BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 30 October, 2008, 10:19 GMT 15:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غیر ملکی امداد بھی قبول: شیری

غیر ملکی امداد کے بارے میں سیاست نہیں کرنی چاہیے: شیری رحمان
پاکستان کی وزیرِ اطلاعات شیری رحمان نے کہا ہے کہ بلوچستان میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد امدادی کاروائیوں کے سلسلے میں جتنی بھی غیر ملکی امداد ملے گی اُس کا خیر مقدم کیا جائے گا۔

جمعرات کو سینیٹ کے اجلاس کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غیر ملکی امداد کے بارے میں سیاست نہیں کرنی چاہیے۔


انہوں نے کہا کہ ابھی فرانس اور جرمنی نے امداد کی پیشکش کی ہے اور اگر بھارت کی طرف سے بھی امداد کی پیشکش ہوئی تو اُس کا بھی خیر مقدم کیا جائے گا۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ ریڈ کریسنٹ کےاہلکار زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریڈ کریسنٹ نے 1800کمبل اور 300 خیمے دیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبہ بلوچستان میں زلزلے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 142 ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 250 سے زائد ہے جبکہ غیر سرکاری اطلاعات کے مطابق اس زلزلے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو سو کے قریب ہے۔

شیری رحمان نے کہا کہ حکومت زلزلے سے متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس زلزلے سے ہونے والے نقصان کا اندازہ لگانے میں کچھ وقت درکار ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ تمام وزارتوں کو ریڈ الرٹ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے چھ ہزار کمبل اور 4300 ٹینٹ بھی بھیجے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تین ہزار افراد بے گھر ہوئے ہیں جبکہ 305 گھر تباہ ہوئے ہیں۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ امدادی کارروائیوں میں 10 ہیلی کاپٹرز مصروف ہیں اور اُن کے ذریعے ادویات، کھانے پینے کی اشیاء اور دیگر اشیاء پہنچائی جا رہی ہیں۔

شیری رحمان نے کہا کہ بلوچستان حکومت نے وفاقی حکومت سے کہا ہے کہ اُن کی ہدایت کی روشنی میں امداد بھجوائی جائے۔

پاکستان: فالٹ لائن
کراچی، پشاور، ایبٹ آباد، کوئٹہ، فالٹ لائن پر
بلوچستان
زلزلے کا آنکھوں دیکھا حال
زلزلے کے متاثرینبلوچستان زلزلہ
شدید سردی میں لوگ گھروں سے باہر نکل آئے
متاثرین کا احتجاجبحالی کب تک
کام یقیناً مشکل ہے پر متاثرین کو بتانا ہوگا
مشکلات کا سلسلہ
کشمیر زلزلے کے تین سال بعد تعمیر نو کا انتظار
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد