BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 29 October, 2008, 13:39 GMT 18:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زلزلہ متاثرین کے لیے امدادی سامان

کوئٹہ
نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فاروق احمد خان
پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے بنائے گئے ادارے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں بدھ کی صبح آنے والے زلزلے سے متاثر ہونے والے دو اضلاع کے تقریباً تمام متاثرہ علاقے تک امدادی کارکن پہنچ چکے ہیں اور بے گھر ہونے والے تین ہزار افراد کے لیے رات گزارنے کا بندوبست کیا جا چکا ہے۔


نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فاروق احمد خان نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا اس زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ضلع زیارت اونچے پہاڑوں میں گھری ہوئی وادی ہے جس کے مختلف مقامات پر رسائی خاصا مشکل کام ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مشکل صورتحال کے باعث متاثرین کی مدد کے لیے بیشتر سامان پاک فوج کے بارہ ہیلی کاپٹرز کے ذریعے ان علاقوں تک پہنچایا جا رہا ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ تباہ ہونے والے مکان چونکہ زیادہ تر مٹی سے بنے ہوئے تھے اور ان میں بڑی عمارتیں شامل نہیں تھی اس لیے زخمیوں اور لاشوں کی تلاش کے کام میں زیادہ مشکل نہیں ہو رہی۔

جنرل (ر) فاروق نے بتایا کہ اس زلزلے سے صوبے کے دو اضلاع میں دس گاؤں متاثر ہوئے ہیں جن میں موجود دو ہزار گھر مکمل طور پر تباہ ہونے سے ایک سو پندرہ افراد ہلاک اور تین ہزار کے قریب بے گھر ہوئے ہیں۔

انٹرنیشل اپیل کا ارادہ نہیں
 یہ مقامی نوعیت کا زلزلہ تھا جس سے نمٹنے کے لیے ملک میں صلاحیت موجود ہے لہذا مدد کے لیے انٹرنیشل اپیل جاری کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے
فاروق احمد خان

جنرل (ر) فاروق نے بتایا یہ مقامی نوعیت کا زلزلہ تھا جس سے نمٹنے کے لیے ملک میں صلاحیت موجود ہے لہذا مدد کے لیے انٹرنیشل اپیل جاری کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ اس کے باوجود اگر کوئی ملک پاکستان کی مدد کرنا چاہتا ہے تو اسے خوش آمدید کہا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ زلزلہ زدہ اضلاع میں فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے کل ملا کر چار سو جوان حصہ لے رہے ہیں۔ ایک سی ون تھرٹی فوجی جہاز کے ذریعے دس ہزار ٹینٹ اور کمبل وغیرہ زیارت پہنچائے جا چکے ہیں جہاں پاک فوج کے جوان خیمہ بستی آباد کرنے میں مصروف ہیں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس زلزلے سے متاثر ہونے والے تمام تین ہزار افراد اس خیمہ بستی میں رات گزاریں گے جہاں ان کے کھانے پینے کا بندوبست بھی کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دو مزید فوجی جہاز اور ایک فیلڈ ہسپتال تیار حالت میں موجود ہے جسے زیارت بھجوانے کا فیصلہ ابھی تک نہیں کیا گیا۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے سربراہ نے کہا کہ اس بات کا بہت کم امکان ہے کہ کوئی ایسا علاقہ جہاں زلزلے سے تباہی ہوئی ہو، وہ انتظامیہ کی نظروں میں آنے سے رہ گیا ہو۔ تاہم فاروق احمد خان نے کہا کہ مرنے والوں کی تعداد میں معمولی اضافہ ہو سکتا ہے۔

پاکستان: فالٹ لائن
کراچی، پشاور، ایبٹ آباد، کوئٹہ، فالٹ لائن پر
بلوچستان
زلزلے کا آنکھوں دیکھا حال
زلزلے کے متاثرینبلوچستان زلزلہ
شدید سردی میں لوگ گھروں سے باہر نکل آئے
متاثرین کا احتجاجبحالی کب تک
کام یقیناً مشکل ہے پر متاثرین کو بتانا ہوگا
مشکلات کا سلسلہ
کشمیر زلزلے کے تین سال بعد تعمیر نو کا انتظار
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد