نئے مکان فالٹ لائن سے دور: حکومت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں زلزلہ سے بحالی اور تعمیر نو کے بارے میں ادارے کے سربراہ الطاف سلیم نے کہا ہے کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ تعمیر نو کے دوران ’فالٹ لائن‘ یا اس کے آس پاس مکان نہیں بنائے جائیں گے۔ انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ حال ہی میں کیے گئے ’سیسمک سروے‘ کے بعد جہاں ’فالٹ لائن‘ کی نشاندہی ہوئی ہے اس سے ڈھائی سو میٹر دور لوگوں کو مکان بنانے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق مظفرآباد شہر اپنی جگہ ہی بنےگا لیکن جہاں سے ’فالٹ لائن‘ گزر رہی ہوگی وہاں تعمیرات سےگریز کیا جائےگا۔ انہوں نے کہا کہ بالا کوٹ میں فالٹ لائنیں آڑی اور ترچھی ہیں اس لیے ڈھائی سو میٹر کا فاصلہ چھوڑنے کی وجہ سے اس علاقے میں جہاں پہلے مکان تھے وہاں اب شاید کم مکان بن پائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال کے بعد بالا کوٹ کے علاقے میں اب مکان تھوڑے تھوڑے فاصلے پر تعمیر ہوں گے۔ الطاف سلیم نے مزید بتایا کہ تعمیر نو کے دوران مکان بنانے کے لیے پچھتر ہزار روپے کی قسط ادا کرنے کے لیے متاثرین کا اندراج تیزی سے جاری ہے اور انہیں امید ہے کہ تمام متاثرین کو آٹھ ہفتوں میں رقوم تقسیم کرنے کام مکمل ہوجائےگا۔ انہوں نے کہا کہ جزوی طور پر جس کا مکان تباہ ہوا ہے انہیں پچاس ہزار جبکہ کلی طور پر تباہ ہونے والے کے لیے ڈیڑھ لاکھ روپے معاوضہ مقرر کیا گیا ہے۔ الطاف سلیم نے بتایا کہ پہلے ہر یونین کونسل میں مکانات کا سروے کرنے اور متاثرین کا اندارج کرنے کے لیے دو ٹیمیں تشکیل دی گئیں تھیں لیکن اب یہ تعداد تین کردی گئی ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ ناروے، ترکی اور چین کے علاوہ نیسپاک کی جانب سے کیے گئے ’سیسمک سروے‘ کے متعلق رپورٹیں صوبہ سرحد اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی حکومتوں کو بھجوادی ہیں۔ ان کے مطابق مقامی حکومتوں سے کہا گیا ہے کہ وہ سروے کو مدنظر رکھتے ہوئے لوگوں کو مکان بنانے کی ترغیب دیں۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف کیمپوں سے رضاکارانہ طور پر متاثرین کا اپنے اپنے علاقوں میں واپسی کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے اور روزانہ بارہ سے پندرہ سو افراد واپس جارہے ہیں۔ ان کے اندازے کے مطابق اپریل کے آخر تک بیشتر متاثرین اپنے علاقوں میں پہنچ جائیں گے۔ الطاف سلیم نے بتایا کہ چھ لاکھ کے قریب مکانوں کو نقصان پہنچا ہے اور اب اس بات کا تعین ہوگا کہ ان میں کلی طور کتنے تباہ ہوئے اور جزوی طور پر ان کی تعداد کیا ہے۔ | اسی بارے میں زلزلہ کے بعد تعمیر نو کی صورتحال31 December, 2005 | پاکستان ’تعمیر نو: چار سال، 180 ارب روپے‘ 02 January, 2006 | پاکستان متاثرہ علاقوں کے لیے ’ایکشن پلان‘20 March, 2006 | پاکستان مظفرآباد، 63 فیصد علاقہ خطرناک22 March, 2006 | پاکستان ’امدادی کیمپ بند نہیں کیئے جا رہے‘10 March, 2006 | پاکستان زلزلہ متاثرین کی واپسی شروع 09 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||