زلزلہ متاثرین کے لیے امدادی سامان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے بنائے گئے ادارے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں بدھ کی صبح آنے والے زلزلے سے متاثر ہونے والے دو اضلاع کے تقریباً تمام متاثرہ علاقے تک امدادی کارکن پہنچ چکے ہیں اور بے گھر ہونے والے تین ہزار افراد کے لیے رات گزارنے کا بندوبست کیا جا چکا ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فاروق احمد خان نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا اس زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ضلع زیارت اونچے پہاڑوں میں گھری ہوئی وادی ہے جس کے مختلف مقامات پر رسائی خاصا مشکل کام ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مشکل صورتحال کے باعث متاثرین کی مدد کے لیے بیشتر سامان پاک فوج کے بارہ ہیلی کاپٹرز کے ذریعے ان علاقوں تک پہنچایا جا رہا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ تباہ ہونے والے مکان چونکہ زیادہ تر مٹی سے بنے ہوئے تھے اور ان میں بڑی عمارتیں شامل نہیں تھی اس لیے زخمیوں اور لاشوں کی تلاش کے کام میں زیادہ مشکل نہیں ہو رہی۔ جنرل (ر) فاروق نے بتایا کہ اس زلزلے سے صوبے کے دو اضلاع میں دس گاؤں متاثر ہوئے ہیں جن میں موجود دو ہزار گھر مکمل طور پر تباہ ہونے سے ایک سو پندرہ افراد ہلاک اور تین ہزار کے قریب بے گھر ہوئے ہیں۔
جنرل (ر) فاروق نے بتایا یہ مقامی نوعیت کا زلزلہ تھا جس سے نمٹنے کے لیے ملک میں صلاحیت موجود ہے لہذا مدد کے لیے انٹرنیشل اپیل جاری کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ اس کے باوجود اگر کوئی ملک پاکستان کی مدد کرنا چاہتا ہے تو اسے خوش آمدید کہا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ زلزلہ زدہ اضلاع میں فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے کل ملا کر چار سو جوان حصہ لے رہے ہیں۔ ایک سی ون تھرٹی فوجی جہاز کے ذریعے دس ہزار ٹینٹ اور کمبل وغیرہ زیارت پہنچائے جا چکے ہیں جہاں پاک فوج کے جوان خیمہ بستی آباد کرنے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس زلزلے سے متاثر ہونے والے تمام تین ہزار افراد اس خیمہ بستی میں رات گزاریں گے جہاں ان کے کھانے پینے کا بندوبست بھی کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو مزید فوجی جہاز اور ایک فیلڈ ہسپتال تیار حالت میں موجود ہے جسے زیارت بھجوانے کا فیصلہ ابھی تک نہیں کیا گیا۔ قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے سربراہ نے کہا کہ اس بات کا بہت کم امکان ہے کہ کوئی ایسا علاقہ جہاں زلزلے سے تباہی ہوئی ہو، وہ انتظامیہ کی نظروں میں آنے سے رہ گیا ہو۔ تاہم فاروق احمد خان نے کہا کہ مرنے والوں کی تعداد میں معمولی اضافہ ہو سکتا ہے۔ |
اسی بارے میں پاکستان کے کچھ علاقوں میں زلزلہ26 October, 2008 | پاکستان زلزلہ متاثرین:کیا پھر سرما بغیر گھر کے08 October, 2008 | پاکستان پاکستان کے مختلف علاقوں میں زلزلہ06 September, 2008 | پاکستان بلوچستان کے کچھ علاقوں میں زلزلہ05 May, 2008 | پاکستان افغانستان، پاکستان، انڈیا میں زلزلہ03 April, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||