’فوری کیش کے لیے مشاورت جاری‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ پاکستان نے تاحال انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ یا آئی ایم ایف سے قرض کے حصول کے لیے باضابطہ درخواست نہیں دی ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف سمیت دیگر غیرملکی مالیاتی ایجنسیوں کے ساتھ پاکستان کے اقتصادی مسائل کے فوری حل کے لیے مشاورت جاری ہے۔ اسلام آْباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شوکت ترین نے کہا کہ اگر حکومت پاکستان کو دوست ممالک اور دیگر نسبتاً آسان قرض دینے والے اداروں سے اگلے تیس دن کے اندر رقم نہ ملی تو پھر آئی ایم ایف کے بورڈ سے رابطہ کیا جائے گا۔ انکا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف حکام کے ساتھ دبئی میں باب چہارم کے تحت ہونے والے مذاکرات کا مقصد قبل از وقت تیاری ہے تاکہ عین وقت پر جب رقم کی فوری ضرورت ہو تو اس میں وقت ضائع نہ ہو۔ انہوں نے بتایا کہ وزارت خزانہ کے سیکرٹری جمعرات (آج) سے ان مذاکرات میں شمولیت کے لیے دبئی روانہ ہو رہے ہیں۔ واشنگٹن سے جاری ہونے والے آئی ایم ایف کے ایک بیان کے بارے میں جس میں یہ عندیہ دیا گیا تھا کہ پاکستان نے قرض کے حصول کی باقاعدہ درخواست دے دی ہے، شوکت ترین نے کہا ’ہم نے ان سے کہا ہے کہ آپ اپنا ہوم ورک مکمل رکھیں اور اسی کی تیاری کے لیے وہ ہم سے کچھ معلومات لے رہے ہیں لیکن ہم نے آئی ایم ایف سے قرض لینا بھی ہے یا نہیں، اسکا فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا۔‘ شوکت ترین نے کہا کہ آئی ایم ایف پاکستان کی تیسری ترجیح ہے۔ پہلی ترجیح عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور اسلامی ترقیاتی بینک سمیت بعض دیگر ادارے ہیں جو بہت آسان شرائط پر ہمیں قرص دینے کے لیے تیار ہیں۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کے نمائندوں کے ساتھ اس پریس کانفرنس سے کچھ دیر قبل ہونے والی ملاقات کے حوالے سے شوکت ترین نے کہا کہ ان اداروں کے ساتھ حوصلہ افزا بات چیت چل رہی ہے۔ دوسری ترجیح، شوکت ترین کے مطابق دوست ممالک ہیں جن میں چین، سعودی عرب اور فرینڈز آف پاکستان گروپ میں شامل دیگر ممالک ہیں۔ تاہم شوکت ترین نے اعتراف کیا کہ ان ممالک کے ساتھ بات چیت اتنی نتیجہ خیز نہیں رہی۔ ’ہمارا مسئلہ فوری کیش ہے اور یہ حکومتیں اپنے فیصلے کرنے میں وقت لگاتی ہیں۔ ہم شائد اتنا انتظار نہ کر سکیں۔‘ دوسرا مسئلہ شوکت ترین کے مطابق جو پاکستان کو آئی ایم ایف سے رجوع کرنے پر مجبور کر سکتا ہے وہ ملنے والی رقم کی مقدار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پلان اے اور بی سے پاکستان کو چار ارب ڈالر تک ملنے کی توقع ہے جبکہ آئی ایم ایف سے ملنے والی رقم اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے فوری اقتصادی مسائل کے حل کے لیے چار ارب ڈالر کافی ہوں گے لیکن انکی خواہش ہے کہ جتنی زیادہ رقم مل سکے پاکستان معیشت کو مستقبل کے معاشی خطرات سے اتنا ہی زیادہ محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔
اس موقع پر شوکت ترین نے پاکستانی سٹاک مارکیٹ کو استحکام دینے کے لیے بعض تکنیکی فیصلوں کا اعلان کیا جس میں مارکیٹ سے پیسے نہ نکالنے والے سرمایہ کاروں کو پرکشش مراعات کا پیکج شامل ہے۔ شوکت ترین نے کہا کہ اس سال اگست میں سٹاک مارکیٹ کو نچلی سطح پر منجمد کرنے کا فیصلہ درست نہیں تھا اور وہ بہت جلد اس ’لاک‘ کو ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس ’لاک‘ کے ہٹتے ہی غیر ملکی سرمایہ کار اپنی رقم مارکیٹ سے نکال لیں گے جس سے ایک بڑے بحران کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ان سرمایہ کاروں کو ایسا نہ کرنے پر راغب کرنے کے لیے متعدد مراعات دے رہی ہے۔ | اسی بارے میں دورہِ چین: زیادہ امیدیں نہیں 15 October, 2008 | پاکستان کیش ریزرو 6 فیصد کردی گئی17 October, 2008 | پاکستان ’ملک کا بینکاری نظام محفوظ‘22 October, 2008 | پاکستان پاکستان کے مالی مسائل کتنے گھمبیر؟18 October, 2008 | پاکستان پاکستانی روپے کی قدر میں مزید کمی07 October, 2008 | پاکستان کے ایس ای: حکومتی یقین دہانی15 October, 2008 | پاکستان زرِمبادلہ کے ذخائر میں مزید کمی25 September, 2008 | پاکستان پاکستانی معیشت مستحکم سے منفی23 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||