلے کی اطلاع ملی اور جب وہ گاؤں پہنچے تو ان کے خاندان کی لاشیں پڑی ہوئی تھیں۔

پاکستان: فالٹ لائن
کراچی، پشاور، ایبٹ آباد، کوئٹہ، فالٹ لائن پر
بلوچستان
زلزلے کا آنکھوں دیکھا حال
زلزلے کے متاثرینبلوچستان زلزلہ
شدید سردی میں لوگ گھروں سے باہر نکل آئے
متاثرین کا احتجاجبحالی کب تک
کام یقیناً مشکل ہے پر متاثرین کو بتانا ہوگا
مشکلات کا سلسلہ
کشمیر زلزلے کے تین سال بعد تعمیر نو کا انتظار
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد