BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 29 October, 2008, 10:58 GMT 15:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان فالٹ لائنز پر بیٹھا ہے

 زلزلہ متاثرین
کراچی، پشاور، ایبٹ آباد، کوئٹہ، گلگت اور چترال فالٹ لائن پر بیٹھے ہیں: ماہرین
پاکستان کا دو تہائی رقبہ زلزلے کا سبب بننے والی فالٹ لائنز پر ہے جہاں کسی بھی وقت زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ جبکہ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ فالٹ لائنز کو نظر انداز کرتے ہوئے شہروں میں تعمیرات کرنے کی وجہ سے بڑا جانی اور مالی نقصان ہو سکتا ہے۔

بدھ کے روز محکمہ موسمیات کے سیسمک نیٹ ورک کے ڈائریکٹر زاہد رفعی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کے مختلف علاقوں کے نیچے سے گزرنے والی متحرک فالٹ لائنز کو دیکھتے ہوئے ملک کو زلزلے کے اعتبار سے انیس زونز میں تقسیم کیا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ انیس میں سے سات ایسے زون ہیں جہاں کسی بھی وقت زلزلے کے شدید جھٹکے آ سکتے ہیں۔ سب سے زیادہ خطرناک زون میں شمالی علاقے، مکران، کوئٹہ ریجن اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے اکثر علاقے شامل ہیں۔ان زونز میں آنے والے بڑے شہروں میں کراچی، پشاور، ایبٹ آباد، کوئٹہ گلگت اور چترال شامل ہیں۔

اس کے علاوہ کم خطرناک زون میں اسلام آباد اور سالٹ رینج کے علاقے آتے ہیں۔

زاہد رفعی نے بتایا کہ پاکستان میں صرف بالائی سندھ اور وسطی پنجاب کے علاقے زلزے کے خطرے سے محفوظ ہیں اور اس کے علاوہ تقریباً سارے ملک کے نیچے سے زلزے کا باعث بننے والی فالٹ لائنز گزرتی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ پاکستان چونکہ کوہ ہندو کش کے پہاڑی سلسلے کے قریب ہے جہاں ہر وقت زلزلے کے جھٹکے آتے ہیں اس لیے کم یا درمیانی شدت کا زلزلہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد ملک کے شمال مغربی علاقوں میں کسی وقت بھی آ سکتا ہے۔

زاہد رفعی کے مطابق پاکستان کے دو تہائی رقبے کے نیچے سے گزرنے والی تمام فالٹ لائنز متحرک ہیں جہاں کم یا درمیانی درجہ کا زلزلہ وقفے وقفے سے آتا رہتا ہے لیکن شدید زلزلہ کبھی کبھار ہی آتا ہے۔

اس سوال کے جواب میں زاہد رفعی نے بتایا کہ پاکستان جس خطے میں ہے وہاں چند سال کے بعد شدید زلزلہ لازمی آتا ہے جس میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوتی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ پاکستان کے بڑے شہر خاص طور پر کراچی متحرک فالٹ لائن کے بہت قریب ہے لیکن کراچی سمیت دیگر بڑے شہروں میں بلند و بالا عمارتیں زلزے سے محفوظ نہیں ہیں ۔ اور نہ ہی تعمیر کرتے وقت زلزلے کے خدشہ کو مد نظر رکھا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ آج ایک بڑا زلزلہ آیا ہے تو پھر نہیں آئے گا بلکہ یہاں کسی بھی وقت شدید زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے جانے کا امکان رہتا ہے۔

اسی بارے میں
’مزید جھٹکے آسکتے ہیں‘
08 October, 2005 | پاکستان
زلزلہ: خدا کا قہر یا آزمائش؟
05 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد